شیرخدا کے حکیمانہ فیصلے

19 جون 2017
شیرخدا کے حکیمانہ فیصلے

مولائے کائنات حضرت علیؓفرمایا کرتے تھے کہ ”پوچھو،پوچھو ، جو پوچھنا ہے اس کے قبل کہ میں تم میں نہ رہوں۔“ پوچھنے والے پوچھتے رہے اور حضرت علیؓ بتاتے رہے۔ ایک دفعہ کچھ لوگوں نے میٹنگ کی اور یہ طے پایا کہ حضرت علی ؑالمرتضےٰ سے ایسا مسئلہ پوچھیں جس کا جواب طویل ہو اور یوں ان کی نماز مغرب قضاءہو جائے۔ نماز مغرب کی ادائیگی میں وقت تھوڑاہوتا ہے اذان کے ہوتے ہی جماعت کھڑی ہو جاتی ہے۔ حضرت علیؓ مغرب کی نماز پڑھانے لگے تو طے شدہ پروگرام کے تحت لوگ مسئلہ پوچھنے کےلئے مسجد میں آ گئے۔ لوگوں نے سوال کیا کہ کونسی جنس انڈے دیتی ہے اور کونسی بچے؟ سوال انتہائی اہم تھا سوال پوچھنے والوں نے سوچ رکھا تھا کہ حضرت علیؓ انواع و اقسام کی مخلوق کی گنتی کریں گے کہ فلاں انڈے دیتی ہے فلاں بچے دیتی ہے تو نماز مغرب ہر حال میں قضاءہو جائے گی۔ افسوس کہ دنیا ابوترابؑ کو سمجھ نہیں سکی۔ امیر المومنین شیر خدا حضرت علیؓ نے فی البدیہہ فرمایا کہ جن کے کان اندر ہیں وہ انڈے دیتی ہیں جن کے کان باہر ہیں وہ بچے دیتی ہیں۔ شہر علم کے دروازہ مولا علیؓ کا جواب اب بھی کائنات کے ذرہ ذرہ سے اپنے علم و عرفان کا خراج وصول کر رہا ہے۔ مشہور انگریز مورخ پروفیسر گبن GIBBON مولا علیؓ کے جواب کے تناظر میں جنگلوں میں نکل گیا، دریا اور سمندر کھنگال ڈالے، پہاڑوں اور صحراﺅں میں بھٹکتا رہا کہ شائد کوئی ایک ایسی مثال مل جائے جو امیر المومنین حضرت علیؓکے فرمان اقدس کے برعکس ہو۔ پروفیسر گبن کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ابوالحسنین حضرت علیؓ مشکل سے مشکل مسئلہ فوری حل فرما دیتے تھے۔ تین اشخاص پر چوری کا الزام لگا تینوں میں سے کوئی بھی اعتراف جرم نہیں کر رہا تھا۔ بالآخر ملزمان کو حضرت علی ؑالمرتضےٰ کے حضور پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ دیوار میں ان کی گردنوں کے مطابق سوراخ کئے جائیں اور گردنوں کو ان سوراخوں میں ڈال دیا جائے۔ اپنے پےارے غلام قنبرؓ سے کہا کہ میری تلوار لے کر آﺅ۔ قنبرؓ تلوار لے آیا تو حکم دیا کہ ان تینوں میں سے چور کی گردن اڑا دو۔ آپؓ نے چوری کرنے والے کی گردن زنی کا حکم صادر فرمایا تھا۔ اس حکیمانہ حکم کے ساتھ ہی ایک صاحب جو اصلی چور تھا اس نے اپنی گردن کو ذوالفقار (تلوار کا نام)کے وار سے بچانے کیلئے کھسکانے کی کوشش کی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا گردن کو حرکت دینے والا ہی چور ہے۔ کیسا عمدہ فیصلہ فاتح خیبر، حیدر کرارؓ نے کیا۔کےسی سائنٹیفک انداز مےں تفتےش عمل مےں لائی گئی سبحان اللہ۔ حضرت علیؓ سے مسائل پوچھنے والوں میں صحابہ کرام ؓ کے علاوہ عیسائی، نصرانی، یہودی و دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔ حضرت علیؓ کی سیرت مقدسہ پر لاتعداد کتابیں تحریر ہو چکی ہیں۔ ان کے حکیمانہ فیصلوں، ان کی بہادری اور اسلام کی خدمات کے حوالے سے بھی ڈھیروں کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ حضرت علیؓ کا خانہ کعبہ میں ظہور ہوا اور مسجد میں شہادت۔
کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بکعبہ ولادت بمسجد شہادت

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...