مغرب کب سوچے گا؟

19 جون 2017

ہر مثبت کام و سوچ منفی انجام سے کیوں دو چار ہو رہی ہے؟اس بات پر اگر مغربی سوچ مرکوز نہ ہوئی تو ہوگا یہ کہ یہ دنیا برائی کی ایک ایسی کھیتی کی صورت اختیار کر جائے گی جس کی فصل نے ساری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیکر ایک ایسی کرب و اذیت میں مبتلا کر نا ہے جس سے نجات حاصل کرنا ترقی یافتہ مغرب اور اسکی جدیدسائنس کے بس کی بات نہ ہو گی۔اس لئے کہ نجات کی ہر کو شش میں مفادات کا وہ عنصر ضرور موجود ہوگا۔جو مغرب کی ہر کوشش میں تھا اور ہے ،جو اسکی ہر مثبت سوچ کو منفی انجام سے دو چار کرتا رہا ہے۔
مغرب کے ترقی یافتہ معاشرے کے بارے میں عام تاثر یہ کہ وہ معاشرہ کوئی بھی منصوبہ بندی کرے اس میں مستقبل کی بہت دور آگے تک کی ہر بات کو اس نے مدنظر رکھا ہوتا ہے دور تک یہ منصوبہ بندی ہوتی کیا ہے؟یہ بات مغرب نے نہ بتائی ہے نہ کبھی بتائے گا لیکن وہ منصوبہ بندی پوشیدہ بھی اس لئے نہیں رہ سکی کہ وہ معاشرے جس پالیسی پر عملی طور پر مصروف عمل ہے اس عمل کا حا صل یہ ہے کہ تیسری دنیا کے عوام انسانی حقوق سے محروم ہوئے جا رہے ہیں اور ترقی یافتہ معاشرہ کو تمام انسانی حقوق حاصل ہیں تو جاری عمل کا نتیجہ خود بخود ثابت کرتاہے کہ عمل و نتیجہ جس منصوبہ بندی کا حاصل ہے وہ منصوبہ بندی یہ ہے کہ اپناپیٹ بھرنے کے لئے کسی کا گلہ کاٹنے پڑیں تو دریغ نہ کرو اپنا گھر روشن کرنے کے لئے کسی کا گھر جلانا پڑے تو جلا ڈالو۔مغربی معاشرے کی دور تک کی یہ منصوبہ بندی اور اس کا نتیجہ جس صورت میں آج سامنے ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا بیشمار ایسی برائیوں کی لپیٹ میں آچکی ہے جس پر قابو پانا اب ترقی یافتہ معاشرے کے بھی بس میں نہیں رہا یہ جنت جیسی دنیا ایک بھیانک دوزخ کی سی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے ، امن وسکون کا نام ونشان تک باقی نہیں رہا ، دنیا کے کسی بھی حصے کا انسان اپنے جان و مال کو محفوظ نہیں خیال کرتا ، چاروں طرف ایک خوف دہشت کا عالم ہے ، ذ ہنی کرب واذیت میں پوری انسانیت مبتلا ہے تو سب کچھ اسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے؟تو اس پر دانش مغرب کب بیدار ہو گی؟دانش مغرب کب بیدار ہوگی یہ سوال آج مشرق میں پیدا ہو رہا ہے تو کل مغرب میں بھی ضرور پیدا ہو گا لہٰذا یہ بات جب اہل مغرب کی سمجھ میں آئے گی تو وہ باشعور عوام اس سوال کو ہمارے ڈان لیکس و پانامہ لیکس جیسے حالات سے دوچار نہیں ہونے دینگے ، بلکہ اپنے راہنمائوں و دانشوروں کو اپنے انجام تک پہنچا کر چھوڑ دیں گے۔ایسا ضرور ہو گا اس لئے کہ دور تک کی منصوبہ بندی نے خود منصوبے بنانے والو کی عوام میں پائی جانے والی بے چینی ،خوف و دہشت نے ایک احتجاج ،طاقتور سوال کی صورت ضروراختیار کرنی ہے اس مقام پر اہل مغرب اور انکے پالیسی سازوں کی خدمت میں یہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ جناب!!!آپ اپنے ملک و عوام کی بہتری کے لئے جو بھی پالیسی بنائیں یہ آپ کا حق ہے لیکن ایسا کرتے وقت یہ بھی مدنظر رکھ لیا کریں کہ پالیسی بناتے وقت جو چیز آپکو بہتر نظر آرہی ہے جس کے مستقبل پر بھی آپ کے نزدیک اچھے اثرات مرتب ہونگے ۔کہیں آپ کا اندازہ غلط نہ ہو جائے اس لئے کہ اندازے کی غلطی مروا کر رکھ دیتی ہے اگر ایسا مناسب نہ لگے تو کم از کم یہ کریں کہ آج تک جو کچھ آپ نے اپنے قوم ملک کے مفاد میں کیا ہے کیا وہ کچھ عرصہ بعد آپ کے گلے نہیں پڑ ے گیا؟یعنی آپ اس بات پر ذرا سوچ لیں کہ جو کچھ آپ نے اب تک کیا یہ سوچ کر کیا کہ اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے کیا واقعی ایسا ہی ہوا جیسا آپ نے چاہا یا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے انجام دئیے کارنامے کچھ عرصہ مثبت رہنے کے بعد منفی صورت اختیار کرنے کے علاوہ آپ کے لئے ایک مستقل سردرد بن چکے ہیں ؟ہو سکتا ہے سردست یہ درخواست اپنے تمام سیاق و سباق کے ساتھ آپ پر واضح نہ ہو سکے اس لئے گزارش ہے کہ بجائے بہت آگے کی سوچنے کے بجائے کچھ عرصہ پیچھے (ماضی) کی سوچیں تو آپ کو بڑے واقعات میں ایک بڑا واقعہ یہ یاد آئے گا کہ!!!!آپ پر آگ اور بارود کی بارش ہو رہی تھی ، سچ ہے کہ آپ کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا ،مارو یا مر جائو کے علاوہ آپ کے پاس کوئی راستے نہ تھا یہ بھی سچ ہے کہ اپنے ملک اور عوام کو بچانا آپ کی سو فیصد جائز ضرورت تھی ، جسے پورا کرنا آپ کا حق تھا!!آپ نے وہ حق اس طرح استعمال کیا کہ ایٹم بم تیار کر کے جاپان کے دو شہرروں ناگاساکی اور ہیرو شیما پر گرا کر لاکھوں معصوم انسانوں کو زندہ جلا دیا!!مغربی مہربانو ذراسوچو کہ ایٹم بم بنانے اور انسانوں پر گرانے کی آپکی سوچ آپ کی نظر میں ایک مثبت سوچ اس طرح تھی کہ اس کے جو فوری نتائج سامنے آئے وہ آپکے حق میں مثبت تھے یوں آپ کی وہ سوچ وقتی طور پر مثبت نتائج حاصل کر پائی تھی لیکن آگے چل کر وہ مثبت سوچ منفی انجام سے اس طرح دو چار ہو گئی کہ ایٹم بم کا وہ پھل کئی اور کھیتوں میں اُگ کر آپ کے لئے ایک مستقل عذاب بن گیا جو اس لئے بنا رہیگا کہ یہ پھل مزید بھی اگتا رہے گاجو کسی بھی وقت آپ کے دل وجان اسرائیل کو ناگا ساکی ہیرو شیما بنا کر رکھ دیگا یہ وہ خوف ہے جس نے اسرائیل کی نیدیں حرام کر رکھی ہیں اور اس نے آپ کا جینا حرام کر رکھا ہے کہ اس کے اردگرد کوئی ملک ایٹم بم نہ بنا لے اس مثبت سوچ کا دوسرا منفی انجام یہ ہے کہ جب کبھی ایٹمی جنگ چھڑی اس نے انسانوں کو موم کی طرح پگھلا کر رکھ دینا ہے جس میں کالے گورے کی کوئی تمیز نہ ہوگی۔آپ دوسری مثبت سوچ جو منفی انجام سے نہ صرف دو چار ہوئی ہے بلکہ سیدی سیدھی آپ کے گلے پڑ چکی ہے وہ یہ سوچ تھی کہ سپرپاور والا مقام قائم رکھنے کے لئے جو دیگر دنیا کو دبا کر رکھنا ضروری ہے اس سلسلے میں روائیتی جنگ کے بجائے پر اکسی وار کا سہارا لیا جائے چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے افغانستان میں پھنسے روس کو ٹکڑ ے ٹکڑے کرنے کے لئے جناب نے ایمن الظواہری کو مصر کی قید سے آزاد کر کے افغانستان میں طالبان طاقت کی صورت میں کھڑا کیا !!مختصر یہ کہ آپ کی اس مثبت سوچ کے فوری مثبت نتائج یہ پرآمد ہوئے کے روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا آپ نے بوقت ضرورت طالبان ایجاد کیے وہ آنکھیں دکھانے لگے تو نائن الیون کی آڑ میں آپ نے افغانستان میں قبضہ کر لیا اسکا منفی انجام یہ ہوا کہ آج آپ افغانستان میں اتنی بری طرح پھنس چکے ہیں کہ نکل بھاگنے کی کوئی با عزت تدبیر ہی نہیں سوجھ رہی آپ کو !!طالبان والی مثبت سوچ منفی انجام سے دو چار ہونے سے بھی آپ نے کوئی سبق نہ لیا ابھی یہ گند آپ سے سمیٹا نہ گیا تھا کہ آپ نے اس دنیا کو داعش کا تحفہ دے دیا اس سے آپ کو کامیابی یہ ملی کہ مڈل ایسٹ کے تمام ممالک میں خونریزی شروع ہو گی جس کی وجہ سے اسرائیل محفوظ ہو گیا لیکن!! کب تک؟داعش کی یہ آگ کب تک اسلامی ممالک تک محدود رہے گی اسرائیل کب تک داعش کے دامن میں چھپا رہے گا؟اس کی آپ کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے اس لئے کہ داعش جیسی کاروائیوں نے اب یقینی طور پر خودآپ کے گھر کی طرف رخ کر لیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب تبا ہ حال تیسری دنیا سے زیادہ چیخ وپکار یورپ میں ہو گی ہماری درخواست یہ کہ مغربی پالیسی سازوں کو وہ پالیسیاں بنانے سے گریز کرنا چاہیے جس میں انسانوں کی تباہی بنیادی عنصر ہوتا ہے لیکن نظر یہ آتا ہے کہ مغرب کے کرتا دھرتا پالسیاں بناتے وقت صرف دور تک آگے کی سوچیں گے پیچھے مڑ کر نہیںدیکھیں گے اور ہم شائید منتظر ہی رہیں گے کہ کب سوچے گا مغرب؟