شرمندگی کا زخم

19 جون 2017

حکومت کاآخری سال بھی اپوزیشن اور دیگر اداروں نے اس کیلئے آسان بنا دیا ہے ۔ پانامہ کیس میں ایسا الجھا یا ہے کہ حکومت کو بجٹ کا ہوش رہا نہ اور نہ اسے دیگر ترقیاتی کاموں سے میں کوئی دلچسپی رہی ۔ ملک میں مہنگائی اور لوڈشیڈنگ بڑھی ¾ سٹاک ایکسچینج ڈوب گئی کسی پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ حکومت اپنے آپ کو پانامہ سے بچانے میں لگ گئی دیگر ادارے حکومت کو اس میں الجھانے میں لگ گئے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی عوامی مسائل پر آواز نہ اٹھائی عوام کیلئے او ر عوام کی سیاست کرنے والے عوام ہی کو بھلا بیٹھے اور ماضی کی طرح حکومت کی ٹانگیں کھنچنا شروع کر دی گئیں ۔اس سارے عمل میں نقصان غریب عوام کا ہی ہوا ہے اور مزید ہوگا کیونکہ ان حکمرانوں کو کبھی عوام سے کوئی سروکار نہیں رہا ہے ۔انہیں محض کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔چارسال گزر گئے کبھی عوام کا نام ان سیاستدانوں کے منہ پر نہیں آیا۔جیسے ہی حکومت کا آخری سال شروع ہواساری سیاسی جماعتوں کو عوام یاد آنا شروع ہوگئی ۔ وزیراعظم میا ں محمد نواز شریف نے جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے عوام کی جے آئی ٹی میں جانے کا اعلا ن کر چکے ہیں ۔تمام جماعتوں کو آخر ہی میں عوام یاد آتے ہیں یہ بھی ان کی مہربانی ہے۔پانامہ لیکس نے پاکستانی سیاست میں ایک اضطراب پیدا کر دیا ہے ۔ وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب دونوں بھائی اس ملک پر کئی سالوں سے حکومت کر رہے ہیں مگر ان کا انداز حکمرانی ہمیشہ سے مخصوص ٹولے سے ذریعے رہا ہے ان لوگوں نے کبھی بھی اپنی جماعت کے کسی عام ایم این اے یا ایم پی اے پر اعتماد نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ بطور وزیراعظم ان کے پاس اضافی وزارتوں کا انبار رہا اسی شہباز شریف نے بھی ایک بڑی تعداد میں وزارتیں اپنی پاس رکھیں ۔اپنی جماعت کو کبھی عوامی نہیں بنایا ہے بڑے بڑے قابل لوگ صرف ا ن کی واہ واہ کرنے کیلئے رہ گئے ہیں ۔ چند وزراءجو صرف ان کے یا تو قریبی عزیز ہیں یا پھر اپر پنجاب سے ہیں اس کے علاوہ کبھی بھی میاں صاحب کو نہ جنوبی پنجاب اور نہ ہی سندھ اور نہ ہی بلوچستان سے کوئی ایسا قابل شخص مل سکا جو اس قابل ہو کہ وزارت چلا سکے ۔ اس وقت بھی ان کی لاٹ میں مشرف دور کے سابق وزراءکی فوج ظفر موج موجود ہے انہیں پارٹی میں تو لے لیا ہے مگر ان پر اعتماد نہیں کیا ۔ یہ ایسی بداعتمادی ہے کہ جب بھی نواز شریف پر برا وقت آیا تو یہی لوگ جو آج ان کی ٹکٹ پر ایم این اے ¾ ایم پی اے بنتے ہیں پھر وہ غائب ہو جاتے ہیں ۔نواز شریف پھر اکیلا نظر آتا ہے۔
پرویز مشرف نے پچھلے دنوں ایک ٹی وی انٹرویو میں امیر مقام ¾ دانیال عزیز اور ان کے دور میں وزراءرہنے والوں پر خوب برسے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ چمچہ گیر منافق قسم کے لوگ ہیں جہاں ان کا مفاد ہوتا ہے وہاں چلے جاتے ہیں ۔ امیر مقام سے تو بہت ہی نالاں تھے ۔اب یہ لوگ نواز شریف کے بھائی اور آنکھ کے تارے بنے ہوئے ہیں ۔ یہی ہماری سیاست کا المیہ ہے سرے سے یہاں اصول نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ پرویز مشرف فرماتے ہیں یہ لوگ ڈر کی وجہ سے پارٹیوں میں چلے جاتے ہیں کیونکہ حکومتیں انہیں پولیس سے ڈراتی ہے اور پٹواری کے ذریعے زمینوں پر قبضے کر لیتی ہے اس ڈر کی وجہ سے یہ پارٹیاںتبدیل کرتے ہیں۔ جنرل صاحب کے یہ خدشات بالکل ٹھیک ہیں مگر ایسا زیادہ تر آمریت میں ہوتا ہے ۔ پرویز مشرف نے تو ایسے ایسے لوگوں کو وزیر بنادیا تھا کونسلر بھی نہیں بن سکتے تھے کیا کیا جائے ہمارا خمیر ہی کچھ ایسا ہے وہ بھی مشرف کو چھوڑ کر بھاگ نکلے اب یہی کچھ میاں صاحب کے ساتھ پھر سے ہوگا۔
احتساب کرنے والے ضرور احتساب کریں لیکن سب کا ہوتو اچھا لگتا ہے من پسند احتساب اور کسی کے اشارے پر فیصلے ہونگے تو ملک کمزور ہوگا دشمن فائدہ اٹھائے گا ۔کرپٹ لوگوں کے بار بار اقتدار میں آنے سے کرپشن ہی بڑھتی ہے اس میں کمی نہیں آتی ہے ۔ کرپٹ لوگوں کو چن چن کر اعلٰی عہدوں پرلگایا جائے گا تو پھر کرپشن ہی کوتحفظ ملے گا ۔ جمہوریت میں اگر کرپشن ہوتی ہے تو پھر آمریت میں کونسی کرپشن ختم کر دی جاتی ہے آمریت تو نام ہی کرپشن اور دھونس دھاندلی کاہے جو تمام اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ عدلیہ جیسا مقدس ادارہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہتا۔یہ ایسی باتیں جو ہم لکھتے رہتے ہیں اور یہ باتیں تمام سیاستدان مانتے بھی ہیں مگر ان پر عمل کوئی نہیںکرتا ۔ اگر کوئی اقتدار میں آ بھی جائے تو پھر وہی سیاستدان جو جمہوریت جمہوریت پکارتے تھکتے نہیں پھر آمریت کے منتظر ہو جاتے ہیں یہی صورتحال اس وقت ملک میں پنپ رہی ہے۔ حکومت کا آخری سال اس وقت لگتا ایسا ہے کہ اسی اتفراتفری میں گزر جائے گا یا پھر حکومت ہی گزر جائے گی ۔ مگر نقصان کس کا ہوگا جمہوریت کا ہوگا ایک ایسی نظیر بن جائے گی جس کے بعد کوئی حکومت نہیں کر پائے گا ۔ احتساب کا نام احتساب نہیں رہے گا بلکہ حکومت ہٹاﺅ بن جائے گا ۔ اس حکومت کے دور میں بڑے بڑے سکینڈل آئے مگر اس کے پیچھے احتساب کرنے والے ادارے کم تھے زیادہ تر وہ ادارے پیچھے تھے جن کا کام یہ نہیں تھا اور نہ ہے اور نہ انہیں اس کا حق پہنچتا ہے۔احتساب کے نام پر حکومتیں گرانے کا فائدہ کبھی ملک یا قوم کو نہیں ہوا چند گروپس اور اداروں کوہوتا ہوگا مجموعی طور پر ملکی ادارے تباہ ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ جب سے پاکستان بنا ہے چل رہا ہے اسے کوئی تو روک لے ۔ جمہوریت کی یہ بھی ایک اعلٰی ترین مثالیں ہیں ایک حکومت عدلیہ کے حکم پر گھر گئی اس کا وزیراعظم گھر بھیج دیا گیا اور اسے سے پہلے بھی عدالتوں نے حکومتوں گرایا اور بچایا بھی ۔اب ایک اور حکومت کے سر پر عدالتی تلوار لٹک رہی ہے ۔ جمہوریت کی مضبوطی میں یہ کہا ں لکھا ہے کہ ایک آدھ درخواست پر فیصلہ کرکے بھاری مینڈیٹ لینے والوں کو گھر بھیج دیا جائے ۔ اب یہ سلسلہ بند کر دینا چاہئے کہ اگر کوئی اصلی یا نقلی مینڈیٹ لیکر آئے تو پھر اس کو کام کرنے دیں ان کا کام اچھا ہوگا تو یہ ان کے گلے کا ہار یا پھر اس کے گلے کا طوق بنے گا ۔ ابھی ہمارے ہاں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے کہ کرپشن کا الزام لگے تو ہم شرمندہ ہو جائیں گے ۔اس شرمندگی کو لانے کیلئے ہمیں مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ اخلاقیات کسی اشارے پرنہیں بلکہ اپنے اندرسے باہر لانا ہوگی ۔