ڈاکٹرنذیراحمد شہید کی سیاسی خدمات

19 جون 2017

ڈاکٹر نذیر احمد شہید 13فروری1929 کو ضلع جالندھر کے متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے پیدائش کے چند سال بعد ڈاکٹر شہید کے والد نے انہیں فاضل پور ڈیرہ غازیخان میں بلالیا تھا۔ انہوں نے یہیں تعلیم حاصل کی۔ راجن پور کے ہائی سکول سے میٹرک کیا۔ بعد میں ملتان ایمرسن کالج سے ایف اے 1944ءمیں کیا۔ اس تعلیم کے بعد انہوں نے ہومیو پیتھک کی تعلیم ایک رشتہ دار ڈاکٹر سے حاصل کی۔ذریعہ معاش کے لئے طب کو مستقل پیشہ بنایا۔ ملتان میں ڈاکٹر عبدالجبار شاکر اور مولانا خان محمد ربانی سے تعلق کی بناہ پر سید موددی کی تحریروں اور تقریروں سے متاثر ہو ئے تعلیم کو خیر باد کہہ کر اسلامی انقلاب کی خاطر اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ مال دولت کو ٹھکرا کر مجاہدانہ اور غربت کی زندگی کو ترجیح دی اور ہمیشہ اسی پر فخر کیا اور اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر بنے۔
میرا طریق امیری نہیں غریبی ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
ڈاکٹر شہید نے جس راستے کا انتخاب کیا۔ یہ راستہ کٹھن اور خاردار ضرور تھا، مگر یہ اس منزل کی نشاندہی کرتا ہے جس سے انبیاءکرام گزرے ہیں اسی راستے پر ایسی نیک شخصیات گزری ہیں جن کے دم قدم سے ہی آج دنیا میں اسلام کا بول بالا ہے۔ حق کی آواز بلند کرنے والوں نے ہمیشہ ایسے ہی راستوں کا انتخاب کیا ہے۔
1947ءمیں قیام پاکستان کے بعد سید مودودی کی ہدایت پر ڈیرہ غازیخان کو اپنا مسکن بنایا اور جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ ضلع ڈیرہ غازیخان معاشی نقطہ نظر سے ملک کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اس ضلع میں سیاست پر ہمیشہ جاگیرداروں اور وڈیروں کی اجارہ داری رہی۔ ان جاگیرداروں اور تمن داروں کا اثرورسوخ بڑا مضبوط ہے۔ ایسے علاقے میں تحریک اسلامی کا کام بڑا کٹھن اور مشکل تھا، مگر جواں عزم اور باہمت لوگ ہمیشہ اپنی منزل کی جانب گامزن رہتے ہیں۔ چند سالوں میں جماعت اسلامی ایک مضبوط جماعت کے طور پر ابھری، جو اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی قائم و دائم ہے۔ ڈیرہ غازیخان ڈویژن کا چھوٹا بڑا ایسا کوئی شہر نہیں جہاں ڈاکٹر شہید نے اپنی دعوت نہ پہنچائی ہو اور لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف نہ بلایا ہو۔
جماعت اسلامی نے جب ممبر سازی کا اعلان کیا تو کارکنان پورے ملک میں پھیل گئے اور لاکھوں ممبر بنائے۔ اسی طرح جب ڈیرہ غازیخان کے کارکنان دیہات میں دور دراز علاقوں میں پہنچے تو لوگوں نے بے ساختہ کہا، ڈاکٹر نذیر کے بعد ہمارے پاس کوئی نہیں آیاپہاڑوں میں مقیم آبادی تک بھی یہ داعی حق پہنچایا اور اللہ کے دین کی دعوت پہنچائی۔
1958ءمیں جب مارشل لاءلگا اور جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی تو ڈاکٹر صاحب نے اپنے مشن کو جاری رکھا۔ کارکنان سے مسلسل رابطہ میں رہے اور اس میںذرا بھر کمی نہ آنے دی۔ مارشل لاءکے خاتمے پر جماعت اسلامی میدان میں موجود تھی، بلکہ اس کاکام پہلے سے زیادہ ہو گیا تھا۔ 1970ءکے عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے بھر پور حصہ لیا۔ ڈیرہ غازیخان کی نشست این ڈبلیو88کےلئے(جواب چارسیٹوں پر مشتمل ہے) ڈاکٹر نذیر احمد کانام منظور کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے مقابلے میں خواجہ قطب الدین گدی نشین تونسہ شریف، مولوی عبدالستار تونسوی، نواب زادہ محمد خان لغاری(فاروق لغاری کے والد) پیپلز پارٹی کے منظور لُنڈ الیکشن لڑ رہے تھے جاگیر داروں، وڈیروں اور پیروں کے مقابلے میں میں الیکشن لڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا، مگر ان کی 23سال کی مسلسل محنت رنگ لائی۔ ڈاکٹر نذیر شہید الیکشن جیت گئے جاگیرداروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔ ڈاکٹر صاحب کو الیکشن جیتنے کی حقیقی خوشی نہ ہوئی، کیونکہ ان کی پارٹی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں الیکشن ہار گئی تھی۔ علاقائی اور لسانی جماعتیں کامیاب قرار پائیں۔
ڈاکٹر صاحب کو سید مودودی نے ہدایات دی دیں کہ وہ مشرقی پاکستان کا دورہ کریں اور انہیں اس دورے کی مفصل رپورٹ دیں کیونکہ علاقائی قیادتوں نے آپس میں اقتدار کی جنگ شروع کر دی تھی۔ ملک کی سلامتی خطرے میں تھی اقتدار کی جنگ ملک کی تباہی کا سبب بن رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب 4جولائی 1971ءکو ڈھاکہ پہنچے 15اگست تک انہوں نے ڈھاکہ، چٹا گانگ، مومن شاہی سہلٹ جے پور، بوگرا، رنگ پور، دنیا اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔ علاقائی لیڈروں کے خطر ناک عزائم سے عوام کو آگاہ کیا۔ اس دوران بھارتی ریڈیو آپ کے خلاف مسلسل پروپیگنڈہ کرتا رہا اور ڈاکٹر صاحب ناپسندیدہ اور خطر ناک شخصیت قرار دیا گیا۔ جب ڈاکٹر صاحب دورہ مکمل کر کے واپس آئے تو اپنی ڈائری میں تاثرات یوں لکھے:
۱۔ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے ممبروں نے کھلم کھلا بغاوت کر دی ہے، انہیں گولی مار دی جائے۔
۲۔ شیخ مجیب کو نظر بند کر دیا جائے اور پھر بعد میں شیخ عبداللہ کی طرح رہا کیا جائے۔
۳۔ بنگالی قوم پرست اور ہندو مشرقی پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
4۔صدر یحییٰ اور بھٹو نے ملی بھگت کر لی ہے اور ملک کی سالمیت خطرے میں ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے خدشات صحیح ثابت ہوئے اور پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ غیروں کی سازشیں کامیاب ہو گئیں۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد جماعت اسلامی نے انہیں مغربی پاکستان کا دورہ کرنے کا کہا۔ ڈاکٹر صاحب نے راولپنڈی ، کراچی، لاہور، ملتان، سرگودھا، مظفر گڑھ، راجن پور، سیالکوٹ، ڈسکہ، کوٹ ادو، فیصل آباد اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کا دورہ کیا اور جلسوں سے خطاب کیا۔ پوری قوم کو آگاہ کیا کہ پاکستان توڑنے کے ذمہ دار کون ہیں۔ اور جماعت اسلامی کا کردار کیا ہے۔ مگر شاید پوری قوم سوئی ہوئی تھی، جبکہ جاگیردار اور وڈیرے ذوالفقار علی بھٹو کے گرد جمع تھے۔ پورے ملک پر سکوت طاری تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سکوت کو توڑا اور عوامی مارشل لاءمردہ باد اور عوامی مارشل لاءنامنظور کا نعرہ لگایا رائے عامہ کو ہموار کیا اور مغربی پاکستان کا یہی دورہ آپ کی شہادت کا باعث بنا۔
ڈاکٹر صاحب اسمبلی کے اندر اور باہر حکمرانوں کے لئے چیلنج تھے۔ وقت کے حاکم نے اپنے گورنر سے کہا کہ ڈاکٹر نذیر احمد کو کہو کہ وہ اپنی حدود میں رہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی مفاہمت سے خالی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کوترجیح دی اور اسلام کی سر بلندی اورسچائی کے لئے ساری زندگی سرگرم عمل رہے۔ ڈاکٹر صاحب جیسے مردِ مجاہد مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور مدتوں تک زندہ رہتے ہیں۔
8جون 1972ءکو سینکڑوں میل پیدل چل کر اللہ کے دین کی دعوت پہنچانے والا درویش، لوگوں میں محبت کی مٹھاس تقسیم کرنے والا قلندر، غریبوں اور یتیموں کی سرپرستی کرنے والا مجاہد، حق کی شمع جلانے والی عظیم ہستی کو حکمرانوں نے ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔