وزیر خزانہ بلوچستان نے 49 ارب 90 کروڑ سے زائدکا ضمنی بجٹ پیش کردیا

19 جون 2017

کوئٹہ (بیورو رپورٹ) صوبائی وزیر خزانہ سردار اسلم بزنجو نے 49ارب90کروڑ43لاکھ روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ پیش کردیا جس کی ایوان نے متفقہ طور پر منظوری دی۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اتوار کے روز آدھے گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی زیر صدارت میںشروع ہوا۔اجلاس میں وزیر خزانہ نے کل19مطالبات زر پر مشتمل الگ الگ تحاریک پیش کیں جن میں ترقیاتی اخراجات کے لئے 35 ارب 64 کروڑ 40لاکھ روپے سے زائد کی سات مطالبات زر کی تحاریک بھی شامل تھیں جبکہ 14 ارب 26کروڑسے زائد کی بارہ مطالبات زر شامل تھیں۔انہوں نے الگ الگ مطالبات زر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک رقم جو ایک کروڑ94لاکھ26ہزار4سو روپے سے متجاوز نہ ہوان اخراجات کی کفالت کے لئے عطاءکی جائے جو مالی سال کے اختتام 30جون 2017ءکے دوران بسلسلہ مد سٹامپس برداشت کرنے پڑیں گے‘5ارب22کروڑ 22لاکھ59ہزار 2 سو 90روپے ان اخراجات کے لئے عطاءکی جائے جو بسلسلہ مد پنشن برداشت کرنے پڑیں گے 2کروڑ99لاکھ72ہزار9سو5روپے بسلسلہ مد عدالتی نظم و نسق (چارجڈ)، 56 کروڑ 75 لاکھ 74ہزار ایک سو98روپے بسلسلہ مد پولیس ،ایک ارب43کروڑ98لاکھ 83 ہزار 3 سو 78 روپے آبنوشی،71کروڑ40لاکھ روپے ورکس اربن بی واسا، 2 ارب 75 کروڑ 11 لاکھ 19 ہزارروپے ثانوی تعلیم ،47کروڑ31لاکھ72ہزار85روپے کھیلوں کے انتظام و تفریحی سہولیات، ایک کروڑ57لاکھ93ہزار2سو80روپے ثقافتی خدمات، 38 کروڑ 66 لاکھ 38 ہزار 5 سو62روپے آبپاشی ،29کروڑ37لاکھ95ہزار3سو90روپے قرضہ جاتی خدمات و دیگر ذمہ داریوں کی مد میں، 2ارب 34کروڑ 67لاکھ 53ہزار8سو10روپے ریاستی تجارت ،ترقیاتی اخراجات کے لئے ایک ارب67کروڑ44لاکھ32ہزار روپے امن عامہ و حفاظتی امور، 13 ارب 56 کروڑ32 لاکھ52 ہزار85روپے اقتصادی امور، 8 ارب 34 کروڑ 9 لاکھ 90 ہزار 5 سو 56 روپے رہائشی و کمیونٹی اخراجات کی مد میں ،30لاکھ روپے ماحولیاتی تحفظ ،5 ارب 79 کروڑ 72لاکھ 42ہزارایک سو87روپے صحت ،25کروڑ 42لاکھ 89 ہزار 4سو 73 روپے تفریحی ثقافت و مذہب اور6ارب ایک کروڑ8لاکھ27ہزارایک سو59روپے تعلیمی امور کی مد میں عطاءکی جائے۔ ایوان نے تمام مطالبات زر کی منظوری دے دی۔اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے اگلے مالی سال کے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں اور ہمیں عوام نے منتخب کرکے اس ایوان میں بھیجا ہے اس لئے کہ ہم ان کے حقوق کی بات کریں اور مسائل حل کرائیں۔ مسلم لیگ ق کے رکن صوبائی اسمبلی میر عبدالکریم نوشیروانی نے بجٹ کو عوام دوست اور تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں آج تک ایسا بجٹ پیش نہیں ہوا جس پر ہم وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ خان زہری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور اسیررہنما میر خالدلانگو نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں وزیر پی اینڈ ڈی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اپنے علاقوں کا حق ادا کیا ہے۔ وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ جمہوریت کا حسن اختلاف رائے اور برداشت ہے ہم بہت بڑی قربانیاں دے کر اس ایوان میں آئے ہیں مگر لیاقت آغا نے جو الفاظ استعمال کئے وہ نیشنل پارٹی کے لئے ناقابل برداشت ہے ہم اس وقت تک ایوان میں نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ ان الفاظ کا ازالہ نہیں کرتے ہم اس رویئے کے خلاف احتجاجا واک آﺅٹ کرتے ہیں جس پر نیشنل پارٹی کے اراکین نے ان کے ہمراہ ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔اتحادی جماعتوں کا ایکدوسرے کیخلاف شدید احتجاج، نعرے بازی، ایوان مچھلی منڈی بن گیا، تلخ جملوں کا تبادلہ ہوابعدازاں سپیکر کی ہدایت پر وزیر داخلہ میر سرفرازبگٹی ، سردار عبدالرحمان کھیتران ،میر عاصم کرد گیلو اور منظور کاکڑ نے جا کر انہیں منایا اور ایوان میں واپس لے آئے جس کے بعد پشتونخوا میپ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے فلور پر کھڑے ہو کرکہا کہ دو دن پہلے قائد ایوان کی موجودگی میں تمام معاملات اور فیصلے ہوگئے تھے اور نیشنل پارٹی کی جانب سے سردار اسلم بزنجو بھی معاملات طے کرنے کے لئے ہمارے ساتھ موجود تھے اسی لئے اجلاس ہوا کہ جن جن کے تحفظات ہیں ان کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریںگے مگر افسوس کہ بار بار چیزوں کو اچھالا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ خان زہری نے ایوان میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی اپنی روایات ہیں یہاں کی بلوچ پشتون روایات کا تمام اراکین خیال رکھیں ہمیں اس ایوان میں عوام نے منتخب کرکے بھیجا ہے ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جس سے کسی کی دل آزاری ہو عوامی نمائندوں کا حق ہے کہ وہ اس ایوان میں بات کریں اپوزیشن لیڈر نے جب تقریر ختم کی تو خود میں نے ڈیسک بجا کر انہیں داد دی۔ صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون و بلوچ ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں تھے لیکن موجودہ حکومت میں چار سال کے دوران پشتون و بلوچ کو اکھٹا کیا اور امید ہے کہ آئندہ بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ مولوی معاذ اللہ نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں اپوزیشن کو ترجیح نہیں دی گئی ضلع موسیٰ خیل پسماندہ ترین علاقہ ہے اس کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میر عبدالماجد ابڑونے کہا کہ ہمارا علاقہ بھی بلوچستان میں ہے پچھلے سال جو سکیمات مکمل نہیں ہوئیں وزیراعلیٰ بلوچستان پی اینڈ ڈی کو پابند کریں کہ وہ ان سکیمات کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔شاہدہ رﺅف نے کہا کہ پری بجٹ سیشن اسمبلی کا ہونا چائے بدقسمتی سے نہیں ہوسکا۔ بجٹ جس طرح سے پیش ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے باتیں ہم بڑی بڑ ی کرتے ہیں لیکن ہمیں اپنی پالیسیوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان /بجٹ اجلاس