حکومت اپٹما کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے

19 جون 2017

اپٹما کا مطالبات پورے نہ ہونے پر آئندہ ہفتے ملیں بند کر کے احتجاج اور اسلام آباد میں ریلی نکالنے کا اعلان۔ 200 ارب ریفنڈ نہ ہوئے تو صنعتیں کیسے چلائیں گے۔ رہنما¶ں کا پریس کانفرنس سے خطاب
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے حکومت کی وعدہ خلافیوں‘ پاکستان کی سب سے بڑی صنعت کی زبوں حالی اور اپنے مطالبات کے حق میں جس انتہائی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کپڑے اور دھاگے کی صنعت کے مسائل پوری طرح حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کیونکہ ہڑتال اور احتجاج کی نوبت تب ہی آتی ہے جب معاملات باہمی گفت و شنید سے حل نہ ہوں۔ حکومت کا فرض ہے کہ اپٹما کے جائز مطالبات پر کان دھرے اور اپنے دعو¶ں کے مطابق صنعتی بحران کے حل کے لئے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ پہلے ہی توانائی کے بحران کی وجہ سے ہماری صنعتی ترقی کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔ عالمی منڈی میں ہماری تجارتی ساکھ اور کاروبار متاثر ہو رہی ہے۔ اس وقت ملک کا تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اسلئے حکومت کو صنعتوں کو 200 ارب روپے کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دینا چاہئے۔ اپٹما کے رہنما¶ں کو بھی موجودہ حالات میں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ یہ وقت احتجاج اور ہڑتالوں کا نہیں ۔ بہتر راہ یہی ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر معاملات مذاکرات سے حل کریں تاکہ صنعتی ترقی کا پہیہ رواں ہو۔