مصالحتی مراکز کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھانے کی ضرورت

19 جون 2017

مصالحتی مراکز نے 15 روز میں 814 مقدمات نبٹا دیئے۔ جسٹس منصور علی شاہ۔ ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو فیصلہ شدہ مقدمات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ صوبے میں چھتیس مصالحتی مراکز کام کر رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب
عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لئے پنجاب میں مصالحتی مراکز کے قیام کی ابتدائی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ صوبہ پنجاب میں ان مراکز نے جن کی تعداد 36 ہے۔ صرف 15 روز میں 814 مقدمات کا فیصلہ کر کے انصاف کے بروقت حصول کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب ان مراکز کی تعداد میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ کی خواہش کے مطابق اضافہ کرے تاکہ بروقت اور سستے انصاف کی فراہمی ہر جگہ ممکن ہو۔ اگر ایسے ہی مصالحتی مراکز کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے تو اس سے انصاف کی تلاش میں سرگرداں لاکھوں انصاف کے متلاشیوں کو ریلیف مل سکتا ہے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ہماری عدالتوں میں جس طرح مقدمات کی بھرمار ہے جو برس ہا برس زیرسماعت یا زیرالتوا ہیں۔ سائلین دور دراز علاقوں سے پیشیاں بھگتنے آتے ہیں جس میں پیسہ اور وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ ایسے مسائل سے نجات کے لئے مصالحتی عدالتیں کارآمد ثابت ہوں گی اور ان کی بدولت بروقت انصاف کا خواب بھی پورا ہو گا۔