پیر ‘ 23 رمضان المبارک ‘ 1438ھ‘ 19 جون 2017ء

19 جون 2017

قصہ عمران خان کی 2 لاکھ روپے والی چار بکریوں کا۔
لو صاحبو آپ کچھ ذکر ہو جائے بکریوں کا۔ عرب و عجم میں مشرق و مغرب میں شمال و جنوب میں زمانہ قدیم سے ہی بھیڑ بکریاں پالی جاتی تھیں انہی سے کسی کی امارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قبیلے کی خوشحالی کا پتہ چلتا ہے۔ برصغیر کی سیاست میں بھی بکری کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ گائے ماتا کی طرح شر نہیں پھیلاتی امن و آتشی کا پیغام دیتی ہے۔ مہاتما گاندھی کی سیاست جو ”اہنسا“ کے گرد گھومتی تھی اس وجہ سے ان کی وہ بکری یا بکریاں ہوں گی جو ان کے آشرم میں ان کے لئے پالی جاتی تھیں اور گاندھی جی ان کا دودھ نوش کرتے تھے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ عوام کی بکریاں گھاس پھونس کھاتی تھیں۔ مہاتما جی کی بکری ملائی‘ مکھن‘ موتی چور کے لڈو‘ چاندی کے ورق لگی جلیبیاں‘ قیمتی جڑی بوٹیاں‘ اعلیٰ مقوی چارہ کھاتی تھی۔ یوں اس کا سو فیصد خالص شُد دودھ مہاتما جی پیتے تھے اور ٹانگیں پسار کر سوتے تھے۔ اب ایسی ہی 4 عدد بکریاں ہمارے عمران خان صاحب کے پاس بھی بنی گالہ کے محلات میں پل رہی ہیں۔ بلکہ خوبصورت قدرتی آب و ہوا میں خالص گھاس چارہ‘ مقوی اجزا پر مشتمل خوراک کھاتی ہیں۔ خان صاحب بھی انہی کا دودھ پیتے ہیں جو امرت دھارا کا اثر رکھتا ہے۔ اب حاسدین کہتے ہیں کہ یہ چار بکریاں 2 لاکھ روپے کی ہیں۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ جناب یہ اعلیٰ نسل کی خاندانی بکریاں کیا ٹکے سیر مفت ملیں گی۔ خان صاحب کیا کوئی ویسے ہی ایرے غیرے ہیں۔ انہوں نے خوب چھان پھٹک کر یہ قیمتی بکریاں لی ہی اسی لئے ہیں کہ ان کا دودھ پی پی کر خوب جان بنائیں۔ ڈنڈ نکالیں اور بڑھاپے میں بھی نوجوان دکھائی دینے کی پریکٹس کریں۔ چلئے عوام کو مربہ کھانے والے گھوڑوں اور گھریلو چڑیا گھر کے موروں کے بعد پاکستانی سیاست میں بکریوں کی آمد بھی مبارک ہو۔
٭....٭....٭....٭....٭
فاروق عبداللہ اقتدار میں آ کر بھارت کی تعریفیں کریں گے۔ جیتندر ناتھ
آج کل غدار ابن غدار فاروق عبداللہ کو موجودہ کٹھ پتلی محبوبہ مفتی کی مخالفت میں بھارت کے خلاف لڑنے والے کشمیری مجاہدین کی حمایت میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔ حالانکہ جب ان کی اپنی حکومت ہوتی ہے تو تب انہیں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل ہوتا نظر نہیں آتا اور یہ مجاہدین کو باغی اور بھارت کو حق بجانب قرار دیتے ہیں۔ جیسے ہی ان کی جگہ کوئی اور حکومت آتی ہے‘ یہ پلٹا کھا کر بھارت کے خلاف مجاہدین کے حق میں بولنے لگتے ہیں۔ کشمیری سیاستدانوں کی اس غداری کا عوام کو سب پتہ ہے۔ وہ ان کے اس دوغلے پن کو عرصہ دراز سے برداشت کرتے آ رہے ہیں۔ کل تک یہی محبوبہ مفتی مجاہدین کی آواز کے ساتھ آواز ملاتی پھرتی تھیں۔ اس وقت فاروق عبداللہ کی حکومت تھی وہ بھارت پر فدا ہوتے تھے۔ اب محبوبہ کی حکومت ہے وہ بھارت پر مر مٹی ہے اور شیخ خاندان مجاہدین کے ترانے پڑھتا نظر آ رہا ہے۔
یہ کٹھ پتلی بھارت کے زرخرید غلام اسی طرح کشمیریوں کو بے وقوف بناتے آئے ہیں۔ اب بھارت کے مرکزی وزیر جیتندر ناتھ نے کیا خوب اپنے ان زرخریدوں کی حقیقت نقاب کرتے ہوئے ان پر پھبتی کستے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہی شیخ خاندان بھارت کی تعریفیں کرتا نظر آئے گا۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہے۔ واقعی یہ سگان دنیا اسی کام میں مصروف ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
امریکہ میں نئی بیماری ”ٹرمپ ڈس آرڈر“ کا چرچا
جدید دور بے شمار سہولتوں کے ساتھ ساتھ اپنے جلو میں بے شمار نت نئی بیماریاں بھی لایا ہے۔ اگر تسلیم کیا جائے کہ یہ بیماریاں پہلے بھی ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھیں۔ اب صرف ان کا علاج دریافت ہوا ہے تو بھی کوئی قباحت نہیں۔ ہر دور میں انسان بے شمار سہولتوں اور عذابوں میں مبتلا رہتا آیا ہے۔ موجودہ دور میں بس ان کے خاتمے کی کوشش ہو رہی ہے مگر اس کے جواب میں بھی کوئی نیا مسئلہ سر اٹھاتا ہے۔ ڈیموکریٹکس کی حکومت سے تنگ امریکیوں نے ووٹ کے ذریعے اپنے مسائل حل ری پبلکن کی شکل میں تلاش کیا۔ مگر انجام کیا نکلا وہ پہلے سے بھی زیادہ بری طرح الجھ گئے۔ پہلے تو ملک کے اندر مسائل تھے بیرون ملک امریکہ کا دبدبہ تھا۔ اب اس ملکی بیماری کا علاج دریافت کرتے کرتے معاملہ الٹا ہو گیا ہے۔ بیرون ملک جگ ہنسائی اور بے توقیری کا مرض امریکہ کو لاحق ہو چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر خود امریکی صدر ٹرمپ اس وقت صرف امریکہ ہی نہیں دنیا بھر میں کسی خوف ناک بیماری کا نام بن چکے ہیں۔ امریکہ میں غصہ‘ آپریشن‘ منفی ردعمل‘ بک بک جھک جھک اور نفرت پر مشتمل آج کل اپنا نیا مرض پھیل رہا ہے۔ جسے وہاں کے اعلیٰ دماغ ماہرین نے نہایت سوچ بچار کے بعد ”ٹرمپ ڈس آرڈر“ کا نام دیا ہے۔ اب سائنسدان اس بیماری کا علاج دریافت کرنے میں کوشاں ہیں تاکہ عوام کو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ امید ہے ٹرمپ صاحب اس کا برا نہیں مانیں گے
٭....٭....٭....٭....٭
شورکوٹ چھا¶نی میں آم کی پیٹی کے لئے ڈرائیور نے ٹرین روک لی۔
ایک طرف وزیر ریلوے دن رات ریلوے کا گراف بلند کرنے میں مصروف ہیں۔ ریلوے کی اپ گریڈیشن پر ان کی پوری توجہ لگی ہوئی ہے۔ ابھی گذشتہ روز ہی انہوں نے شالیمار‘ جعفر اور پاکستان ایکسپریس کی اپ گریڈیشن کی شروعات کے ساتھ ہی اعلان کیا کہ جلد ہی ساری ٹرینوں کی اپ گریڈیشن شروع ہو جائے گی۔ جس سے امید ہے کہ ریلوے ایک نئی سج دھج کے ساتھ سامنے آئے گی۔ ان کا یہ خوش آئند اعلان بسر و چشم‘ مگر انہی گناہگار آنکھوں نے اسی ریلوے میں دیکھا ہے کہ ریلوے عملے کا قبلہ و کعبہ آج بھی تبدیل نہیں ہوا وہ اسی پرانی ڈگر پر دونوں ہاتھوں سے عوام کو تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں۔ کمپیوٹرائز ہونے کے باوجود ریلوے حکام کے لچھن نہیں بدلے۔ یہی حال ریلوے انجن ڈرائیوروں اور ان کے ساتھی عملے کا ہے۔ یہ پہلی بار ٹرین اسلئے نہیں روکی گئی کہ آم کی پیٹی ڈرائیور یا اس کے ساتھی عملے نے لینی تھی۔ پہلے بھی کئی بار کبھی ناشتہ کے لئے کبھی پکوڑے لینے کے لئے اور کبھی گھر سے آیا کھانے کا ٹفن لینے کے لئے ٹرینوں کو روکا جاتا ہے اور کام مکمل ہونے کے بعد اطمینان سے سفر شروع کیا جاتا ہے۔ اس دوران مسافروں کی جو حالت ہوتی تھی وہ وہی جانتے ہیں۔ اگر خواجہ سعد رفیق صاحب ریلوے کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ ایسے معاملات کا کوئی حل بھی نکالیں تو عوام ان کو دعائیں دیں گے اور ریلوے کا سفر وسیلہ ظفر ثابت ہو گا۔
٭....٭....٭....٭....٭