کوئی میری فریاد سنے

19 جون 2017
کوئی میری فریاد سنے

جناب چیف جسٹس فریاد سنیں ”قوم کی مظلوم 3 بیٹوں کی پکار سنیں کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں، کوئی حکمران نہیں، کوئی سیاستدان نہیں، کوئی جرنیل نہیں اور ہمارے وزیر داخلہ، چودھری نثار جس کی بنیادی ذمہ داری ہے ہمیں ’اس قوم کوتحفظ فراہم کرنا‘ ان کے ماتحت ادارے تو آپ کی تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں شہباز شریف کے پایہ تخت، لاہور پر سکتہ طاری ہے کہ سبزہ زار کے علاقے میں دکھیاری ماں اپنی لٹ پٹی بچی کو ڈھونڈنے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے شائد اس کی فریاد تہمینہ درانی تک نہیں پہنچی کہ وہ اس کی داد رسی ضرور کرتی جناب چیف جسٹس بظاہر یہ المناک اور انسانیت سوز تین مختلف واقعات ہیں لیکن کردار ایک ہے قوم کی بیٹی ’جس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں‘ ذرا اپنی بیٹیوں کا تصور کریں اور ان مظلوموں کے چہروں میں ان کا پرتُو تلاش کریں۔
ایک مجبور اور لاچار بھائی، مسکین اور بے نوا نوجوان محمدسعود حکومت کو، انسانی حقوق کے تحفظ کے اداروں کومددکے لئے پکاررہا ہے ایک دو دن سے نہیں، کامل چھ برس سے، جس میں ایم اے ایم کی اسلامی حکومت کے بعد اب تحریک انصاف کی انقلابی حکومت کے ادوار بھی شامل ہیں شیرو گاو¿ں تحصیل کٹلانگ کا رہائشی سعود فریاد کررہا ہے کہ گزشتہ چھ برس سے ایک بدقماش رب نواز عرف نواز خان نے میری بہن کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اس نے پختون قدیم روایت اور ثقافت سے جڑی ظالمانہ اورغیرانسانی رسم گھاگ یاآوازہ کے تحت دعوی کیا تھا کہ وہ میری بہن کو پسند کرتا ہے اوراس سے شادی کرنا چاہتا ہے اس لئے کوئی اوراس لڑکی کے لئے پیغام نہیں بھجوائے گا جس کے بعد اس ظالم شخص نے گذشتہ چھ برس کے دوران تمام پیغامات بھیجنے والوں کو ڈرا دھمکا کر بھگا دیا اب یہ بدمعاش کسی مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے لیکن حوالات سے ہمارے خاندان کوجان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے سعود نے حکومت سے اپیل کی کہ میرے خاندان کو تحفظ دیا جائے اورمیری بہن کو گھاگ یا آوازہ کی ظالمانہ رسم کی بھینٹ چڑھنے سے بچایاجائے، یہ سب کچھ کسی دور افتادہ قبائلی علاقے میں نہیں مردان میں ہو رہا ہے ہر وقت قوم کو روشن خیالی اور عظیم پختون کلچر پر لیکچردینے والے دانشور اس ظلم پر خاموش ہیں آسمان پھٹ رہا ہے نہ زمین شق ہورہی ہے۔
اے کاش آج کوئی قاضی حسین احمد ہوتا تو کرباٹھ بپا کر دیتا اپنی اس پختون بیٹی کا سر ڈھانپتا اسی طرح جناب شہباز شریف کے پایہ تخت لاہور میں اس سے بھی بڑا سانحہ ہو چکا ہے دکھیاری ماں بے صدا ہچکیوں کے ساتھ مختلف دروازوں پر دستک دے رہی ہے انصاف کے لئے دہائیاں دے رہی ہے لیکن کوئی سننے والا نہیں، سب گونگے بہرے ہو چکے ہیں۔ تھانہ سبزہ زار کے علاقے میں نشے کا عادی شوہر اپنی بیوی کو جسم فروشی پر مجبور کرتا ہے انکار پر مار پیٹ کر کے گھر سے نکال دیتا ہے اور دونوں بیٹیوں کو ماں سے چھین کر اپنی قید میں کر لیتا ہے چند دن پہلے ماں کو بڑی بیٹی فون پر بتاتی ہے کہ کس طرح بے غیرت اور ظالم باپ نے اپنے کسی حالی موالی کو بلا کر اس کے ساتھ گینگ ریپ کیا ہے دونوں درندوں نے مل کر اس بچی کی عزت پامال کی ہے تھانہ سبزہ زار کا تھانیدار صرف اس لئے پرچہ درج کرنے سے انکاری ہے ”شہباز سپیڈ“ کو بھگتنا ہو گا اب وہ دکھیاری ماں عدالتوں کے بنددروازوں پر دستک دیتی پھر رہی ہے جس معاشرے میں باپ اپنی سگی بیٹی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنائے جہاں جوان بچی کو مسلسل چھ برس سے غیر انسانی روایات کی صلیب پر چڑھا دیا گیا ہو، کیا اسے انسانوں کا سماج قرار دیا جا سکتا ہے۔
آج اتوار کے ایک معاصر میں جناب عبدالروف نے اسی طرح کے ڈکیتی کے سانحے کا ذکر کیا جس میں ڈکیتی کے دوران جوان بچی کونشانہ بنایا جاتا ہے۔ مظلوم باپ ایف آئی آر میں بچی سے زیادتی کا ذکر نہیں کرتا کہ خاندان کی عزت بیچ چوراہے نیلام نہ ہو وہ بچی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا پرچہ درج کرانے پر اصرار کرتی ہے تھانیدار بھی اس مظلوم کو ”سمجھاتا“ ہے کہ تمہارے والد نے سوچ سمجھ کر مقدمہ درج نہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا تم خاموش ہو جا¶ اور گھر جا¶، اس بچی کے اصرار پر وہ درخواست لے کر رکھ لیتا ہے اور وہ ڈاکو چند دن بعد دوبارہ اس گھر میں گھس آتے ہیں اس بارصرف وہ مظلوم بچی ان کا نشانہ بنتی ہے خون کے آنسو روتے ہوئے اس کے والدین اپنی بیٹی کوسمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ ڈاکو ہم سے بہت طاقتور ہیں اسی لئے تمہیں سمجھایا تھا کہ اس واقعہ کوبھول جا¶ ر¶ف لکھتے ہیں کہ.... وہ اگلے روز اپنے بھائی کے ساتھ ڈی آئی جی کے دفتر کے باہر دکھائی دیتی ہے وہ سوال کرتے ہیں کہ اس بچی کا رویہ درست ہے یا پھر اس کے مظلوم والد کاجو اسے خاموش کرانا چاہتے تھے یہ توبے چہرہ اور نامعلوم ڈاکو¶ں کامعاملہ ہے ویسے یہ درندے اتنے بھی بے چہرہ نہیں ہیں کہ متعلقہ تھانیدار ہی نے تو انہیں مظلوم بچی کی ”دیدہ دلیری“ کی اطلاع دی تھی لیکن مردان کے سعود کا انسانیت سوز المیہ کوئی ڈھکا چھپامعاملہ نہیں ہے جس میں ایک بدقماش عفت مآب بچی کی مسلسل چھ برس سے زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے اورکے پی کے کی تحریک انصاف کی انقلابی حکومت، یہ عمران خان اوران کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی اس بچی کوانصاف فراہم نہیں کرا سکے، اس کا مظلوم اور بے بس بھائی انصاف کے لئے دہائی دیتا پھر رہا ہے۔ پتھر کے دور کی غیر انسانی اور ظالمانہ رسم گھاگ کے بارے میں ایک دوست اخبار نویس سے دریافت کیا تو انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گھاگ کو آوازہ بھی کہتے ہیں یہ رسم صرف بے کس، بے بس اوربے نوا پشتونوں پر لاگو کی جاتی ہے جن کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا لیکن اس طرح کی غیر اسلامی اور غیر انسانی رسوم کو عموماً چھپایا جاتا ہے وہ اے این پی کے روشن خیال ہوں یا مولانا سمیع الحق کے دارلعلوم حقانیہ کے قدامت پسند پیروکار، وہ فضل الرحمان کے خالصتاً سیاست کار یا پھر جماعت اسلامی کے اسلامی انقلاب کے دیوانے سب گھاگ یاآوازہ جیسی بھیانک حقیقتوں سے نگاہیں چراتے ہیں ورنہ اپنی مظلوم بہن کے لئے انصاف کی دہائیاں دینے والا نوجوان مردان شہر میں کھڑا ہو کر واویلا کر رہا ہے وہ کوئی دوردراز قبائلی علاقے میں تو نہیں ہے کہ جہاں پاکستان کا آئین اورقانون لاگو نہیں ہے رونا تو یہ ہے کہ سب کچھ اخبارات میں شائع ہونے کے بعد بھی کسی کو غیرت نہیں آئی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی کہاں ہیں بات بے بات پر پریس کانفرنسیں کر کے ساری قوم کے کان کھانے والے چودھری نثار؟ کیا قوم کی مظلوم بیٹیوں میں انہیں اپنی بیٹی کا چہرہ دکھائی نہیں دیتا، کہاں ہیں ہر وقت پاناما، پاناما کا کھیل کھیلنے والے عمران خان کیا وہ کے پی کے کی مظلوم بیٹی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھ سکتے۔ اس المناک صورت حال میں صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی آخری اُمید رہ جاتے ہیں۔
انصاف کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں جناب چیف جسٹس صاحب، جناب ثاقب نثار صاحب کراچی سے لاہور اور مردان تک قوم کی بچیوں کے خلاف ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر دادرسی کریں، یہ پاناما، یہ تلاشی اور سب کھیل تماشے، چلتے رہیں گے لیکن کون ہے جو قوم کی مظلوم بچیوں کو انصاف دے گا۔
گزشتہ شب سے صرف یہی سوچے جا رہا ہوں کہ یہ سب کچھ کراچی اور لاہور جیسے تہذیب و تمدن کا نشان شہروں میں ہو رہا ہے تو دُور اُفتادہ بلوچستان، سرزمین بے آئینی قبائلی علاقہ جات، فاٹا اور پاٹا، سندھ کی گوٹھوں، پنجاب کے دُوراُفتادہ دیہات میں کیا اندھیر نگری مچی ہو گی۔ دُشوار گزار اور دور دراز بسنے والے اُفتادگان خاک کا کون والی وارث ہو گا۔ اب آخری سہارا تو آقا و مولاہی ہیں
اے خاصہِ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تیری عجب وقت آن پڑا ہے