نئے پاکستان کیلئے فردوس اعوان کا نیا سیاسی سفر

19 جون 2017

سیاست میں کوئی شے حرف آخر نہیں ہوتی۔ بس یوں تصور کر لیں کہ رات گئی بات گئی بات والا معاملہ ہوتا ہے سیاسی مہرے اپنا نظریہ اور سمت کب اور کس وقت تبدیل کر لیں اس مشکل ترین کھیل کا سب سے الجھا اور دشوار کن پہلو ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ ”ولات نامہ“ میں آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کی ڈسٹرکٹ کونسل کی سابق رکن پیپلز پارٹی کی سابقہ جیالی اور ماضی میں مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی ادوار میں دو مختلف وزارتوں کا قلمندان سنبھالنے والی محترمہ ڈاکٹر فردوس اعوان کی اب کی بار ممکنہ نئے پاکستان کی خالق جماعت تحریک انصاف میں ”گج وج“ کے شمولیت اور ان کے اس نئے سیاسی سفر کا حال احوال آپ سے ضرور شیئر کروں گا یہ وعدہ اس مرتبہ پورا کرنے جا رہا ہوں۔
ڈاکٹر فردوس اعوان سے میری پہلی ملاقات ان کے پنڈ کو بے چک میں سیالکوٹ انٹرنیشنل ائرپورٹ کے بانی چیئرمین ایوان صنعت و تجارت کے سابق صدر اور گوجرانوالہ باسکٹ بال ڈویژن کے پریذیڈنٹ میاں ریاض کے ہمراہ ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ سے میری دوسری ملاقات کئی برس بعد اس وقت ہوئی جب وہ وفاقی وزیر اطلاعات تھیں۔
پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن برطانیہ کے 5 رکنی وفد کا میں حصہ تھا۔ اسلام آباد ان کے دفتر میں ہی ان سے ہماری ملاقات ہوئی۔ برادرم سہیل وڑائچ کی گلے ملنے کی عجز و انکساری اور ہمارے لئے مختص کی دعائیں اور مسکراہٹیں چونکہ ہمارے ساتھ تھیں اس لئے بغیر کسی پروٹوکول اپنے شہر کے اس وقت زیر تکمیل بین الاقوامی ائرپورٹ کے حوالہ سے دیہی اور شہری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی گئی رقومات، علاقہ کی ادھڑی سڑکوں کا جال اور ہر طرف پھیلی گندگی کے تعفن کے علاوہ پتلیاں چک اور گوہدپور تک گیس کی فراہمی کے بارے میں ڈاکٹر صاحبہ سے کچھ زیادہ ہی سوال کر گیا۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملاقاتوں پر اپنے وزیروں مشیروں سے ایسے سوال نہیں کرنے چاہئیں ایسے مواقع پر تو ان کی مدح سرائی اور ان کے حق میں قصیدے پڑھنے کی ادا کو پسند کیا جاتا ہے؟
ڈاکٹر صاحبہ نے سوالات تو بلاشبہ بڑی توجہ اور اپنی چادر اور دوپٹہ درست کرتے ہوئے سنے.... اپنی مسکراہٹوں میں کمی بھی نہ آنے دی مگر نہ جانے مجھے ایسا کیوں لگا جیسے دل ہی دل میں وہ یہ کہہ رہی ہوں کہ....
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
وزیر اطلاعات کا دوپٹہ سے اپنے سر کو ”کُٹ کُٹ“ کر ڈھانپنا مجھے اس وقت بھی اچھا لگا تھا اور آج جب وہ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں تو ان کے دوپٹہ اور چادر کو اور بھی زیادہ پسند کرنے لگا ہوں۔ عام سیاسی کارکن ہو یا وزیر عوام میں body language ہی درحقیقت وہ کمال ہے جس سے شخصیات کی فکر و نظر اور ان کی نظریاتی سوچ کا ادراک کیا جا سکتا ہے اور بلاشبہ یہ کمال ڈاکٹر صاحبہ میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے؟ پہلے انہوں نے مسلم لیگ ق چھوڑی.... جماعت کیوں چھوڑی؟ معلوم نہ ہو سکا پیپلز پارٹی جوائن کی.... پھر وزیر بن گئیں.... اس سیاسی عمل کیلئے لندن میں انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات بھی کی.... مگر جیالوں کی یہ پارٹی بھی انہیں راس نہ آئی.... اب ایک طویل خاموشی کے بعد اگلے دنوں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے یہ کہتے ہوئے کہ ”اپنی سیاست بچانے کیلئے انہیں اب تحریک انصاف میں آنا پڑا ہے؟
سوال یہاں اب یہ اٹھتا ہے کہ سابقہ ادوار میں دو مرتبہ وزارت کا قلمدان سنبھالنے والی ڈاکٹر فردوس اعوان کو اب آخر کون سے ایسے سیاسی خطرات لاحق ہو گئے تھے جن کی وجہ سے انہیں اپنی سیاست بچانا ناگزیر ہو گیا ہے؟ نتھیا گلی میں عمران خان سے کی جانے والی اپنی حالیہ ملاقات میں انہوں نے اپنے آپ کو تحریک انصاف کا ادنی سپاہی بھی قرار دیا ہے تاہم ڈاکٹر صاحبہ کو یہ اصول سیاست یاد رکھنا ہو گا کہ میدان سیاست میں جنگ وہ سپاہی جیتتا ہے جواپنے نظریات کے انوکھے پن سے نہ گھبراتا ہو؟ ممکنات میں سے ہے کہ ”نئے پاکستان“ کے قیام سے قبل ہی ان کے نظریہ کی پارٹی کے اندر کارکنان ہی مخالفت شروع کر دیں.... یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی علاقائی قیادت ڈاکٹر صاحبہ کے نئے سیاسی سفر میں آنے کا اس طرح ساتھ نہ دے پائے جس طرح پی پی اور ق لیگ کے کارکنان نے دیا تھا۔
اب آئیے دیکھئے سیاست کا کرشمہ! ڈاکٹر فردوس اعوان 2002ءمیں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو جنہوں نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کیلئے مخصوص نشستیں بڑھا دیں اور اس کا فائدہ ڈاکٹر صاحبہ کو سیالکوٹ سے ضلعی کونسل کی رکن منتخب ہونے سے ہوا۔ ڈاکٹر صاحبہ جب رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تو اس وقت سیالکوٹ کے ہی چودھری امیر حسین سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو چکے تھے سپیکر چونکہ قائم مقام صدر کے فرائض بھی سرانجام دینے کا پابند ہوتا ہے اس لئے چودھری صاحب نے اپنے حلقہ میں ڈاکٹر صاحبہ کی سیاسی دال نہ گلنے دی؟ اور یوں وہ ان کے مقابلے میں ٹکٹ بھی حاصل نہ کر پائیں....
ان حالات میں انہوں نے اپنی سیاست بچانے کیلئے جھٹ سے لندن کا سفر کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کرنے کے بعد پی پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ درست وقت پر شائد ان کا یہ درست فیصلہ تھا 2007ءمیں پی پی میں شمولیت اختیار کی اور 2008میں وہی چودھری امیر حسین جو ان کی سیاسی دال گلنے نہیں دے رہے تھے ڈاکٹر فردوس کے ہاتھوں بھاری شکست سے دوچار ہو گئے.... اسے ہی تو سیاست کہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ وزیر اطلاعات بنا دی گئیں مگر 2013 ءمیں اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ کے مصداق جیالے ہی ان کی مخالفت پے اتر آئے اور یوں انہیں خاموشی اختیار کرنا پڑی۔
اب سیاست کا کرشمہ دیکھئے کہ وہی سابق سپیکر چودھری امیر حسین جو پہلے ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں.... جبکہ ڈاکٹر صاحبہ اب نوجوانوں کی اس جماعت میں شامل ہوئی ہیں حلقہ III کا انتخاب اگر ہوتا ہے تو ٹکٹ کیلئے عمران خان کس امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ تحریک انصاف میں تو ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ہمارے چودھری سرور جن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف چھوڑنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے، کہاں کھڑے ہیں ڈاکٹر صاحبہ اور چودھری امیر حسین کا آئندہ رول کیا ہو گا؟ سوالیہ نشان ہے۔ البتہ خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ عمران خان سیاسی کچرا اٹھانے میں مصروف ہیں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے بعد انہوں نے اب ڈمپر بھی حاصل کر لئے ہیں کرنٹ سے کم بیان نہیں۔