میاں صاحب کی پیشی اور اشارے

19 جون 2017

پانامہ فیصلہ آنے کے بعد ہم نے انہی صفحات میں اپنے کالم©©” پکچر ابھی باقی ہے “ میں واضح طور پر اس با ت کا اشارہ کیا تھا کہ یہ وقتی فیصلہ ہے اور اصل پکچر ابھی باقی ہے ، مگر میرے شیروں کی دھاڑ والے معصوم مسلم لیگی میری یا میرے جیسی کسی بھی تحریر اور مشورے کو خاطر میں لانے کو تیار نہ تھے انہیں تو بس مٹھایاں بانٹنے اور ہر شہر کے پریس کلب پر مظاہرے کرکے اپنی فتح کی داستانیں سنانے سے ہی فرصت نہیں تھی کہ وہ فیصلے کی گہرائی تک جاتے اور جے آئی ٹی کی کارروائی تک صبر کرتےاس میں شائد ہمارے سسٹم کا ہی قصور ہے کہ جس کی بناءن لیگ یہ بات اپنے ذہن میں پکی کرکے بیٹھ گئی تھی کہ بھلا جب سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف نہیں آسکا تو محض بیس یا اکیس گریڈ کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی ان کا کیا بگاڑ لے گی یہ تو محض ایک خانہ پُری والی بات ہے اور اب پانامہ محض ایک افسانہ بن کر رہ جائے گالیکنلیکن ایسا ہوا نہیں جے آئی ٹی کی گاڑی پہلے گئیر میں تو بہت آرام سے چلی،لیکن جوں ہی دوسرے گیئر میں گاڑی آئی اور وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشیاں شروع ہوئیں ویسے ویسے ن لیگ پر جے آئی ٹی کی حقیقت اور اہمیت آشکار ہونا شروع ہوئی اور پھر ہر اگلی پیشی پر ن لیگ کا خوف بڑھنے لگ گیا اور اس کا اظہار ان کے رہنماﺅں کے میڈیا پر اور جےوڈیشل اکیڈمی کے باہر دیے جانے والے بیانات سے ہونے لگا اور پھر باری حسن نواز کی بھی آئی اور یہاں تک کہ خود وزیر اعظم پاکستان میاں نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا اور ان کے سوالوں کے جوابات بھی دینا پڑےیقینا یہ پاکستان کے لئے ایک تاریخی دن تھا اور اس کے بعد کوئی بھی اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھنے کی غلطی نہیں کرے گا کیونکہ جب ملک کا چیف ایگزیکٹو جے آئی ٹی کے سامنے آسکتا ہے تو باقی کسی کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتیادھر میاں صاحب جے آئی ٹی کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے اور باہر شیر کی طرح گرجنے اور برسنے والے معروف وفاقی وزیر عابد شیر علی سب کچھ بھول کر نماز ظہر کی امامت کے لئے کھڑے ہوگئے اور پھر گڑ گڑا کر میاں صاحب کے لئے دعائیں مانگنے لگے بات یہ نہیں کہ دعا نہیں مانگنی چاہیئے بلکہ بات یہ ہے کہ ن لیگ کے نزدیک میاں صاحب اور ان کا خاندان تو بے قصور ہے ہی تو پھر دعاﺅں کی ضرورت کیا رہ گئی تھی دوسری جانب دو گھنٹے سے زائد جیوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کا سامنا کرنے کے بعد وزیر اعظم صاحب نے باہر آتے ہی جیب سے پہلے سے لکھی تحریر نکال کر میڈیا کے سامنے پڑھنا شروع کردی، جبکہ انہیںاپنے رفقاءسے مشاورت کے بعد اور اندر ہونے والی پیشی کی روشنی میں تحریر لکھوا کر بعد میں پڑھنی چاہیئے تھی مگر ہمارے ہاں سیاستدانوں کا چونکہ شروع سے ہی میں نہ مانوں والا وطیرہ رہا ہے ،چنانچہ میاں صاحب کے بھی عقلمند رفقاءنے انہیں پہلے سے ہی لکھی تحریر ان کی جیب میں ڈال کر یہ تاکید کردی تھی کہ باہر آتے ہی اس تحریر کی توپ کے گولے ان اداروں پر برسانا شروع کردیجیے گا کہ جن سے بالخصوص ن لیگ کو خوف ہے او ر میاں صاحب نے ایسا ہی کیا اور نا صرف اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کے خلاف اگر اس جے آئی ٹی نے کچھ کیا تو ۲۰ کروڑ عوام کی جے آئی ٹی فیصلہ کرے گی یہ ایک بہت بڑی بات ہے اور وزیر اعظم جیسے ذمہ دار فرد سے اس قسم کے بیا ن کی توقع نہیں کی جاتی مگر تیر کمان سے نکل گیااب سوال یہ ہے کہ ایک جانب ن لیگ کا جے آئی ٹی سے بلا وجہ خوف ایک جانب اور دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے( ن لیگ کے حق میں نہ آنے کی صورت میں) کو نہ ماننے کا اشارہ کس جانب اشارہ دے رہا ہے یعنی پھر تو عدالتوں اور سپریم کورٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہوجاتا ہے یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور اس کا مظاہر ہ ن لیگ کی حکومت ماڈل ٹاﺅن واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹ کے ساتھ من مانی کر کے ثبوت دے چکی ہے جو کہ ملک کے لئے اور جمہوریت کے لئے بہت خطرناک ہےاگر اس وقت بھی سامنے کے کچھ ذمہ داران کو سزا دے دی جاتی تو قانون کی پاسداری رہ جاتی مگر وہا ں بھی جنگل کا قانون رائج کرکے آج بھی جے آئی ٹی کو للکارا جا رہا ہے جو کہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ایسے ہتھکنڈوں کے خلاف بھی سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیئے تاکہ جب کل کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے اُسے حکومت اور اپوزیشن کو ویسے ہی قبول کرنا چاہیئے جیسے کہ پانامہ کیس کے ابتدائی فیصلے کے وقت ہوا تاکہ ملک کسی بھی انارکی کی جانب جانے کے بجائے قانون کی حکمرانی کو اپنی پہچان بنا کر پاکستان کو اور مظبوط سے مظبوط تر بنانے کی جانب عملی قدم اُٹھایا جائے اور ایسی تاریخ رقم کی جائے کہ صدیوں بعد بھی لوگ اُسے واقعی یاد رکھیں کیونکہ اسی میں پاکستان کی جیت ہے۔