پی ایس 114ضمنی الیکشن ، حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشن حساس قرار

19 جون 2017

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114کے ضمنی انتخاب میں حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنزکوحساس قراردے دیا گیاہے۔ الیکشن کمیشن نے پولیس اوررینجرکے ساتھ حلقے میں فوج تعینات کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ ضابطہ اخلاق پرسختی سے عملدرآمد کے لیے ڈی آراو نے تمام امیدواروں کو آج طلب کرلیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 کراچی کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے ستائیس امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی گئی ہے 9جولائی کوہونے والے ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے 27 امیدوارمدمقابل ہونگے جن میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی، مسلم لیگ (ن)کے علی اکبر گجر،ایم کیو ایم پاکستان کے کامران ٹیسوری، تحریک انصاف کے انجینئرنجیب ہارون سمیت 31 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ دوسری جانب انتہائی حساس علاقہ ہونے کے پیش نظر ضمنی انتخاب کے موقع پرامن وامان برقراررکھنے کے لیے تمام پولنگ اسٹیشنز کوحساس قراردینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پولیس رینجر کے ساتھ فوج کوپولنگ اسٹیشنزپرتعینات کرنے کی سفارش کردی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسرعلی اصغرکے مطابق پی ایس ایک سوچودہ کے ضمنی الیکشن میں امن وامان برقراررکھنے کے لیے پولیس رینجرکے ساتھ فوج کی تعیناتی کے لیے بھی الیکشن کمیشن کوخط لکھ دیا ہے خط میں سفارش کی گئی ہے کہ حساس صورتحال کے پیش نظربعض پولنگ اسٹیشنز پرفوج بھی تعینات کی جائے ۔ دوسری جانب ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں بیانوے پولنگ اسٹیشن تشکیل دے دیے گئے ہیں جس کے لیے 818رکنی عملہ پولنگ کے روز اپنی خدمات انجام دے گا ۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسرکے مطابق ضابطہ اخلا ق پرعملدرآمد کے لیے تمام امیدواروں کا اجلاس آج (پیر)طلب کرلیا گیا ہے ۔
پی ایس114/ حساس