سیاست کا مومینٹم

19 جون 2017

مومینٹم فزکس کی اصطلاح ہے جس کا مطلب چلتے ہوئے جسم کی حرکت کی مقدار ہے۔ عام زبان میں اسے رفتار کہہ سکتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کا مومینٹم اس وقت زبردست ہے۔ اس کی بڑی وجہ پانامہ لیکس پر ہونے والی تحقیقات ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب جے آئی ٹی میں پیش ہو چکے ہیں اور پریس کانفرنسوں میں اپنے بے گناہ ہونے کے دعوے کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسرے سیاستدانوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندانوں کو پانچویں مرتبہ احتساب کا سامنا ہے اور وہ اس کے بعد بھی خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے رہیں گے۔
خان صاحب چاہتے ہیں کہ جلداز جلد یہ کیس منطقی انجام تک پہنچے اور نواز شریف نااہل ہو جائیں۔ وہ روزانہ اپنے الزامات کو دہراتے اور ان پر شریف خاندان کو ملنے والی سزا بھی تجویز کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بلند بانگ دعوے‘ الزامات اور سیاسی بیانات انہیں میڈیا میں نمایاں رکھتے ہیں اور ان کا سیاسی مومینٹم برقرار رکھتے ہیں جواباً ن لیگ کے وزراءبھی ویسی ہی باتیں دہراتے ہیں جیسی خان صاحب نے کی ہوتی ہیں اور اسی طرز کے الزامات‘ دعوے اور سیاسی بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ کبھی حنیف عباسی خان کو بگڑا بچہ قرار دیتے اور انہیں آئین و قانون کا احترام کرنے کا درس دیتے ہیں اور کبھی دانیال عزیز انہیں عدالتوں سے سزا اور نااہل کروانے کی بات کرتے ہیں۔
قادری صاحب عید منانے کے لئے پاکستان پہنچے ہیں اور آتے ہی سانحہ ماڈل ٹا¶ن میں نشانہ بننے والوں کے قصاص کا مطالبہ دہرایا ہے۔ انہوں نے خان صاحب سے ملاقات کا بھی عندیہ دیا ہے اور شیخ رشید سے فون پر بات کر کے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ظاہری بات ہے یہ مشترکہ لائحہ عمل حکومت کے خلاف ہی ترتیب دیا جائے گا۔ دوسری طرف زرداری صاحب طبی وجوہات کی بناءپر بیرون ملک ہیں اور لوگ ان کے بیانات سے محظوظ ہونے سے محروم ہیں۔ بلاول بے شک اپنے بیانات سے پی پی کے سیاسی مومینٹم کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ان کے بیانات کی گھن گرج زرداری صاحب کے بیانات کی گھن گرج سے بہت کم ہوتی ہے۔ جب بلاول کے بیانات کے ساتھ خورشید شاہ صاحب کے بیانات ملتے ہیں تو مومینٹم کچھ بحال ہوتا نظر آتا ہے۔
شیخ رشید حکومت کے جانے کی پیش گوئیوں کا مومینٹم برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ حکومت ہے کہ اپنی مدت پوری کرنے کی طرف گامزن ہے۔ پچھلے دو سالوں میں شیخ صاحب کی کئی پیشن گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف دوسری پارٹیوں کی وکٹیں گرانے کے مومینٹم کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ق لیگ کسی انہونی کے ہونے کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ مولانا فضل الرحمان رمضان کی برکات سمیٹنے میں مصروف ہیں اور اپنے موجودہ مقام سے خوب مطمئن ہیں۔خواجہ آصف نے خواتین کا احترام نہ کرنے کے مومینٹم کو برقرار رکھا ہے اور تمام حلقوں کی طرف سے مطعون ہو رہے ہیں۔ بعد میں جو بھی ہوتا ر ہے وقتی طور پر وہ اپنے دل کی بھڑاس خوب نکال لیتے ہیں۔ اخلاقیات کا جنازہ نکلتا ہے تو نکلتا رہے۔
مجموعی طور پر پاکستانی سیاست کا مومینٹم وہی ہے جو برسوں پہلے ہوا کرتا تھا۔ ایک سیاستدان دوسرے پر الزامات لگاتا ہے اور پھر اس کی طرف سے زیادہ شدید الزمات کا سامنا کرتا ہے۔ ایک دوسرے کو گالی نکالتا ہے اور پھر اس سے بھی زیاد گندی گالی سنتا ہے۔ اصل میں سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ ہر کسی کے دامن پر داغ ہیں جن کو چھپانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ میڈیا پر چھا جا¶ اور اپنے مخالفین پر جھوٹے سچے الزامات لگانا شروع کر دو اور ان الزامات کو اتنا دہرا¶ کہ لوگ جھوٹ کو بھی سچ سمجھنا شروع کر دیں۔ یہی عمل ان کے مخالفین بھی ان کے خلاف دہرائیں گے اور سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ آپ کسی پر الزام لگائیں اور وہ آپ کو شاباش دے‘ آپ کسی کو گالی دیں اور وہ آپ کو مسکرا کر پھولوں کے ہار پہنائے‘ آپ کسی پر کیچڑ اچھالیں اور آپ کے اپنے کپڑے محفوظ رہیں‘ آپ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکیں اور آپ کا گھر محفوظ رہے۔ جیسا کریں گے ویسا بھرنا بھی پڑے گا۔