جعلی مشروب ساز فیکٹری سیل، مالکان کی محکمہ فوڈ کی ٹیم پر فائرنگ

19 جون 2017

لاہور + فیروزوالا (نیوز رپورٹر+ نامہ نگار) پنجاب فوڈ اتھارٹی کاناقص اور غیر معیاری خوراک بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیر خوراک بلال یسین اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے مختلف سحری پوائنٹس کی چیکنگ کی سرپرائز چیکنگ کی۔ لاہور کے معروف علاقے ایم ایم عالم روڈ پر فیٹ برگر کو سیل جبکہ ہارڈیز کو جرمانہ کیا گیا۔ ہارڈیز ریسٹورنٹ کو ایک لاکھ جرمانہ، سالٹ اینڈ پیپر ریسٹورنٹ کو گزشتہ ہفتے ڈی سیل کرنے کے بعد دوبارہ چیکنگ کی گئی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنے پروزیر خوراک بلال یٰسین نے ریسٹورنٹ انتظامیہ کو شاباش دی۔ اس موقع پر بلال یٰسین نے کہا کہ صارفین کو صاف اور صحت مند خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایک دو نہیں بلکہ 3 شفٹوں میں کام کر رہی ہے۔ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے ویژن کے مطابق عوام کوصحت مند خوراک کی فراہمی کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹیم پر چھاپے کے دوران فائرنگ کی گئی اور ڈرایا دھمکایا گیا تاہم ٹیم نے کام جاری رکھتے ہوئے جعلی بوتلیں تیار کرنے والی فیکٹری سیل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق کامران پارک، بارہ دری روڈ کے علاقے میںپنجاب فوڈ اتھارٹی ٹیم نے جعلی بوتلیں بنانے والی فیکٹری پر رات گئے چھاپہ مارا تو جعلی بوتلیں تیار کرنے کا کام جاری تھا۔ فائرنگ کا واقعہ کی اطلاع ملنے پرڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے موقع پر پہنچ کر کاروائی مکمل کروائی۔ موقع پر موجود 4 لاکھ بوتلوں کا سٹاک ضبط کر لیا گیا۔ فیکٹری سے اب تک 33 لاکھ 7 یزار جعلی بوتلیں تیار کر کے فروخت کی جا چکی ہیں۔ فروخت کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر خریداروں کی تحقیقات شروع کر دی گیں ہیں۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید بتایا کہ فیکٹری کا تمام سامان اکھاڑ کر ضبط کر لیا گیاہے۔ فوڈ اتھارٹی حکام نے لاہور روڈ کی آبادی جوئیاں والا کے قریب جوس فیکٹری میں چھاپہ مار کر ناقص جوس بھاری مقدار میں برآمد کر لیا۔ فیکٹری سیل کر دی۔ مالک فرار ہو گیا۔ پولیس نے اس ضمن میں فیکٹری مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔