افغانستان سے کرم اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کے حملے

19 جون 2017
افغانستان سے کرم اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کے حملے

افغان سرزمین سے دہشت گردوں نے گزشتہ دو دنوں میں پاکستان پر دو حملے کئے، جنہیں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنادیا اور دہشت گردوں کے مذموم عزئم خاک میں ملا دیئے جبکہ فورسز سے جھڑپ میں چار دہشت گرد مارے گئے۔
پاکستان شروع دن سے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور افغانستان کے ساتھ بالخصوص خوشگوار تعلقات استوار رکھنے کیلئے ہرممکن تعاون کررہا ہے۔ افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کے باعث کرم ایجنسی میں خرلاچی کراسنگ گزشتہ چار ماہ سے بند چلی آرہی تھی۔ اس کراسنگ کو کھولنے کا فیصلہ افغانستان کو راہداری کی سہولت کی فراہمی کیلئے پاکستان کے تعاون اور کوششوں کی غمازی کرتا ہے۔ دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کے بلاامتیاز جاری آپریشن ردالفساد کے باعث راہ فرار اختیار کرکے افغانستان میں ٹھکانے بنانے والے گروپ اور تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ افغانستان تمام تر شواہد کے باوجود ان کیخلاف کوئی کارروائی کرنے پر آمادہ نہیں، اور پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے اور دہشت گردوں کی حمایت کی الزام تراشیاں کرکے اپنی نااہلی اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی روش اپنا رکھی ہے۔ افغانستان میں شدت پسند دہشت گرد تنظیم داعش کا اثر و رسوخ جس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس سے افغانستان کے ہمسایہ ملک بجا طور پر تشویش کا شکار ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی آج ایک عالمی چیلنج کی صورت اختیار کرچکی ہے، اس کا مقابلہ بھی باہم مل کر کرنا ہوگا۔ افغانستان جتنی جلدی اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اپنا قبلہ درست کرلے، یہ نہ صرف اس کے مفاد میں ہے بلکہ خطے کے امن کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے ساتھ تعاون سے نہ صرف افغانستان میں امن اور استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کی سلامتی کو لاحق خدشات بھی دُور ہوں گے۔