مرزا ممتاز حسن قزلباش اور ریاست خیرپور

19 جون 2017

اردو کے ممتاز شاعر، مورخ اور لغت نویس نسیم امروہوی اپنی کتاب" تاریخ خیرپور" میں رقم طراز ہیں" 1948ءکی بات ہے جب ریاست خیر پور کے سابق صدراور ریجنٹ میر حاجی عطا حسین خاں تالپور اور عبد الحسین جعفری قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی خدمت میں جبکہ وہ زیارت میں مقیم تھے حاضر ہوکر درخواست کی کہ خیرپور ریاست کے نظام کو جدید تقاضوں کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ایک تجربہ کار مدبر کی ضرورت ہے اور اس معیار کے مطابق مرزا ممتاز حسن قزلباش سے بہتر دوسرا شخص نہیں مل سکتا۔ ممتاز حسن قزلباش اس قت کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ قائد اعظم نے اس درخواست پر غور کرنے کا وعدہ کیا"۔ بعد ازاں قائد اعظم نے اس درخواست کو منظور کیا اور مرزا ممتاز حسن قزلباش کو ریاست خیرپور میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ مرزا ممتاز حسن قزلباش کون تھے؟ کیا وجوہات تھیں کہ انہیں قائد اعظم نے ریاست خیرپور میں حکومتِ پاکستان کا نمائندہ بنا کر بھیجا؟مرزا ممتاز حسن قزلباش 1897ء میںآگرہ (یو پی) کے ذی علم گھرانے میںپیدا ہوئے۔ انہوں نے ایم اے او کالج علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔وہ پراونشل سول سروس میں شمولیت کے بعد صوبہ یو پی کے متعدد انتظا می عہدوں پر فائز ہوئے۔ انہیں صوبہ یو پی کی گورنمنٹ نے کونسل آف اسٹیٹس میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا، جہاں رہ کر ممتاز حسن قزلباش نے صوبہ یو پی کے لئے دیہی زرعی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کی اسکیمیںمتعارف کرائیں اور انہیں نافذ کرایا۔ 1938ءسے 1944ءتک ممتازحسن قزلباش نے دہلی میونسپل کمیٹی کے سیکریٹری کی خدمات بھی بڑی کامیابی اور نیک نامی کے ساتھ انجام دیں۔ ان خدمات کے اعتراف کے طور پر برطانوی ہند حکومت نے انہیں آئی سی ایس کے سنیئر گریڈ میں ترقی دے کر کابل میں کمرشل اتاشی مقرر کردیا۔قیام پاکستان کے بعد افغانستان میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں ناظم الامورکے عہدے پر کچھ عرصہ فائز رہنے کے بعد حکومت پاکستان نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے حکم سے انہیں خیرپور ریاست بھیج دیا جہاں وہ کچھ عرصے بعد ریاست خیرپور کے وزیر اعلیٰ مقرر کئے گئے۔ پھر خیرپور اسٹیٹ لیجسلیٹو اسمبلی انٹرم کانسٹی ٹیوشن ایکٹ نمبر (6)1953 ء کے تحت ریاست خیر میں پہلے انتخابات ہوئے جس میں مرزا ممتاز حسن قزلباش مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور انہیں ریاست خیرپور کا پہلاوزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ 30 جنوری 1954ءمیں ریاست خیرپور میں دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ممتاز حسن قزلباش نے ایک بار پھر مسلم لیگ پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات
میں کامیابی حاصل کی اور مسلسل دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ریاست خیرپور کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں ممتاز حسن قزلباش کی کوششوں کا بڑا عمل دخل تھا۔ ان کے دورِ حکمرانی میں ریاست کا بجٹ سہ چند ہوگیا۔ ان کی اصلاحات سے ریاست خیرپور کی فی کس آمدنی میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا۔ حرام اشیاءکی تجارت پر پابندی،ریاست خیرپور کے آئین کا نفاذ، جمہوری حکومت کا قیام، خیرپور ٹیکسٹائل مل کا سنگ بنیاد، ٹول ٹیکس کا خاتمہ، ہفت روزہ مراد کا اجرا، سیکڑوں نئے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا قیام، چھ سال سے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کی لازمی تعلیم ایکٹ کا نفاذشامل ہیں۔ 1952ءمیں منعقدہ پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس نے ممتاز حسن قزلباش کو اپنا صدر منتخب کیا۔ وہ پاکستان کی دستو ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے اور1956 ء میں مغربی پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اومغربی پاکستان کی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ ریاست خیرپور کا پاکستان سے الحاق بھی انہیں کی کوششوں سے ہوا۔ موجودہ دور میں مرزا ممتاز حسن قزلباش پاکستانی سیاستدانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ دیانت، فہم و فراست، سیاست کی اعلیٰ قدروں کے امین ممتاز حسین قزلباش 4 اپریل 1964ء میں مدینہ منورہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور مدینہ منورہ ہی میں آسودہ¿ خاک ہوئے۔