صہیونی فوج فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے : اسرائیلی تنظیم کا اعتراف

19 جون 2017

مقبوضہ بیت المقدس / غزہ (اے این این) اسرائیل میں سابق فوجیوں اور دیگر عناصر پرمشتمل ایک تنظیم نے اعتراف کیا ہے کہ فوج کی جانب سے سینکڑوں فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پراستعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسرائیلی تنظیم شوبریم شتیکاہ(خاموشی توڑیے)کے چیئرمین یہودا شال نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں میں خوف اور اپنا رعب طاری کرنے کیلئے ان کے خلاف طاقت کے وحشیانہ حربے استعمال کرتی ہے۔ ان میں فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کرنے کا حربہ بھی شامل ہے۔Nrg نامی ویب سائیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک چینی ٹیلی ویژن چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں یہ بات کہی ۔یہودا نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران فوج نے سینکڑوں فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیا۔تین سال تک الخلیل شہر میں فوجی خدمات انجام دینے والے یہودا شال نے کہا کہ جب اسرائیلی فوج کسی فلسطینی کو حراست میں لینے کیلئے کارروائی کرتی ہے تومشتبہ فلسطینی کے مکان کے آس پاس کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپراستعمال کیا جاتا ہے تاکہ فلسطینی مزاحمت کار اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ سے گریز کریں۔ یہ حربہ کافی کار گر ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب شہری انسانی ڈھال بنائے جاتے ہیں تو کوئی فلسطینی ان پر گولی چلانے سے گریز کرتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں یہودا شال نے کہا کہ ہزاروں یہودی فوجی اس گھناﺅنے فعل کا اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں دو روز قبل تین فدائی حملہ آوروں کی شہادت کے بعد باب العامود کے مقام کو ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کے وہاں پر جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے فیصلہ سے فلسطینیوں کو غیرمعمولی معاشی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہاں فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد میں دکانیں موجود ہیں۔خیال رہے جمعہ کے روز باب العامود کے مقام پر تین فلسطینی شہریوں کے حملوں میں ایک اسرائیلی پولیس اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے تھے جب کہ قابض فوج کی فائرنگ سے تینوں فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔صہیونی وزیراعظم نیتن یاھو نے انٹیلی جنس اداروں اور پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ باب العامود میں فلسطینیوں کی آمد ورفت تا حکم ثانی روک دیں۔ فلسطینیوں کی آمد ورفت روکنے کا مقصد تفتیشی عمل مکمل کرنا ہے۔کل ہفتے کے روز باب العامود کے مقام پر اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ دوسری طرف غزہ کی پٹی کے قریب اسرائیلی فوج کی ایک جیپ کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ خان یونس کے مشرقی شہر خان یونس کے قریب اس وقت پیش آیا جب جیپ معمول کے گشت پر تھی۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق گاڑی کے الٹنے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پرموقع پر پہنچ کر اس میں موجود فوجیوں کو نکالا جنہیں فوجی ایمبولینسوں میں ڈال کر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
اسرائیلی تنظیم