فضائل قرآن (1)

19 جون 2017

امیر المومنین حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس قرآن شریف کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے مرتبہ کو بلند فرماتا ہے اور بہت سوں کے مرتبہ کو گھٹاتا ہے یعنی جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں عزت عطا فرما دیتا ہے اور جو لوگ اس پر عمل نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسالت مآب(ﷺ) نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جس شخص کو قرآن شریف کی مشغولی کی وجہ سے ذکر کرنے اور دعائیں مانگنے کی فرصت نہیں ملتی، میں اس کو دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے کلام کو سارے کلاموں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے خود اللہ تعالیٰ کو تمام مخلوق پر فضیلت ہے۔ (ترمذی)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی محتشم(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اللہ تعالیٰ کا قرب اس چیز سے بڑھ کر کسی اور چیز سے حاصل نہیں کر سکتے جس کی نسبت خود اللہ تعالیٰ سے ہے یعنی قرآن کریم۔ (مستدرک حاکم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: قرآن کریم ایسی شفاعت کرنےوالا ہے، جسکی شفاعت قبول کی گئی اور ایسا جھگڑا کرنےوالا ہے کہ اس کا جھگڑا تسلیم کر لیا گیا، جو شخص اس کو اپنے آگے رکھے یعنی اس پر عمل کرے اس کو یہ جنت میں پہنچا دیتا ہے، اور جو اس کو پیٹھ کے پیچھے ڈال دے یعنی اس پر عمل نہ کرے اس کو یہ جہنم میں گرا دیتا ہے۔ (صحیح ابن حبان)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشاد فرمایا: روزہ اور قرآن کریم دونوں قیامت کے دن بندے کےلئے شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے اور نفسانی خواہش پوری کرنے سے روکے رکھا میری شفاعت اس کے بارے میں قبول فرما۔ قرآن کریم کہے گا: میں نے اسے رات کو سونے سے روکا (کہ یہ رات کو نوافل میں میری تلاوت کرتا تھا) میری شفاعت اس کے بارے میں قبول فرما چنانچہ دونوں اس کےلئے سفارش کریں گے۔ (مسند احمد، طبرانی، مجمع الزوائد)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ﷺ) نے مجھ سے ارشاد فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کیا کرو، اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہو گا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہوگا۔(بیہقی)
رسول اللہ(ﷺ) نے فرماےا:۔ جہنم سے اُس شخص کو نکال لےاجائے گا۔ جس نے لاالہ الا اللہ کا اقرار اور اس کے دل مےں جُو کے برابر بھی خےر ہو، پھر اس شخص کو نکالا جائے گا جس کے دل مےں اس اقرار کے ساتھ گندم کے برابر خےر ہو، پھر اسے جس کے دل مےں اس اقرار کے ساتھ رائی کے دانے کے برابر خےر ہو۔ (بخاری، مسلم، نسائی، احمد)

درور شریف کے فضائل،

مولانا رضوان اللہ پشاوریمدرس جامعہ علوم القرآن پشاور نبی اکرمؐ نے ارشاد ...