پانامہ لیکس، جے آئی ٹی اور اگلے انتخابات

19 جون 2017

چلو ایک بات تو کنفرم ہو گئی کہ جے آئی ٹی ممبران اور ان کے خاندان کی جاسوسی کی گئی اور مسلسل کی جا رہی ہے کیوں کہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیور آفتاب سلطا ن نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان میں یہ اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے اور ان کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ہیک کرنے کے ا لزام کی تردید کی ہے اورکہا ہے کہ جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں کیا۔خیر یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ ”ہلکا پھلکا“ دباﺅ رکھ کر اپنی مرضی کے فیصلے لینے کی کوشش کی جارہی ہوگی کیوں کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب و دیگر کی پیشی کے بعد حکمرانوں میں غم و غصے کی لہر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہی وجہ کہ جے آئی ٹی اپنے اصل کام کو چھوڑ کر نہ صرف اپنے دفاع پر مجبور ہوگئی ہے بلکہ اپنی بے بسی کا احوال سپریم کورٹ کی خدمت میں بھی پیش کر چکی ہے۔ اس کمیٹی کے کچھ اراکین خوف و ہراس کا شکار ہیں، ایک رکن کے گھر پر چھاپہ پڑنے کی بھی خبر ہے، ایک کو اپنے محکمے کی جانب سے نہایت موزوں وقت پر نوٹس مل چکا ہے اور کمیٹی کے ایماندار سربراہ کا پروموشن کیس حکمرانوں کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ ویسے حد تو یہ ہے کہ اتنے شدید حملے تو محمود غزنوی نے بھی ہندوستان پر نہیں کئے تھے جتنے شدید حملے مسلم لیگ (ن) کے کارندوں اور ترجمانوں نے جے آئی ٹی پر کئے۔ اس کا اظہار میں اپنے گزشتہ کالم میں تفصیل کے ساتھ کر چکا ہوں کہ جے آئی ٹی پر ہونے والے حملوں کی تعداد لاتعداد ہے اور یہ سلسلہ تابوتوں سے لے کر حزب مخالف کا آلہ کار بننے تک پھیلا ہوا ہے۔ بقول شاعر
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
اور تو اور ٹی وی اسکرینوں سے گزرتے ہوئے اور اس شام غریباں کا ماتم سنتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے تجربہ کار اور فن کار سیاسی کارکنوں میں وفاداری کے حوالے سے بازی لے جانے کا مقابلہ جاری ہے۔ کیا نہال ہاشمی، کیا طلال صاحب، کیا دانیال صاحب، کیا خواجگان صاحب، کیا عابدصاحب، کیا رانا صاحب اور کیا چھوٹے موٹے کارکن ”حضور“ اور اُن کے خاندان کی مدح سرائی میں غرق ہوئے بیٹھے ہیں ....یہ انتہا سمجھ لیجیے آپا دھاپی، نفسانفسی، بے شرمی، خوشامد، چاپلوسی، قصیدہ گوئی، رشتوں کی بے حرمتی و بربادی، افسردگی، مایوسی، ہیراپھیری، دھوکہ، فریب، نااہلی، تشدد، جارحیت، نمود ونمائش و اسراف، رشوت ستانی، دروغ گوئی، حق پوشی، ضمیر فروشی، بے انصافی، نامرادی، بہانہ سازی، تکبر، غرور اور کام چوری کی کیوں کہ اس سے زیادہ ملک و قوم کے ساتھ نا نصافی ہو نہیں سکتی کہ آنکھوں سے دیکھ کر بھی زہر پلایا جارہا ہے۔
خیر جو بھی ہے عوام کو نچوڑنے والے سیاستدانوں کو پیشی پر مجبور کر دینے کا سہرا بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے سر جاتاہے اس کے ساتھ ہی یہ ایک زیادہ اچھی او رخوش آئند بات ہے کہ بقول وزیراعظم انھیں اللہ کی عدالت کے سامنے پیش ہوکر جوابدہی کی فکر لگی رہتی ہے، اگر واقعی ایسا ہی ہے اور اگر ہمارے تمام حکمراں اور ارباب اختیار دن میں صرف ایک دفعہ بھی اللہ کی عدالت میں پیشی کا تصور بھی کرلیں تو پھر یہ ملک حقیقی معنوں میں جنت نظیر بن سکتا ہے،اگر وزیر اعظم نواز شریف واقعی اللہ کی عدالت میں پیشی کے بارے میں فکر مند ہوجائیں تو انھیں سینکڑوں سیاسی رہنماﺅں اور جے آئی ٹی کے اراکین کی جاسوسی کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حسین نواز سے شروع ہونے والی ہمدردی کی لہر کو منطقی انتہا تک پہنچا کر وہ انتخابی سال میں نہ صرف سرخرو ہوں گے اور انتخابی مہم میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔ بلکہ اس سے انہیں سپریم کورٹ پر حملے کے داغ کو دھونے میں بھی مدد ملے گی اور عوامی جلسوں میں اپنی بے گناہی کا مقدمہ پیش کرنے میں بھی کامیابی ہوگی۔ کچھ معتبر تجزیہ نگار اور نامور سیاستدان بار بار کہہ رہے ہیں کہ میاں نوازشریف بند کمرے میں داخل ہو چکے ہیں، ان کے پاس نکلنے کا کوئی راستہ نہیں، اب وہ سزا سے بچ نہیں سکتے۔ ہر کوئی اپنی اپنی ذہانت اور ضرورت کے گھوڑے دوڑا رہا ہے۔ اور جب وہ کڑھی دھوپ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اصل جے آئی ٹی اگلے سال لگے گی۔ جس میں 20 کروڑ عوام فیصلہ دیں گے۔اب 20کروڑ عوام کیا فیصلہ دیں گے یہ تو وقت سے پہلے کوئی نہیں بتا سکتا، مگر ان کے ادوار میں جو عوام پر ظلم ہوئے اُس کا احتساب ضرور ہونا چاہیے، کرپشن کا احتساب ضرور ہونا چاہیے ورنہ اس عوام پر ظلم ہوتا رہے گا بقول شاعر
چھلک پڑیں میری آنکھیں کہ درد گہرا تھا
نہ جانے کب سے یہ پانی یہاں پہ ٹھہرا تھا
اگلے انتخابات میں حکمران جماعت کی کامیابی کی نوید اپنی جگہ مگر میں ایک عام آدمی کی طرح وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں کہ کرپشن سے لتھڑے پاکستان کا یہ گند جس نے ہماری گورننس، ہمارے ر یاستی ڈھانچے اور ہمارے عوامی خدمت کے اداروں کو برباد کردیا اسے صاف کرنے کے لئے آپ نے کوئی ایک سنجیدہ قدم بھی آخر کیوں نہیں اٹھایا؟ اب آپ کے”اعتراف حقیقت“ کے بعد تو یہ دعویٰ بھی ختم ہوگیا کہ آپ کے جاری دور میں کوئی کرپشن ہی نہیں ہورہی۔ یہ جو ترقیاتی پروجیکٹس اور اداروں کے ریکارڈ جلتے ہیں۔ یہ جو ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات عوام سے چھپائی جاتی ہیں پٹرول نمایاں سستا ہونے کے بعد یہ جو ملک میں بجلی اس قدر مہنگی ہے اور ناپید بھی یہ جو ارب ہا کے لائف سٹائل میں رہنے والوں کا شرمناک ٹیکس ریکارڈ ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہے؟ اور یہ جو تھانہ کچہری کلچر عوام کے حقوق بھی کرپشن کے عوض دیتا ہے اور انہیں خود بھی کرپٹ کئے جارہا ہے۔ اس کے خلاف قانون، اداروں کی اصلاح اورانتظامی اقدامات کس نے کرنے ہیں؟ اپوزیشن نے، ترقی کے دشمنوں نے، ملک کے بیرونی دشمنوں یا آپ جیسے ترقی کے علمبرداروں نے، عوام کے منتخب نمائندوں نے، عوام کے بااختیار خادموںنے؟ بے شمار کرپشن روکنے کے لئے ای گورننس کا جاندار، ہمہ گیر اور سائنٹفک ماڈل کی تشکیل اور امانت کے طور اس کا اطلاق ہی کافی تھا۔
صرف اشتہاری مہمات کے لئے چند بے جان ڈھلے ڈھالے پروجیکٹ؟ جن کا کوئی نتیجہ نہیں۔ صنعتکاروں،بڑے تاجروں اور پرتعیش لائف سٹائل والے اہل سیاست، بابوﺅں، جرنیلوں، ججز اور پراپرٹی ٹائیکونز سے بمطابق ٹیکس وصولی کے لئے کوئی ایک قدم بھی اٹھایا گیا۔ قرضے اور عوام پر ٹیکس در ٹیکس سے ان کی ادائیگی۔ آپ کا طائر لاہوتی کہیں نظر نہ آیا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لے کر ورلڈ بینک کے تباہ کن قرضوں تک کشکول ہی کشکول نظر آرہے ہیں۔جبکہ حقیقی ترقی کہیں نظر نہیں آرہی۔
میرے خیال میں حقیقی ترقی آئندہ آنے والے الیکشن میں نہیں بلکہ سسٹم میں ہے اور سسٹم اُسی وقت بن سکتا ہے جب کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے، آج سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ساری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے، حکمران سازش کا الزام لگا کر فوج اور سپریم کورٹ پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں، یہی دو ادارے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہیں باقی سارے تو مفلوج ہوچکے ہیں۔ آج جے آئی ٹی پر بڑے حملے کیے جا رہے ہیں، مخصوص ٹولہ جے آئی ٹی کو رشوت دینے میں ناکام ہوگیا ہے، جے آئی ٹی حکومت کے دبا ﺅ میں نہیں آئی جس کے باعث تمام سرکاری محکمے مل کر جے آئی ٹی کو ناکام بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ آج اگر سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی سماعت میں نواز شریف کو تحقیقات مکمل ہونے تک مستعفی ہونے کا حکم دے دے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ 80فیصد مشکلات ختم ہو سکتی ہیں۔بات پانامہ سے نکلی تھی اور اگلے انتخابات تک ختم ہونے جا رہی ہے،نتیجہ کچھ بھی ہو مگر قومی مفاد میں ہونا چاہیے اور اگر جے آئی ٹی بھی کسی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام ہوگئی اور حکمران پھر بچ نکلے تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہو گا جس کا وقت، پیسہ اور مستقبل تباہ کردیا گیا۔