”ہمیں اپنے فیصلے سے شدید اختلاف ہے“

19 جون 2017

یہ امریکہ ہے ۔ سوسل سٹی ڈسٹرکٹ کورٹ کا ایک کمرہ عدالت تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ 55سالہ خوفزدہ بیمار بیوہ سوسن رائس کٹہرے میں کھڑی تھی ۔ گھر چلانے کیلئے اسے روزانہ چند ڈالروں کی ضرورت رہتی ۔ اس کی یہ ضرورت پانچ گرام میتھڈین کی نشہ آور پڑیا پورا کرتی۔ وہ یہ پڑیا فروخت بھی کرتی اور اپنے استعمال میں بھی لاتی تھی ۔ وہ خود بھی اس نشے کی عادی ہو چکی تھی ۔ اس کے قبضے سے یہ نشہ آور پُڑیا برآمد ہوئی تھی ۔ آج اس کے خلاف اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا تھا۔ اس کیس میں اسے چالیس برس کی سزا سنائی جا سکتی تھی ۔ کٹہرے میں کھڑی سوسن نے اپنے سفید بالوں کو ایک جھٹکا دیا۔ بالوں کے ہٹنے سے اس کے چہرے پر تیرتے آنسو صاف نظر آنے لگے ۔ پھر وہ کمرہ عدالت میں بیٹھی اپنی بوڑھی معذور ماں کو دیکھ کر ہچکیاں بھرنے لگی۔ اتنے میں تھوڑا سا شور ہوا۔ پھر کمرہ عدالت میں ہر طرف سناٹا چھا گیا۔جج مارک بیٹ عدالت میں داخل ہو رہے تھے ۔اس سناٹے میں سوسن کی ہچکیاں کچھ اور اونچی سنائی دینے لگیں۔جج نے اپنی کرسی سنبھال لی ۔ عدالت لگ گئی ۔ سوسن رائس کی غربت ، بیروزگاری ، میاں کا انتقال ، یہ سب کچھ نہایت اذیت ناک تھا۔ شاید عدالت کی کرسی پر بیٹھا جج بھی یہی سوچ رہا تھا۔ ”یقینا نشہ فروخت کرنے کے جرم میں اسے سزا ہونی چاہئے ۔ لیکن کتنی ؟“جج نے سوسن کے سارے حالات سوچتے ہوئے پریشانی کے عالم میں سر جھکا لیااوروہ ہولے سے بولا۔”پانچ سال قید کی سزا سناتا ہوں“۔ پھر وضاحت کی ”یہ جرم کی کم سے کم سزا ہے ۔ اس سے کم سزا ہو نہیں سکتی۔ قانون اجازت نہیں دیتا“۔ پھر کمرہ عدالت میں اس نے جو کہا ، اسے امریکہ کی عدالتی تاریخ کا اہم موڑ کہا جا سکتا ہے ۔ جج کی باتوں نے سوسن ، کمرہ عدالت میں بیٹھے اس کے رشتہ داروں اور تماشائیوں کو بھی حیران کر دیا۔ وہ سب ششدر ہ گئے ۔ ملزمہ کی آنکھوں میں آنسوﺅں سے زیادہ جج کے چہرے پر ہمدردی دکھائی دے رہی تھی ۔ وہ بڑے جذباتی ہو کر بولے !”ہمارے ہاتھ قانون کی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ میں اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں ۔ مجھے اپنے ہی فیصلے سے شدید اختلاف ہے “۔ جج مارک بیٹ سوسائٹی اور ریاست کو یکساں سوسن کی غربت کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔ اس طرح وہ سوسائٹی اور ریاست کو سوسن رائس کا شریک جرم سمجھ رہا تھا۔ لیکن وہ سزا صرف سوسن کوسنا سکتاتھا۔ اسی لئے اسے اپنے فیصلے سے شدید اختلاف تھا۔ یہ پاکستان ہے ۔ یہاں سیاست کاروبار ہے ، بہت نفع بخش کاروبار۔ عوام اپنے کسی قریبی سیاستدان کے ابتدائی برے دنوں کے ذکر سے خوش ہو لیتے ہیں۔ وہ سیاستدان ان کے پاس سے دھول اڑاتا اپنی بڑی گاڑی میں گزر جاتا ہے ۔ اب سیاستدانوں کے بڑے بڑے گھر بھی الگ تھلگ ہیں۔ ان کی بڑی بڑی گاڑیوں میں موسم بھی الگ ہے ۔ باہر کھلی سڑک پر عوام ٹھنڈ سے بے حال تھے ۔ کنٹینر کے اندر مولانا طاہر القادر ی حدت کی شدت سے پسینہ پونچھتے جاتے تھے ۔ رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ ۔ یہ دعویٰ بہت ہے کہ سیاست بہت احتساب کروا چکی ۔ لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو میں میثاق جمہوریت یہی تھا۔اک دوسرے کا پورا تحفظ کیا جائے گا۔ پرویز مشرف والا این آر اوبھی یہی کہ کسی سے کوئی حساب کتاب نہیں۔کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ پھر کسی سے کچھ پوچھا بھی نہیں گیا۔ جب کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی جے آئی ٹی لگ چکی۔ بیس کروڑ عوام کی جے آئی ٹی جلد لگنے والی ہے۔ اس وقت یہ ملزم سیاستدان نہیں بولتے۔ ان کا زعم بولتا ہے۔ کیونکہ ابھی ہمارے معاشرے میں سیاستدان بے بس نہیں ہوئے۔ہمارا معاشرہ پوری طرح ان کے شکنجے میں ہے۔ جعلی شناختی کارڈ بنانے والے، غریبوں سے آٹے کے تھیلوں اور گھی کے ڈبوں کے عوض ان کے شناختی کارڈ ہتھیا لینے والے پلاٹ مافیا اورتھانہ کچہری کے بل پر الیکشن جیتنے والے ابھی بے بس نہیں ہوئے۔ غریبی سے خودی کی نگہبانی کہاں ہوتی ہے۔ پھر یہ لوگ سورة رحمٰن میں بیان کی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اس کے بندوں تک کہاں پہنچنے دیتے ہیں۔....
خدا کا رزق تو ہرگز زمیں پہ کم نہیں یارو
مگر یہ کاٹنے والے مگر یہ بانٹنے والے
جب بیس کروڑ عوام کی جے آئی ٹی لگے گی۔ فیض احمد فیض ہمیں بتا چکے ہیں کہ اس سمے کیا ہوگا؟اس سمے تخت گرائے جائیں گے۔ تاج اچھالے جائیں گے۔ ڈرو اس وقت سے جب خونی انقلاب آئے گا۔ خونی انقلاب میں گنہگار، بے گناہ سبھی مارے جاتے ہیں۔ اسی خونی انقلاب سے بچنے کیلئے عمران خان تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ وہ کرپشن روکنے اورٹیکس کلیکشن میں سبھی مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک قومی اخبار کے مقامی ایڈیشن میں یہ خبر شائع ہوئی۔ ”حکومت کا آخری سال اور ایم پی ایز پر اربوں نچھاور۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے چھیالیس میں سے چوالیس صوبائی حلقوں سے ن لیگ کے ایم پی اے منتخب ہوئے ۔ انہیں ایک ایک ارب روپے کی ترقیاتی سکیمیں ملیں گی ۔ مونس الٰہی اور نگہت انتظار بھٹی کونظر انداز کر دیا گیا کہ یہ دونوں ن لیگی ارکان نہیں۔ مخصوص سیٹوں پر منتخب ہونے والی ن لیگی ایم پی اے کو دس دس کروڑ روپے کی سکیمیں ملیں گی “۔ اس خبر کا آخری حصہ بہت تکلیف دہ ہے ۔ ”ایم پی ایز نے بھی اپنا کمیشن چودہ فیصد سے بڑھا کر تیس فیصد کر دیا ہے “۔ آج تک ن لیگ نے اس خبر کی تردید نہیں کی ۔ اب ایک مزے کی بات بھی سن لیں۔ انہی تیس پرسنٹ والے ایک ایم پی اے کا مجھے مدینہ منورہ سے فون آیا ہے ۔ ”میں نے رو رو کر روزہ رسول پر ملک کی سلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگی ہیں “۔ میں سوچتا ہوں کہ میرے آقا و مولا کیا سوچتے ہونگے ۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ رحمة للعالمین نے پھر بھی یہ دعائیں قبولیت کیلئے اللہ کے حضور پیش کر دی ہونگی۔ پھر میرے حضور کی بات کیسے ٹالی جا سکتی ہے ۔ تبھی آج کے حکمران عدالتوں میں طلب کئے جارہے ہیں۔ ایک وقت میں سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے ، آج سپریم کورٹ کی مقررکردہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے پر مجبور ہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ میں سے دو جج ان کوگنہگار قرار دے چکے تھے ۔ تین جج ابھی مزید تحقیق اور غور وخوض کے مرحلے میں ہیں۔ یہ قومی خزانہ لوٹنے کا جرم ہے ۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو شاید سزا سناتے ہوئے ہمارے معزز جج بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں۔”بہت کچھ لوٹا گیا ۔لیکن ہم اس سے زیادہ سزا نہیں سناسکتے ۔ ہمارے ہاتھ قانون کی ہتھکڑی سے جکڑے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں۔ ہمیں اپنے فیصلے سے شدید اختلاف ہے“۔ ورنہ جہاں تک ہمارے لکھنے والوں کا تعلق ہے ، وہ دن رات قوم کو قومی خزانے کی لوٹ مار اور کاروباری ”دانشمندی“ کے درمیان فرق سمجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ....
بابِ عطا کے سامنے اہل کمال کا ہجوم
جن کو تھا سرکشی پہ ناز وہ بھی اسی قطار میں