اے نگار وطن تو سلامت رہے

19 جون 2017

ارادے جن کے پختہ ہوں اور نظر جن کی منزل پر ہو تو ایسی پرخلوص شخصیات کے قدم کامیابی و کامرانی چومتی ہے۔ ان محب وطن ہستیوں کو نمود و نمائش سے بیگانہ و بے پرواہ ہو کر اپنے مقدس جذبے کی تکمیل میں تن من دھن کی بازی لگانی پڑے تو بے دھڑک میدان کارزار میں کود پڑتے ہیں اور جب تک اپنی منزل مراد تک نہ پہنچ جائیں تو چین سے نہیں بیٹھتے۔ ارض مقدس پاکستان کے حصول کی راہ میں مسلمانان ہند نے جانی و مالی قربانیوں کی تاریخ رقم کی۔ دنیائے تاریخ ایسی نظیر دینے سے قاصر ہے۔ دنیا کی واحد اسلامی فلاحی مملکت کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے توحید کے عاشقان نے سنت محمدی پر عمل کرتے ہوئے روئے ارض پر سب سے بڑی ہجرت کی۔ کم و بیش ایک کروڑ انسانوں نے آگ و خون کا دریا پار کر کے ارض مقدس پاکستان کی خاک پر سجدہ ریز ہو کر اپنے رب تعالیٰ کے حضور شکرانہ ادا کیااور راستے میں چالیس لاکھ شہداءکے مقدس بابرکت خون ‘ جن سے ندی نالے دریا سرخ ہو گئے اور ہزاروں عصمتوں کو قربان کر کے ہندو¶ں کی ہوس خاک میں دفن کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنے پاک مقصد کو حاصل کر کے ہی چین لیتا ہے۔ انہی مقدس شخصیات میں ایک چمکتا دمکتا نام فخر ملتان شوکت اﷲ وارثیؒ مرحوم و مغفور کا ہے۔ انہی کی یاد میں نگار وطن اصلاحی کمیٹی اور ایجوکیشنٹس اینڈ سائنٹس فورم ملتان کے زیراہتمام پہلی برسی منائی گئی۔ شوکت وارثی کی رہائش گاہ بمقام حسن پروانہ کالونی بالمقابل اخبار مارکیٹ ملتان پر مرحوم کے صاحبزادگان بابر وارثی‘ عثمان وارثی اور احسان وارثی نے مہمان اور شرکاءمحفل کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا۔ صدارت کے فرائض پروفیسر عنایت علی قریشی نے ادا کئے۔ مہمانانِ خصوصی میں بزرگ استاد رہنما رانا اسلم ساغر اور اخبار فروش یونین کے مرکزی رہنما شیخ عمر دین قریشی نے کی۔ نقابت کے فرائض محمد علی رضوی نے بااحسن انداز میں سر انجام دئے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا۔ صفدر رفیع شاہ ایڈووکیٹ نے آیات خداوندی سے سامعین کے قلوب کو منور کیا۔ نعت بحضور سرور کونین راشد محمود نے پیش کی۔ پروفیسر عنایت علی قریشی نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے شرکاءمحفل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے شوکت وارثی کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا وارثی مرحوم کی پاکستان سے والہانہ محبت کااظہار ۱۴ اگست کو پرچم کشائی کی تقریب بمقام حسن پروانہ کرتے تھے۔ اس دن آپ کا چہرہ جوش و خروش سے ٹمٹما رہا ہوتا تھا۔ نظریہ پاکستان فورم ملتان کے جنرل سیکرٹری رانا اسلم ساغر نے مرحوم کو چلتا پھرتا پاکستان سے تشبیہ دی۔ اس موقع پر انہوں نے ان کی پاکستان سے دیوانہ وار محبت کو دوسروں کے لئے مشعل راہ کہا تاکہ نوجوان نسل کو وطن کے حصول کے لئے جن بے شمار قربانیوں کا نذرانہ دیا اس کا ادراک ہو سکے اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کریں۔ قاضی نوید ممتاز سربراہ یونائیٹڈ ریلیف فیڈریشن فار بلائنڈ نے بھی بطور مہمان اعزاز شوکت اﷲ وارثی کی پاکستان کے بارے خدمات پر لب کشائی کرتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نابینا ہونے کے باوجود اپنے دلی جذبات کااظہار کیا۔ ڈاکٹر راشد حسینی اور عامر محمود نقشبندی نے بھی وارثی کی پاکستان سے دلی لگا¶ پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ اخبار فروش یونین کے مرکزی رہنما شیخ عمر دین نے شوکت اﷲ وارثی کئی سالوں پر محیط تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرحوم اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی بے چینی کے ساتھ پرچم کشائی کی تقریب کی تیاریوں میں جت جاتے تھے اور پیرانہ سالی کے باوجود خود ہی تمام امور سر انجام دیتے تھے۔پاکستان کا سپاہی شوکت اﷲ وارثی نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کرتے کرتے یکم رمضان ۷ جون ۲۰۱۶ءکو مختصر علالت کے بعد سورة یٰسین تلاوت کرنے کے بعد کلمہ توحید کا ورد کرتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ آپ کو وصیت کے مطابق قبرستان احاطہ کمبوہاں حسن پروانہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر عامر محمود نقشبندی نے اختتامی دعا کرائی۔