اناڑی اب بنا کھلاڑی!

19 جون 2017

جس طرح بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں، ٹھیک اسی طرح بڑے بڑے لوگوں کے ذہنوں میں چھوٹی چھوٹی حرکتیں بھی پلتی رہتی ہیں۔ یہی تو وجہ ہے کہ پیش منظر جمہوریتوں کے پس منظر میں آمریتیں بھی موجیں مارتی دکھائی دیتی ہیں!
میں تو حیران رہ گیا ہوں ان کی 18 برس عمر کا بڑھاپا دیکھوں یا پچھلی عمر کی جوانی پر غور کروں؟ آپ نے اپنی سیاست کا آغاز کھیل چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد کیا سیاست میں جب قدم رکھا، تو کوئی پوچھنے والا نہیں ملتا تھا۔ دائیں ہاتھ سے پکڑ کر خوش قسمتی اور بائیں ہاتھ سے پکڑ بدقسمتی جنرل پرویز مشرف کے دربار پر لے گئی۔ پھر اسی درگاہ کے لئے ریفرنڈم کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ پھر بھی کچھ نہ بنا۔
الیکشن 2002ءاور الیکشن 2008ءمیں عبرت ناک اورشرم ناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی کامیابی کا زینہ اس وقت نصیب ہوا جب زرداری صاحب صدارتی سنہری پنجرے میں پابند صدارت ہو گئے اور گیلانی صاحب ایوان وزیراعظم میں کھو گئے۔ آپ نے پھر عروج پکڑنا شروع کر لیا اور ”نیا پاکستان“ کا فلک شگاف نعرہ لگانے اور مارنے کا آغاز کر دیا گیا۔ اس نعرے نے اس وقت دوام پکڑا جب 2013ءکے بعد ”میاں اعظم“ کو ہیوی مینڈیٹ نے وزیراعظم بھی بنا دیا۔ پھر محبت بھرے اشارے نے دھرنوں کو جنم دیا۔ لوگ دما دم مست قلندر والوں کو بھول گئے اور دما دم دھرنا والے چھاتے گئے۔اس دوران اللہ بھلا کرے مشیران میاں کا کہ وہ غلطیاں کرتے گئے اور ”آپ“ پھرتیاں پکڑتے گئے۔ حکومتی مرض بڑھتا گیا جوں جوں دانیال و طلال اور پرویز رشید و مریم اورنگزیب جیسے مریضوں نے دوا کی اور مولانا فضل الرحمن و مولوی قاسمی و مولوی غیر صالح نے دعا کی۔ یہاں تک تو تحریک انصاف کی پھرتیوں پر مشتمل کہانی ہے۔ پھر پاناما نے جنم لیا تو پانامیوں اور سونامیوں میں لفاظی اور تباہی کی جنگ چھڑ گئی جسے دنوں پارٹیوں نے جمہوری جنگ قرار دیا۔ پھر وہ ہر چیز ہی جائز ہوئی جو محبت اور جنگ میں ہوا کرتی ہے!
یوں ”آپ“ کے دن بدلے، نصیب بدلا اور ترتیب بدلی، بلاول کے۔ انکلز اور زرداری کے سابقین اور چاپلوسوں نے ذاتی کشتی کو سوراخ کرنے کے بعد تحریک انصاف کی کشتی میں چھلانگیں لگا دیں۔ یہ کشتی ، اب کشتی رہی نہ ”تحریک“ انصاف بلکہ بحری بیڑہ بن گیا اور یار لوگوں نے اس پی ٹی آئی آف پاکستان تحریک انصاف کو پیپلز تحریک انصاف کا مبارک اور مکرمی نام سے پکارا اور ”آپ“ نے بھی اناڑی سے کھلاڑی (سیاسی کھلاڑی) بنتے ہوئے سوچا، چلو ”نیا پاکستان“ نہیں تو ”پرانا پاکستان“ ہی سہی
ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
ہم نے سیاست کے تو کئی داﺅ پیچ دیکھے لیکن اپنے قبیلے کے بھی کیا کہنے، وہ قلم کار جو بھٹو سے زرداری تک فریقتہ ہی فریقتہ تھے۔ اب ان کا رخ جب دونوں طرف کی افطاریوں اور پھلکاریوں کی جانب دیکھا تو جان کی امان پا کر پوچھا کہ ماجرا کیا ہے۔ آواز آئی اناڑی بنا کھلاڑی، اب کیا بھاری اور کون زرداری؟ گویا دیکھی ہم نے قلم کاروں میں سیاست کاری اور سیاست کاروں میں ”اینکر کاری“ ایسے جیسے کاروکاری، ہم چپ ہو گئے یہ آوے کا آوا دیکھ کر اور سمجھ یہ آئی کہ یارو! میاں صاحب کے معاملات کم ہیں اور بغض کے حالات زیادہ!!!!
راقم یکم رمضان المبارک (1438ھ) سے خانس پور (پنجاب یونیورسٹی) کیمپس نزدایوبیہ و نتھیا گلی ضلع ایبٹ آباد میں ہے اور آخری روزے تک قیام کا پروگرام ہے اور پھر لاہور واپسی اس حوالے سے جب ہمارے ایک پرانے کولیگ اور ایف سی کالج یونیورسٹی کے استاد و ڈاکٹر عتیق انور کو معلوم ہوا تو انہوں نے بندہ ضائع ہو جائے مگر جملہ نہیں کے مصداق ہمیں نشانہ بنایاکہ ”سرکار! آپ بھی عمران خان کی طرح ”لڈو“ کھیلنے نتھیا گلی گئے ہیں تو ہم نے جواب عرض کیا کہ ”حضور! ہم ؟؟لڈین“ نہیں ”میثاقین“ ہیں اب نجانے ان کی تسلی ہوئی کہ نہیں لیکن ان کی تسلی کے لئے ایک اور عرض کر دیں کہ ، لڈو کی فتح اور سیاسی شطرنج کے مہروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جتنے بھی لوگ پی ٹی آئی میں پی پی پی کے آئے ہیں یہ رکنے کے لئے نہیں آئے یہ بے چارے تو مسافر ہیں، میں نے تو کل پرسوں گوجرانوالہ سے آنے والے سابق وفاقی وزیر مملکت اور پنجاب کے سابق پی پی پی صدر کو پچھلے ہفتے کہہ دیا تھا جلدی کریں کہیں گاڑی چھوٹ نہ جائے بلکہ پی پی پی کے دیگر چن تاروں کو بھی کہا تھا جلدی کریں۔ پی ٹی آئی کے دریچے کھلتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ بہر حال کل بھی ”محتاج“ تھے اور آج بھی ہیں۔ یہ لوگ از خود بھٹو، شریف یا عمران خان تو بن نہیں سکتے لہٰذا ٹکٹ کی محتاجی در در کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ حلقوں میں اتنے ہی معتبر ہوں تو آزاد الیکشن کیوں نہیں لڑ لیتے۔ میاں شہباز شریف نے جے آئی پیشی کے اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہاں کمپنی کی مشہوری کے لئے باتیں کی وہاں حال ہی میں پی پی چھوڑ کر تحریک انصاف میں جانے والے سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کا خصوصی ذکر خیر کیا اور اربوں کی کرپشن کا الزام لگایا۔ الزام کیا، نذر محمد گوندل جب وزیر تھے ان کے بھائی میجر (ر) ذوالفقار گوندل پارلیمانی سیکرٹری اور ایک بھائی جناب ظفر گوندل کسی ادارے (غالباً اولڈ ایج بینیفٹ) کے چیئر مین تھے۔ انہی چیئر مین صاحب پر کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ زیر حراست ہیں۔ جہاں تک گوندل خاندان کی سیاسی اور سماجی حیثیت کا معاملہ ہے یہ اپنی جگہ پر وضع دار او وفادار کنبہ ہے اور پی پی سے ان کا مضبوط رشتہ تھا میرا خیال ہے ان کا پی ٹی آئی میں اس طرح دل نہیں لگے گا جس طرح دیگر کا لگے گا۔ بہر حال سیاسی داﺅ پیچ سے تو یہ بھی آشنا ہیں لہٰذا جو بات وزیراعلیٰ پنجاب نے کی ہے تو اس کے حوالے سے یہ آرام سے کہہ دیں گے کہ ہم نے جو کیا آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے کہنے پر کیا۔ معاملہ ختم، ویسے بھی گوندل خاندان سے کون پوچھے گا کہ کرپشن کے حوالے سے کیا سچ ہے کیا جھوٹ۔ ”آپ“ نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ ہر بڑے سیاستدان کے لئے دروازے کھلے ہیں مجھے پی ٹی آئی کے سربراہ کے حوالے سے ایک قریبی شخص نے بتایا کہ ”آپ“ کا خیال ہے کہ ہر جیتنے والا بندہ آ جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نظام تو جیت کر میں نے ٹھیک کرنا ہے۔ پھر یہ مثال بھی ”آپ“ دیتے ہیں کہ ”مہاتیر محمد (آف ملائیشیا) کو لوگ جانتے ہیں۔ نیچے کون کسی کو جانتا ہے۔ خیر مہاتیر محمد بننا اتنا آسان نہیں ہے۔ میں بھی تین ہفتوں سے کے پی کے میں ہوں یہاں تو کہیں کوئی مہاتیری نظر نہیں آتی۔ وزیر تعلیم (ہائر ایجوکیشن) و اطلاعات مشتاق غنی اور وزیرصحت شہرام تر کئی کی موبائل رنگ سنیں تو تبدیلی آ گئی ہے کی آواز آتی ہے۔ مگر دونوں کی نہیں پنجاب کے وزیر تعلیم رضا علی گیلانی ہوں یا رانا مشہود یا پھر وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق یہ احباب اور میڈیا کو کارکردگی دکھانے کے لئے ہر دم تیار دکھائی دیتے ہیں حتیٰ کہ پنجاب کے وائس چانسلرز بھی ۔لیکن کے پی کے میں ایبٹ آباد یونیورسٹی، کامسٹ یونیورسٹی ایبٹ آباد اور ہزارہ یونیورسٹی جو مشتاق غنی کے اپنے شہر کی ہیں ان کے وائس چانسلرز کے پاس دکھانے اور بتانے کے لئے کچھ نہیں، یا کوئی اندر کا چور ہے کہ یہ میڈیا سے بھاگتے ہیں۔ یہ ہے کے پی کے کی مہاتیری؟ مجھے بھی کبھی کے پی کے خوش فہمی تھی جو نہیں رہی!
چلتے چلتے یہ بتا دیں کہ کچھ بھی نہیں ہونے والا میاں برادران کہیں نہیں جا رہے۔ الیکشن 2018ءاپنے وقت اور مجوزہ فریم ورک کے ساتھ ہوگا۔ کانٹے دار مقابلے ہوں گے لہٰذا سب تیاری کریں۔ ہو سکتا مفاد پرست سیاستدانوں کو عوام کافی حد تک مسترد بھی کر دیں۔ میرا ذاتی خیال ہے بالکل ذاتی، وہاں 2 اور 3 کے تناسب سے فیصلہ آ جائے گا اور معاملہ نیب کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔ تسلی رکھیں! باقی واللہ عالم بالصواب ۔رہی باتیں شہباز شریف کی وہ جو بعد از جے آئی ٹی ”تفتیش “ سامنے آئی ہیں وہ محض سیاسی باتیں تھیں ان کی ملیں ضیاءالحق نے واپس کرا دی تھیں۔ ان کا سیف الرحمن بھی بے نظیر بھٹو کے خلاف فضول حرکتیں کرتا رہا ہتھکڑیاں اور پھانسیاں یا جیلیں جو پی پی پی نے بھگتی ہیں وہ شریف خاندان سوچ بھی نہیں سکتا۔ مشرف نے احتساب نا مکمل چھوڑ دیا تھا کیونکہ سعودی عرب نے معافی تلافی کرا دی تھی ۔ باقی سب افسانے ہیں تیسری طرف زرداری صاحب نے خود اپنی پارٹی کو پنجاب میں اپنی عدم دلچسپی کے سپرد کر رکھا ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو پارٹی چھوڑ کر گیا ہے اس کا مخالف ہماری طرف آ جائے گا۔ بد قسمتی سے نوجوان 1960 تا 2017ءتک کی تاریخ سے نا آشنا ہیں عوام بے چارے بھولے ہیں حالانکہ میاں برادران، زرداری صاحب اور ”آپ“ میں سیاسی طور پر انیس بیس کا بھی فرق نہیں رہا۔ تبدیلی آئے گی، تو اس وقت جب عوام اپنے مقامی نمائندے کی تحریک اور تاریخ جانچ کر اسے اسمبلی تک بھجوائیں گے!