میاں نواز شریف کی اتنی مخالفت کیوں؟

19 جون 2017
میاں نواز شریف کی اتنی مخالفت کیوں؟

ہماری سیاست کی راہیں ہمیشہ سے ہی مشکلات کا شکار رہی ہیں۔سیاست دانوں کی اکثریت پر الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے لوگ سیاست میںآنے کے بعد راتوں رات سائیکل سے لینڈ کروزر تک پہنچ گئے۔جن کے پاس رہنے کو ذاتی گھر نہیں تھا آج ان کے پاس شہروں میں کئی پلاٹ کئی بنگلے ہیں اور اکثریت کی بیرون ملک دولت کے انبار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جب مشکلات سے گزر کے ملک کی خدمت کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے تھے بلکہ بھٹو صاحب ساری مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کامیاب پلاننگ کر چکے تھے۔ مسلم بینک کا قیام سمیت بہت سے مشترکہ منصوبے جس وقت تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن تھے۔ ہمارے دشمنوں نے ہمارے ساتھ کیسا کھیل کھیلا۔ ملک کے منتخب وزیر اعظم کو عدالتوں کے ذریعے پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔ اگر بھٹو صاحب کو مزید چار پانچ سال مل جاتے تو بہت حد یقین ہے کہ مسلم امہ کی حالت جو آج ہے۔ ا س کے بالکل الٹ ہوتی۔ آج کی مسلم دنیا آزاد ملکوں میں رہتے ہوئے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کی غلام ہے۔ اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے مقدس مقامات کے نگران آلِ سعود دراصل اس وقت مسلم دشمنی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں جرمن وزیر اعظم کا بیان سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا تھا کہ ہم شام کے مسلم مہاجرین کو اپنے ملک میں رکھنے کو تیار ہیں۔ مگر ان مظلوموں کے لیے مکہ اور مدینہ زیادہ نزدیک تھے۔ مگر یہ بات ہم سب کو پتہ ہے کہ جو سعودی حکومت امریکہ کے ایک اشارے پر اپنے پڑوسی ملک سے سفارتی تعلقات تک ختم کر سکتی ہے۔ وہ سعودی بادشاہ کیسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کر کے امریکہ کو ناراض کر سکتے ہیں۔ بات پاکستان کی ہورہی تھی مگر دل مظلوم مسلمانوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ اللہ ُان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان اس وقت عدالتوں میں اپنے کاروبار کا حساب دے رہا ہے۔ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے زیر اعتاب رہا ہے۔ بھٹو صاحب نے پتہ نہیں کیا سوچ کہ ملک کی صنعتوں کو نشینلائزڈ کرنے کی سوچی تھی۔جمہوریت کا چمپئین کہلانے والے بھٹو صاحب کے اس فیصلے نے پہلی بار ملک کے کاروباری طبقے کو اپنے مستقبل سے متفکر کردیا تھا۔ یہ ان کا ہی کارنامہ تھا کہ میاں شریف نے اپنا کاربار بیرون ملک شفٹ کرنا شروع کیا۔ اور ان جیسے بہت سے لوگ جو ملک میں کاروبار کر رہے تھے اپنا سرمایہ بیرون ملک لے جانے لگے۔ اس کے بعد یہ ایک راستہ بنتا چلا گیا کہ جن کے پاس کچھ پیسہ زیادہ ہوا وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے لگے۔ کہتے ہیں میاں صاحب پچھلے تیس سالوں سے اقتدار پر بیٹھے ہیں۔ اور ان کا سرمایہ کہیں سے کہیں پہنچ رہا ہے۔ یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ حکومت میں رہتے انہیں کچھ نہ کچھ فوائد مل جاتے ہوں گے۔ مگر کاروبار میں ترقی ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ جو لوگ کاروبار کو سوچ سمجھ کے کرتے ہیں انکے اثاثہ جات وقت کے ساتھ بڑھتے ہی رہتے ہیں۔مگر آج بات میاں صاحب کے دور اقتدار ہونے والے ملک کے اہم منصوبوں پر بات کرنا چاہتا ہوں۔موٹر وے جب بنایا گیا تو بہت سے نالائقوںنے اس کے خلاف باتیں کیں۔ طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے رہے۔ مگر وقت نے ثابت کردیا کہ بہتر نقل و حمل کے لیے ایسے منصوبے بہت ضروری تھے۔ اب میاں صاحب کے دور ِ اقتدار میں ملک کے طول عرض میں ایسے منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں۔ سڑکوں کا جال پھیلایا جارہا ہے۔ ان کی حکومت جب جب بنی انہوں نے ملکی ترقی کے لیے بہت سے اہم منصوبوں پر کام شروع کیے۔ یہ قوم پر ان کا احسا ن ہے کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو للکارنا شروع کیا ہوا تھا۔ اور دنیا بھر کے بڑے ملکوں کے حکمران پاکستان کو ایک طرف لالچ دے رہے تھے تو دوسری طرف کچھ ملک پاکستان کو صاف دھمکیاں دے رہے تھے۔ مگر میاں نواز شریف نے ہر دبائو کو پس پشت ڈال کے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو نہ صرف پہلا ایٹمی ملک بنا دیا بلک دشمن کو جتلادیا کہ اب اگر ہماری طرف میلی نظروں سے دیکھا تو ہم تمہاری آنکھیں نکال لیں گے۔ اور اگر کبھی ہم بھارتی میڈیا دیکھیں تو وہ خود اپنی قوم کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں سے ڈراتے نظر آتے ہیں۔ میٹرو بس سروس کو جنگلا بس کہا جاتا رہا ہے۔ مگر اگر کبھی کوئی ان بسوں میں سفر کرے تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ صبح سے رات گئے تک کتنے پاکستانی ان بسوں میں آرام دہ سفر کر رہے ہیں۔ اور اب تو میٹرو بس سروس روالپنڈی، ملتان میں کامیابی سے چلنے کے بعد پشاور میں بھی مکمل ہو رہی ہے کراچی میں بھی ایسی ہی سروس جلد مکمل ہو جائے گی۔ میاں نواز شریف کے گرد جو گیرا اس وقت تنگ کیا جارہا ہے اس کی وجہ دراصل سی پیک کا مکمل کیا جانا ہے۔ پہلے ہمارے دشمنوں نے ہمارے اپنے صوبوں کے درمیاں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر میاں صاحب نے کوشش کرکے دوسرے صوبوں کو اس منصوبے پر بہت حد تک راضی کر لیا ہے۔ چین کے تعاون سے یہ منصوبہ بہت تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ اور ساری دنیا اس منصوبے کو پاکستا نکی ترقی کی وجہ قرار دے رہی ہے۔ روس اور دوسرے بہت سے ملک اس منصوبے میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔ اس منصوبے سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو وہ امریکہ اور ہمارا اذلی دشمن بھارت۔ بھارت کے راہنما کھلے عام کہتے رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے کو پورا ہونے سے روکنے کے لیے ہر حربہ آزمائیں گے۔ وہ اس منصوبے کو ختم کروانے کے لیے جنگ تک کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ مگر یہ منصوبہ میاں صاحب کے ہی اقتدار میں مکمل ہونے جارہا ہے اور میاں صاحب ہر طرح کے دبا و کو برداشت کر رہے ہیں۔اور انشا اللہ بہت جلد یہ منصوبہ مکمل ہوکے دنیا کا کاروباری مرکز بنے گا۔ پاکستان کے لوگوں کے لیے کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ جس سے لاکھوں بیروز گاروں کو نوکریاں ملیں گی۔ اس وقت ملک میں بجلی کی حالت بہت بہتر ہے۔ بہت سے بجلی کے منصوبے زیر ِ تکیمل ہیں۔ لگتا ہے ہمارے دشمنوںکو اسی بات کی تکلیف ہے کہ اگر میاں صاحب اگلی دفعہ پھر عوامی طاقت سے اقتدار تک پہنچ گئے۔ تو اس ملک کی حالت بہتر سے بہترین ہوجائے گی۔ اور پھر ایسا ہوگا کہ یہ ملک ایک بار پھر مسلم امہ کا لیڈر بن کے سامنے آئے گا۔ میاں نواز شریف پر جتنے مرضی الزامات لگالیے جائیں مگر جو ترقیاتی کام میاں صاحب نے ملک میں مکمل کیے ہیں۔ کسی اور لیڈر نے نہیں کیے ہوںگے۔ یاد رکھیے ہمارے سروں پے گِدھ نوچ کھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایک طرف منتخب حکومت کو کمزور کیا جائے تو دوسری طرف فوج اور حکومت کے درمیان دوریاں پیدا کیں جائیں۔اگر ایک بار ہم کمزور ہوگئے تو ہمارا حال شام، عراق، لیبیا، افغانستان اور یمن سے بھی برا ہوگا۔ اس وقت ملک میں سیاسی افراتفری کی صورتحال پیدا کرنا دراصل دشمن کے ہاتھ مضبوط کرناہے۔ مگر میاں نواز شریف ڈٹے ہوئے ہیں۔ بے نظیر کی موت کے بعد میاں نواز شریف کے پائے کا اور کوئی لیڈر اس وقت ملک میں نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ دشمن طاقتیں میاں صاحب کو مقدمات میں الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔