بھارت کیساتھ سابقہ حساب اوول میں بے باق کر دیا گیا ”پاکستان چیمپئن: ملک بھر میں جشن“ لوگ سڑکوں پر نکل آئے، والہانہ رقص، مٹھائیاں تقسیم

19 جون 2017

راولپنڈی/ اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + وقائع نگار) چےمپئنز ٹرافی مےں قومی کرکٹ ٹےم کی جانب سے لندن کے اوول گراﺅنڈ مےں بھارت کو پچھاڑنے کے بعد راولپنڈی کی سڑکوں ، بازاروں اور مارکےٹں مےں شہری امڈ آئے نوجوان موٹر سائےکلوں پر قومی جھنڈے اٹھائے جبکہ گاڑےوں مےں اونچی آواز مےں ملی نغمے لگائے خوشی سے رقص کرتے رہے بےکرےوں مےں شہری کےک اور مٹھائی دکانوں پر خرےداروں کے اچانک رش نے بھی کاروبار چمکا دئے دل دل پاکستان کے ملی نغمے پر مری روڈ ، نواز شرےف پارک ، جناح پارک ، بےنک روڈ ، فوارہ چوک مےں نوجوانوں کی ٹولےاں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے مےں مگن رہےں بھارت کی کرکٹ ٹےم کا غرور خاک مےں ملانے پر شہری اےک دوسرے کو مبارکبادےں بھی پےش کرتے رہے جبکہ سوےٹ ہوم کے سرپرست اعلیٰ زمرد خان نے کہا کہ آج سوےٹ ہوم کے ننھے بچوں نے پاکستان کی کرکٹ ٹےم کےلئے خصوصی دعائےں کےں۔ ادھر گھروں مےں خواتےن ، بچے اور معمر افراد بھی پاکستان کی اس تارےخی فتح پر اےک دوسرے کو مبارکبادےں دےتے رہے۔ پاکستانی ٹیم کی کامیابی پر راولپنڈی اسلام آباد میں جشن کا سماں تھا۔ میچ ختم ہوتے ہی شہریوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے قومی ٹیم کی بھارت کو زبردست شکست کا جشن منایا۔ نوجوان گاڑیوں پر قومی پرچم اٹھائے ریلیوں کی شکل میں اہم شاہراہوں پر نکل آئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔

لندن (چودھری اشرف+ نامہ نگاران) پاکستانی شاہینوں نے بھارتی غرور خاک میں ملا کر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے آٹھویں ایڈیشن کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے کھیل کے تینوں شعبوں میں شاندر کھیل پیش کیا گیا۔ فخر زمان نے سنچری جبکہ اظہر اور حفیظ نے نصف سنچریاں سکور کیں۔ باولنگ میں محمد عامر نے تین اہم کھلاڑیوں کو آوٹ کر کے بھارتی بیٹنگ لائن تباہ کر دی۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر 338 رنزسکور کیے جواب میں بھارتی ٹیم 158 رنز بنا سکی۔ لندن کے اوول سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان کی طرف سے اظہرعلی اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا۔ 8 کے سکور پر جسپریت بھمرا کی گیند پر فخز زمان وکٹوں کے پیچھے کیچ آوپ ہو گئے تاہم بھمرا کی طرف سے کرائی جانے والے گیند نوبال قرار دی گئی ۔ بعدازاں پاکستانی اوپنر نے کھل کر کھیلنا شروع کر دیا۔ اظہر علی نے اس موقع پر اپنے ون ڈے کیرئر کی 13 ویں اور آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے جاری ٹورنامنٹ کی تیسری نصف سنچری مکمل کی انہوں نے اپنے پچاس رنز اکسٹھ بال پر پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کیے۔ دوسری جانب فخر زمان نے بھی اپنی تیسری نصف سنچری سکور مکمل کی انہوں نے 60 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان پہلی وکٹ کی شراکت میں 128 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب اظہر علی ایک غیر ضروری رن لینے کے لیے بھگ کھڑے ہوئے لیکن دوسری جانب سے فخر زمان اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ اظہر علی 59 کے سکور پر رن آوٹ ہو گئے۔ نئے کھلاڑی بابر اعظم فخر زمان کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان اوپنر فخر زمان نے کیرئر کے چوتھے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں پہلی سنچری بنائی۔ فخر زمان نے 92 گیندوں پر بارہ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے سنچری مکمل کی۔ 31 اوورز کے خاتمے پر پاکستان کا ایک وکٹ کے نقصان پر مجموعی سکور 186 رنز تھا۔ فخر زمان 103 اور بابر اعظم 3 رنز کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ پاکستان کی دوسری وکٹ فخر زمان کی گری جب وہ 114 کے انفرادی سکور پر بھارتی باولر پانڈیا کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں جدیجہ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ فخر زمان نے 106 گیندوں کا سامنا کیا جس میں بارہ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 114 رنز بنائے۔ فخر اور بابر کے درمیان دوسری وکٹ کی شراکت میں 72 رنز کی پارٹنر شپ 10.1 اوورز میں قائم ہوئی۔ نئے کھلاڑی شعیب ملک کو میدان میں بھجوایا گیا۔ پاکستان کے دو سو رنز 32.2 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر پورے ہوئے۔ پاکستان کا سکور 247 پر پہنچا تو اس موقع پر شعیب ملک 12 کے انفرادی سکور پر بھنیشور کمار کی اٹھتی ہوئے بال کو کور میں اونچا کھیلنے کی کوشش میں جدیجہ کو اپنا کیچ دے بیٹھے۔ پاکستان کو چوتھا نقصان بابر اعظم کی وکٹ کی صورت میں اس وقت ہوا جب بابر اعظم 46 کے انفرادی سکور پر جدیجہ کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں یوراج سنگھ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ انہوں نے 52 گیندوں کا سامنا کیا جس میں چار چوکے لگائے۔ پاکستان ٹیم نے اپنے 300 رنز 45.2 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر پورے کیے۔ پاکستان کی طرف سے 190 واں ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے والے محمد حفیظ نے کیرئر کی 32 ویں نصف سنچری مکمل کی۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری میں چار چوکے اور دو چھکے لگائے۔ حفیظ اور عماد وسیم کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 7.3 اوورز میں 71 رنز کی ناقابل شکست پارٹنر شپ قائم ہوئے۔ پچاس اوورز کے خاتمے پر پاکستان کا سکور چار وکٹوں کے نقصان پر 338 رنز بنا۔ حفیظ چار چوکوں اور تین چھکوں کے ساتھ 57 جبکہ عماد وسیم ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 25 ناقابل شکست رنز بنائے۔ بھارت کی جانب سے باولنگ میں بھنیشور کمار، پانڈیا اور جدیجہ نے ایک ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے محمد عامر نے چھ کے سکور پر دو بھارتی کھلاڑیوں کو شرما اور کپتان ویرات کوہلی کو پویلین کی راہ دکھا کر ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ بھارت کی پہلی وکٹ میچ کی تیسری گیند پر اس وقت گر گئی جب شرما عامر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ ویرات کوہلی میدان میں آئے وہ صرف پانچ رنز بنا کر عامر کا شکار ہو گئے۔ اس سے قبل ایک بال پہلے عامر کی گیند پر سلپ میں کھڑے اظہر علی نے ویران کا کیچ ڈراپ کر دیا تھا۔ بھارت کا سکور 33 پر پہنچا کو محمد عامر نے ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر شیکر دھون کو بھی پویلین کی راہ دکھا دی۔ شیکر دھون نے 21 رنز بنائے۔ بھارت کا سکور 54 پر پہنچا تو اس موقع پر اس کی دو وکٹیں یوراج سنگھ اور دھونی کی اوپر تلے گر گئیں۔ یوراج سنگھ 22 رنز بنا کر شاداب خان کا جبکہ دھونی صرف چار رنز بنا کر پاکستان کے حسن علی کا شکار ہوگئے۔ 72 کے ٹوٹل پر بھارت کو چھٹا نقصان جدیجہ کی وکٹ کی صورت میں اس وقت برداشت کرنا پڑا جب شاداب خان کی گیند پر اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وہ وکٹ کیپر سرفراز کو اپنا کیچ دے بیٹھے۔ جدیجہ نے 9 رنز سکور کیے۔ بھارت کی نمایاں شکست کے آثار دیکھ کر بھارتی شائقین سٹییڈم سے 20 ویں اوور میں ہی واپس جانا شروع ہو گئے۔ ساتویں وکٹ کی شراکت میں بھارت کے راوندرا جدیجہ اور ہردیک پانڈیا کے درمیان 80 رنز کی پارنٹر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ 152 کے سکور پر اس وقت ہوا جب حسن علی کی گیند پر جدیجہ نے بال کو کھیل کر رن لینے کی کوشش نہ کی دوسری جانب سے پانڈیا بیٹنگ اینڈ پر پہنچ گئے تھے۔ حسن علی نے اپنے کھلاڑی کی تھرو پر بال کو وکٹوں سے ٹکرا کر پانڈیا کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ پانڈیا نے چھ چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 76 رنز سکور کیے۔ 156 کے سکور پر بھارتی کھلاڑی جدیجہ پاکستانی فاسٹ باولر جنید خان کی گیند پر شاداب خان کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ بھارت کی نویں وکٹ ایشون کی گری جنہیں حسن علی نے سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آوٹ کیا۔ حسن علی کی میچ میں دوسری جبکہ ٹورنامنٹ میں 12 ویں وکٹ تھی۔ بھارت کی پوری ٹیم 158 کے سکور پر ڈھیر ہو گئی۔ بھارت کے آخری آوٹ ہونے والے کھلاڑی بھمرا تھے جنہیں حسن علی نے سرفراز کے ہاتھوں کیچ آوٹ کیا۔ بھنیشور کمار ایک سکور کے ساتھ ناٹ آوٹ رہے۔ پاکستان کی طرف سے باولنگ میں محمد عامر اور حسن علی نے تین تین، شادبخاب نے دو جبکہ جنید خان نے ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ پاکستان کی جیت کے بعد پورے ملک میں لوگ جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اس موقع پر زبردست آتش بازی کی گئی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی لوگ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے اور ایک دوسرے کومبارکبادیں دیتے رہے۔ پاکستان کی جیت کے بعد پورے ملک میں لوگ جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس موقع پر زبردست آتش بازی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی اور لوگ ڈھو ل کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے رہے۔دریں اثنا وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کے فائنل پر لاہور سمیت ملک کے ہر شہر کی سڑکیں ویران رہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، روزہ دار گھروں میں بیٹھ کر میچ سے لطف اندوز ہوتے رہے، شہر کی بڑی بڑی شاہراہوں پر دور دور تک کوئی گاڑی یا پیدل مسافر دکھائی نہیں دے رہا تھا، ایسا دکھائی دیتا تھا کہ معمول کے روٹس پر چلنے والی بسیں اور ویگنیں بھی آج سڑکوں پر نہیں آئیں۔ رمضان کے باوجود کئی ریسٹورنٹ دن کے وقت بھی کھلے جہاں کھانے کی بجائے بڑی سکرینوں پر میچ پیش کیا گیا، خریداروں کے نہ ہونے سے دکانداروں نے بھی ایک جگہ جمع ہو کر میچ دیکھنے کو ترجیح دی۔ سرگودھا سے نامہ نگار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے فائنل میچ کو دکھانے کیلئے سرگودھا میں بڑی سکرینوں پر مختلف اداروں کی جانب سے اہتمام کیا گیا تھا، چشتیاں سے نامہ نگار فائنل میچ کی وجہ سے چشتیاں کے بازار،گلی محلے سنسان ہوگئے اور لوگوں کی اکشریت دکانوں ، گھروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئی،چوکے چھکے پر نوجوانوں کی طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی آواز بلند ہوتی رہی ۔