چین افغانستان میں قیام امن کا سفارتی مشن شروع کریگا

19 جون 2017

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) کم سخن اور محتاط چینی، آئندہ ہفتے سے افغانستان میں قیام امن کا انتہائی مشکل سفارتی مشن شروع کر رہے ہیں۔ یہ مشن وہ بھاری پتھر ہے جسے کئی ملک چوم کر چھوڑ چکے ہیں۔ خطہ کے ملکوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ افغانستان کو امریکہ سے چنگل سے چھڑائے بغیر اس جنگ زدہ ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جوں ہی چین نے امن مشن کا اعلان کیا ساتھ ہی واشنگٹن سے اعلان آ گیا کہ افغانستان میں امریکہ کے مزید چار ہزار فوجی بھجوائے جائیں گے۔ امریکہ کی قیادت میں جو عالمی فوجی اتحاد دس سال میں امن قائم نہیں کر سکا وہ مزید چار ہزار فو¿جی بھی نہیں کر سکتے تاہم یہ واضح ہو گیا ہے کہ افغانستان پر امریکی آکٹوپس کی گرفت کمزور پڑنے کا کوئی امکان نہیں۔مفادات کے اعتبار سے افغانستان میں، بھارت امریکہ کا سب سے بڑا اور مﺅثر اتحادی ہے جو امریکی چھتری تلے برابر اپنے قدم جمانے میں مصروف ہے۔ افغانستان سے امریکہ کی رخصتی کا مطلب بھارت کی رخصتی ہو گا اس لئے چین کو متعدد دیگر رکاوٹوں کے علاوہ امریکہ ا ور بھارت کی صورت میں سب سے بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے۔ تاہم ، چین کو ، افغانستان کے پڑوسی ملکوں، پاکستان، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں اور بطور خاص ماسکو کی مکمل تائید حاصل ہے جو افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر سے خائف ہے اور اسے بخوبی علم ہے کہ باہم سرپھٹول میں مصروف افغان حکومت داعش کی پیشقدمی کو نہیں روک سکتی۔ داعش کو امریکہ کی تخلیق سمجھنے والے حلقے تو افغان صوبہ ننگر ہار میں تورا بورا کے سرنگوں والے علاقہ پر گزشتہ ہفتہ داعش کے قبضہ کو بھی امریکی کارستانی قرار دے رہے ہیں۔ درجنوں سرنگوں پر مشتمل اس دشوار گزار علاقہ میںاسامہ بن لادن برسوں مقیم رہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے داعش کی قیادت کو فرار کی ضرورت پڑی تو تورا بورا ان کا اگلا ٹھکانہ ہو سکتا ہے۔ خطہ میں شدید عدم اعتماد کے ماحول میں شروع کردہ چینی سفارتکاری کو ابتداءسے ہی شدید چیلنج درپیش ہوں گے۔ افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کا اعلان کر کے امریکہ نے چین کے مشن کو شروع میں ہی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق امریکہ اور بھارت کے علاوہ افغانستان کی حکمران اشرافیہ بھی اس امن مشن کی راہ میں ایک رکاوٹ ثابت ہو گی کیونکہ افغان صدر سے لے کر پاکستان میں ان کے سفیر اور اعلیٰ سرکاری حکام کے پاس مغربی ملکوں کے پاسپورٹ موجود ہیں۔ ڈالرز میں ان کی آمدن ہے۔ قیام امن کے مقصد سے انہیں کوئی دلچسبی نہیں کیونکہ ان کی نوکریاں ، افغانستان میں امریکی بالادستی کے ساتھ مشروط ہیں۔ ایک پرامن افغانستان میں وہ غیر متعلق ہو جائیں گے اور بدقسمتی سے افغانستان میں ان ہی کی حکومت ہے۔ اس ذریعہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی اس بات کا مظہر ہے کہ داخلی خلفشار کا شکار امریکی انتظامیہ، افغان مسلہ کے حل کی ضروریات کا ادراک کرنے سے قاصر ہے۔ واشنگٹن کی افغان پالیسی میں،پاکستان کے ساتھ سخت گیر رویہ روا رکھتے ہوئے امداد بند کرنے،مراعات کے خاتمہ اور بین السطور دھمکانے کی پرانی پالیسی پر مبنی ہے حالانکہ متعدد د امریکی پالیسی سازوں کی رائے میں پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر کسی بھی ملک کی افغان پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی افغان پالیسی کے خدوخال واضح ہونے سے پہلے ہی ،پاکستان ، امریکہ کو افغانستان میں بھارت کی موجودگی کے باعث پیدا ہونے والی خرابیوں کے بارے میں باور کرانے کی کوشش کر چکا ہے۔
چین/ مشن