پہلی بار پاکستان بھارت کو دھول چٹا کر چیمپئنز کا چیمپئن بن گیا‘ قوم کی عید سے پہلے ’’عید‘‘

19 جون 2017
پہلی بار پاکستان بھارت کو دھول چٹا کر چیمپئنز کا چیمپئن بن گیا‘ قوم کی عید سے پہلے ’’عید‘‘

لندن+ لاہور (چودھری اشرف+ نامہ نگاران) پاکستانی شاہینوں نے بھارتی غرور خاک میں ملا کر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے آٹھویں ایڈیشن کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے تینوں شعبوں میں شاندار کھیل پیش کیا گیا۔ فخر زمان نے سنچری جبکہ اظہر اور حفیظ نے نصف سنچریاں سکور کیں۔ باولنگ میں محمد عامر نے تین اہم کھلاڑیوں کو آوٹ کر کے بھارتی بیٹنگ لائن تباہ کر دی۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر 338 رنزسکور کیے جواب میں بھارتی ٹیم 158 رنز بنا سکی۔ اوول سٹیڈیم میں فائنل میچ میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ اظہرعلی اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا۔ 8 کے سکور پر جسپریت بومرا کی گیند پر فخر زمان وکٹوں کے پیچھے کیچ آئوٹ ہو گئے تاہم گیند نوبال قرار دی گئی۔ اظہر علی نے اس موقع پر اپنے ون ڈے کیرئر کی 13 ویں اور آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے جاری ٹورنامنٹ کی تیسری نصف سنچری مکمل کی۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان پہلی وکٹ کی شراکت میں 128 رنز کی پارٹنر شپ قائم ہوئی۔ اظہر علی 59 کے سکور پر رن آوٹ ہو گئے۔ اوپنر فخر زمان نے کیرئر کے چوتھے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں پہلی سنچری بنائی۔ پاکستان کی دوسری وکٹ فخر زمان کی گری جب وہ 114 کے انفرادی سکور پر بھارتی بائولر پانڈیا کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں جدیجہ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ انہوں نے 12 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 114 رنز بنائے۔ پاکستان کا سکور 247 پر پہنچا تو شعیب ملک 12 کے انفرادی سکور پر بھنیشور کمار کی اٹھتی ہوئے بال کو کور میں اونچا کھیلنے کی کوشش میں جدیجہ کو اپنا کیچ دے بیٹھے۔ پاکستان کو چوتھا نقصان بابر اعظم کی وکٹ کی صورت میں ہوا جب بابر 46 کے انفرادی سکور پر جدیجہ کو بڑی شاٹ کھیلنے کی کوشش میں یوراج سنگھ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔ پاکستان ٹیم نے اپنے 300 رنز 45.2 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر پورے کئے۔ 190 واں ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے والے محمد حفیظ نے کیرئر کی 32 ویں نصف سنچری کی۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری میں چار چوکے اور دو چھکے لگائے۔ حفیظ اور عماد وسیم کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 7.3 اوورز میں 71 رنز کی ناقابل شکست پارٹنر شپ ہوئی۔ پچاس اوورز کے خاتمے پر پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 338 رنز بنائے۔ بھارت کی جانب سے باولنگ میں بھنیشور کمار، پانڈیا اور جدیجہ نے ایک ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے محمد عامر نے چھ کے سکور پر دو بھارتی کھلاڑیوں شرما اور کپتان ویرات کوہلی کو پویلین کی راہ دکھا کر بھارت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ بھارت کی پہلی وکٹ میچ کی تیسری گیند پر اس وقت گر گئی جب شرما عامر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ ویرات کوہلی میدان میں آئے اور وہ صرف پانچ رنز بنا کر عامر کا شکار ہو گئے۔ بھارت کا سکور 33 پر پہنچا کو محمد عامر نے ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر شیکھر دھون کو بھی پویلین کی راہ دکھا دی۔ شیکھر دھون نے 21 رنز بنائے۔ بھارت کا سکور 54 پر پہنچا تو اس موقع پر اس کی دو وکٹیں یوراج سنگھ اور دھونی کی اوپر تلے گر گئیں۔ یوراج سنگھ 22 رنز بنا کر شاداب خان جبکہ دھونی صرف چار رنز بنا کر حسن علی کا شکار بنے۔ 72 کے ٹوٹل پر بھارت کو چھٹا نقصان جدیجہ کی وکٹ کی صورت میں ہوا وہ شاداب کو اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سرفراز کو کیچ دے بیٹھے۔ اس موقع پر بھارت کی نمایاں شکست کے آثار دیکھ کر بھارتی شائقین سٹییڈم سے 20 ویں اوور میں ہی واپس جانا شروع ہو گئے۔ ساتویں وکٹ کی شراکت میں بھارت کے راوندرا جدیجہ اور ہردیک پانڈیا کے درمیان 80 رنز کی پارنٹر شپ قائم ہوئی جس کا خاتمہ 152 کے سکور پر اس وقت ہوا جب حسن علی کی گیند پر جدیجہ نے بال کو کھیل کر رن لینے کی کوشش نہ کی دوسری جانب سے پانڈیا بیٹنگ اینڈ پر پہنچ گئے۔ حسن علی نے پانڈیا کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ پانڈیا نے چھ چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 76 رنز سکور کیے۔ 156 کے سکور پر بھارتی کھلاڑی جدیجہ جنید خان کی گیند پر شاداب خان کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہو گئے۔ بھارت کی نویں وکٹ ایشون کی گری جنہیں حسن علی نے سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آوٹ کرایا۔ بھارت کی پوری ٹیم 158 کے سکور پر ڈھیر ہو گئی۔ بھارت کے آخری آوٹ ہونے والے کھلاڑی بھمرا تھے جنہیں حسن علی نے سرفراز کے ہاتھوں کیچ آوٹ کرایا۔ محمد عامر اور حسن علی نے تین تین، شاداب خان نے دو جبکہ جنید خان نے ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ پاکستان کی جیت کے بعد پورے ملک میں لوگ جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اس موقع پر زبردست آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی گئی لوگ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے اور ایک دوسرے کومبارکبادیں دیتے رہے۔ پاکستان کی جیت کے بعد پورے ملک میں لوگ جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس موقع پر زبردست آتش بازی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی اور لوگ ڈھو ل کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے رہے۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ قبل ازیں فائنل پر لاہور سمیت ملک کے ہر شہر کی سڑکیں ویران رہیں اور ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، روزہ دار گھروں میں بیٹھ کر میچ سے لطف اندوز ہوتے رہے، رمضان کے باوجود کئی ریسٹورنٹ دن کے وقت بھی کھلے جہاں کھانے کی بجائے بڑی سکرینوں پر میچ پیش کیا گیا، سرگودھا سے نامہ نگار کے مطابق بڑی سکرینوں پر مختلف اداروں کی جانب سے اہتمام کیا گیا تھا، چشتیاں سے نامہ نگار فائنل میچ کی وجہ سے چشتیاں کے بازار،گلی محلے سنسان رہے۔ چوکے چھکے پر نوجوانوں کی طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی آواز بلند ہوتی رہی۔ڈسکہ سے نامہ نگار اور نمائندہ خصوصی کے مطابق پاکستان کی ٹیم جیتنے پر ڈسکہ میں آتش بازی کا بڑا مظاہرہ کیا۔ ڈسکہ کلاں اور میلاد چوک میں نوجوان منچلوں کا بھنگڑا دیدنی تھا۔ حسن علی کو چیمپئنز ٹرافی میں سب سے زیادہ 13 وکٹیں لینے پرگولڈن بال ایوارڈ سے نوازا گیا اور انہیں پلیئر آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔ فخر زمان مین آف دی میچ قرار پائے۔ بھارت کے شیکھر دھون گولڈن بیٹ کے حق دار قرار پائے۔ چیمپئنز ٹرافی جیتنے پر پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ کامیابی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں۔ بھارت سے ہار کے بعد ٹیم سے کہا مثبت کرکٹ کھیلو ٹورنامنٹ باقی ہے۔ جیت کا کریڈٹ بولرز کو جاتا ہے۔ فخر زمان نے عمدہ اننگز پیش کی نئے کھلاڑیوں نے اچھا کھیل پیش کیا ہم نے مثبت کرکٹ کھیلی اور کامیاب ہوئے۔ عامر، حسن علی اور شاداب نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ ہمارے زیادہ کھلاڑی نوجوان تھے انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ ٹیم انتظامیہ اور کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں پر فخر ہے۔ عوام کا سپورٹ کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیں ہر شعبے میں آئوٹ کلاس کیا۔ فائنل میں پہنچ کر ہارنے پر بہت دکھ ہوا۔ ہماری ٹیم کی کارکردگی مایوس کن تھی۔ پاکستان کے پاس بہت ٹیلنٹ ہے۔ پاکستان نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ کسی ٹیم کو بھی ہرا سکتے ہیں۔ فائنل جیتنے پر پاکستان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق ٹیم کی فتح پر جشن منایا گیا، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے۔ لاہور میں جیت کی خوشی میں شہر کی فضا فائرنگ، آتش بازی اور پٹاخوں کی آوازوں سے گونج اٹھی۔ سرکوں پرمنچلے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پرقومی نغمو ں کی دھن پر ناچتے اور بھنگڑے ڈالتے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ مال روڈ، ڈیفنس ، مغل پورہ ،دھرم پورہ ،شمالی چھاؤنی، ایم ایم عالم روڈ،گلبرک اورجیل روڈ پرنوجوانوں کا رش اور جوش قابل دید تھا ۔ٹریفک وارڈن ٹریفک کی رووانی کو برقرار رکھنے کیلئے کوششیں کرتے رہے لیکن گھنٹوں ٹریفک جام رہی۔ لندن سے عارف چودھری پندھیر کے مطابق برطانیہ میں بھی پاکستانی جیت کی خوشی میں روزے کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔ مانچسٹر، برمنگھم، سکاٹ لینڈ، کارڈف، لیڈز، بریڈفورڈ، ہر شہر میں پاکستانی شائقین نے قومی ٹیم کی جیت کا جشن منایا اور افطاری کے بعد مٹھائیں تقسیم کیں۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق مریدکے میں بھی شہریوں نے ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا جبکہ نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پررقص کیا اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کر دی۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق بھارت کی عبرتناک شکست پر نارنگ منڈی میں بھی جشن منایا گیا جگہ جگہ لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ کمیر سے نامہ نگار کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی شاندار کامیابی پر کمیر میں جشن منایا گیا اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ شیخوپورہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو عبرتناک شکست پر شیخوپورہ کے عوام خوشی سے جھوم اٹھے منوں مٹھائیوں کی تقسیم کیساتھ آتش بازی کا مظاہرہ اور ڈھول کی تھاپ پربھنگڑے ڈالے گئے۔ سانگلہ ہل سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق پاکستان کی شاندار جیت اور بھارت کی عبرتناک شکست پر نوجوان بھنگڑے ڈالتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ پشاور کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے جیت کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کی جس سے 20 افراد زخمی ہو گئے پولیس نے ہوائی فائرنگ کرنے والے 70 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ چیمپئنز ٹرافی فائنل جیت کر پاکستان ٹیم بائیس لاکھ ڈالر انعامی رقم کی حقدار بن گئی۔ فائنل ہارنے پر بھارت کو گیارہ لاکھ ڈالر پر اکتفا کرنا پڑا۔ کپتان سرفراز احمد کے کہنے پر تمام کھلاڑیوں نے گرائونڈ میں اکٹھے سجدہ ریز ہو کرشاندار کامیابی پر رب کا شکر ادا کیا۔ فائنل میچ میں فیورٹ قرار دی جانے والی بھارتی ٹیم کے ہارنے سے جواریوں کے کرڑوں روپے ڈوب گئے۔ چھاپوں کے دوران متعدد جواریئے گرفتار کر لئے گئے۔ دریں اثناء بھارت کے خلاف چیمپئن ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی شاندار کامیابی پر سعودی عرب کے ہر شہر میں پاکستانیوں نے شاندار جشن مناتے ہوئے پاکستانی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دی۔ مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ میں حرمین اور مساجد میں کل رات سے ہی تراویح اور شبینہ کی عبادات کے بعد پاکستان کی کامیابی کی دعائیں کیں۔ ادھر لندن کے اوول گرائونڈ کے باہر کشمیریوں نے مظاہرہ کیا اور پاکستانی ٹیم سے اظہار یکجہتی کیا انہوں نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی، دریں اثناء بی بی سی کے مطابق کپتان سرفراز نے کہا ہے کہ ٹیم نے ٹورنامنٹ میں ہمیشہ بھارت سے ہارنے کا داغ دھو دیا ہے۔
سرینگر (نیوز ڈیسک) آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تاریخی جیت پر اور بھارت کی ذلت آمیز ہار پر مقبوضہ کشمیر میں زبردست جشن منایا گیا تاہم شکست سے بوکھلائی بھارتی فوج نے گھروں میں گھس کر کشمیری عورتوں‘ بچوں اور مردوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے 35 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق سری نگر‘ بارہمولا شوپیاں سمیت کشمیر بھر میں پاکستان بھارت کرکٹ میچ کے فائنل پر ہو کا عالم تھا تاہم پاکستانی بلے بازوں کے ہاتھوں بھارتی بالروں کی پٹائی شروع ہونے پر پاکستان زندہ باد اور آزادی کے نعرے گونجنے لگے‘ کریکر چھوڑے جانے لگے‘ پاکستانی ٹیم کی عظیم الشان کامیابی پر کشمیری نوجوان‘ عورتیں‘ بچے اور بوڑھے پاکستان زندہ باد اور آزادی کے نعرے لگاتے گھروں سے باہر آ گئے‘ نوجوان خوشی سے ناچنے لگے جبکہ جگہ جگہ آتشبازی سے تاریکی میں ڈوبی وادی کشمیر روشن ہو گئی۔ ادھر بھارت کی ذلت آمیز شکست سے جلے ہوئے بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں پر بلاوجہ وحشیانہ تشدد کرکے اپنا غصہ نکالا‘ شوپیاں میں درجنوں بھارتی فوجی فیاض احمد لون‘ غلام حسن‘ عبدالعزیز لون‘ غلام حسن ڈار سمیت دیگر کشمیریوں کے گھروں میں دیواریں پھاند کر داخل ہو گئے اور مکینوں پر بلااشتعال وحشیانہ تشدد شروع کر دیا جس سے 35 افراد شدید زخمی ہوئے ان میں 12عورتیں بھی شامل ہیں‘ کئی افراد کے بازو رائفلوں کے بٹ لگنے سے ٹوٹ گئے‘ فوجیوں نے گھروں کا قیمتی سامان‘ کھڑکیاں دروازے اور شیشے توڑ ڈالے او رقیمتی اشیا لوٹ لیں‘ کئی زخمیوں کو بعدازاں شیر کشمیر ہسپتال سری نیگر ریفر کر دیا گیا۔ قبل ازیں پلوامہ میں بھارت مخالف مظاہرے کے دوران بھارتی فورسز کی فائرنگ سے اعجاز احمد نامی نوجوان شہید ہو گیا۔ بڈگام‘ بیج بہاڑہ اور دیگر علاقوں سے مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ کرفیو اور سخت سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بدستور بند رہی۔