مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

19 جون 2017

پاکستان کے آس پاس جو کچھ ہو رہا ہے اور آئندہ دنوں میں جو کچھ ہونے جا رہا ہے وہ ہمارے لیے کسی بھی طرح قابل اطمینان نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پیدا ہونے والا نیا موڑ ہے جس میں سعودی عرب اور قطر دو اہم فریقوں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کہا یہ جا رہا ہے کہ روسی ہیکروں نے مبینہ طور پر قطر کی ایک سرکاری ویب سائٹ پر ایک جھوٹی خبر چلائی تھی جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے حالات اتنے بگڑے ہیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے، شام کے تنازع اور وہاں کے باغی گروپوں کو سرمایہ فراہم کرنے کے حوالے سے مغربی میڈیا میں خبریں اور آرٹیکلز شائع ہوتے رہے ہیں جس میں شام اور عراق میں اس مخالف فرقہ پرست قوتوں کو قطر کی جانب سے سرمایہ فراہم کرنے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ امریکی سینٹ کام کا ہیڈکوارٹر قطر میں ہونے کے باوجود امریکی اس بات سے لاعلم رہے تو دنیا بھر میں کوئی اس بات کا یقین نہیں کرے گا بلکہ آج امریکہ سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ لیبیا میں باغیوں اور دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے بعد شام میں اسد حکومت کے خلاف باغی گروپوں کو امریکہ نے ہی اسلحہ فراہم کیا تھا جن میں سے کچھ گروپوں نے داعش کی شکل اختیار کر لی۔ قطر اور سعودی عرب کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی اگر سرحدیں بند کر دینے سے بڑھ کر مکمل ناکہ بندی کے بعد خدانخواستہ جنگ تک نوبت پہنچ گئی تو اس کے خطے پر کیا اثرات رونما ہوں گے، ابھی تو دوحہ جانے والی پروازوں کے روٹس تبدیل ہوئے ہیں، چند دن بعد صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ قطر میں ایران کی حامی حکومت کو گرانے یا اس پر قبضہ کرنے کے لیے ہو رہا ہے یا یہ ایران کے خلاف محاذ کھولنے کی تیاریاں ہیں؟ یا اس سے بڑھ کر پورے مشرق وسطیٰ کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ مستحکم بنانے کے لیے ہو رہا ہے۔ یہ تقریباً دو عشرے پرانی بات ہے جب دہشت گردی سنگین عالمی مسئلہ نہ تھی۔ ان دنوں کراچی میں ایک عام سا ریئل ٹائم اسٹریٹیجی (RTS) ویڈیو گیم فروخت ہوا تھا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب کمانڈ اینڈ کونکر، ٹائیبرین سن اور فائر اسٹارم جیسے ویڈیو گیمز نے ساری دنیا میں مقبولیت حاصل کی تھی۔ وہ گیم تو کوئی خاص اچھا نہیں تھا لیکن اس کا تعارف اور اسٹوری لائن بہت اہم تھی۔ یہ گیم امریکی محکمہ دفاع کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کی کہانی اکیسویں صدی کے تقریباً وسط سے پہلے کے زمانے کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں جنگوں اور خانہ جنگی کے باعث عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے اور کئی ملکوں کی حکومتیں برائے نام رہ گئی ہیں، باغی اور دہشت گروہوں کی کارروائیاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے تیل اور گیس کے ذخائر خطرے میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ نے خطے کے تمام تیل اور گیس کے ذخائر کو اپنی تحویل میں لے کر انہیں کسی ملک کی نہیں بلکہ عالمی ملکیت قرار دے دیا ہے اور وہاں تعینات امریکی فوج باغی اور دہشت گرد گروپس سے لڑتی ہے اور اپنی فوجی اور تیل و گیس کی تنصیبات کا دفاع کرتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال سیکڑوں ویڈیو گیمز بنتے اور فروخت ہوتے ہیں لیکن نفسیاتی جنگ میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ مستقبل کے منصوبے مختلف طریقوں سے لوگوں کے ذہنوں میں منتقل کیے جاتے ہیں تاکہ جب ان منصوبوں پر عمل کرنے کا وقت آئے یا ایسے حالات پیدا ہوں تو لوگ لا شعوری طور پر اس کے لیے تیار ہوں۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ اور خلیج میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھی تو پھر عرب پھر سے صحرا ہی بن جائے گا اور تیل اور گیس کے تمام کنووں اور پائپ لائنوں وغیرہ کی نگرانی کوئی اور کر رہا ہو گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دورہ¿ سعودی عرب میں ایران کو سخت الفاظ میں تنبیہہ کر کے گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں امریکیوں کی جانب سے ایران سے ہمدردی کے دو بول اور سعودی عرب کی برائیاں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ جس سے شاید ایران کے حامیوں کے ذہن میں یہ بات ابھر رہی ہو کہ امریکی رائے عامہ اور پالیسی ساز ان سے ہمدردی کر رہے ہیں اور عرب بادشاہوں کے مخالف ہو رہے ہیں۔ لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ریپبلکنز کی حکومتوں کے دنیا بھر میں ڈکٹیٹرز کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ خود پاکستان میں بھی فوجی حکومتوں سے انہی کے دور میں امریکی حکومت سے قربت رہی ہے۔ قطر اور سعودی عرب تنازع کے تناظر میں ایرانیوں یا ان کے حامیوں کو کسی خوش فہمی میں مبتلا رہنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ بین الاقوامی سیاست میں اہداف کے حصول کے لیے دشمن تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ چند برس قبل ایرانی صدر احمدی نجاد اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی باتیں کیا کرتے تھے لیکن اب ایرانی قیادت مکہ اور مدینہ کے علاوہ پورے سعودی عرب کو ملیامیٹ کرنے کی باتیں کر رہی ہے۔ آج سے چند برس قبل جب امریکہ اور اسرائیل، ایران پر حملہ آور ہونے کے بارے میں سوچ رہے تھے تو اس وقت امریکی فوج عراق اور افغانستان میں موجود تھی۔ ایرانی تنصیبات پر اسرائیلی طیاروں کے حملے سے شروع ہونے والی اس جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے امریکی ایئر فورس کے سابق افسر ڈگلس ہرمن نے لکھا تھا پہلے ہی فضائی حملے میں ایران کی ایٹمی اور دیگر اہم تنصیبات تباہ کر دی جائیں گی، اس کے علاوہ تہران میں الجزیرہ ٹی وی چینل کی عمارت لیزر گائیڈڈ بم حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی (آج سعودی عرب کی جانب سے قطر میں الجزیرہ ٹی وی کو بند کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے)۔ ایران کے جوابی حملے میں امریکہ کا ایک طیارہ بردار اور تین جنگی بحری ڈوب جائیں گے اور خلیج ہرمز کے ایک آئل ٹینکر ڈوب جانے سے دنیا کو تیل کی سپلائی رک جائے گی۔ بغداد کے گرین زون پر میزائل حملے میں ہزاروں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو جائیں گے۔ حملہ شروع ہونے کے دو گھنٹے کے اندر اندر امریکہ میں پیٹرول اور سونے کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو جائیں گی جو چند گھنٹوں بعد آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ یورپ کے مختلف شہروں میں امریکہ مخالف پر تشدد مظاہرے شروع ہو جائیں گے۔ شدید ہنگاموں کے بعد پاکستان میں (پرویز مشرف) حکومت گر جائے گی۔ نیویارک کے سب وے اسٹیشن میں دھماکہ ہونے کے بعد وہاں مارشل لا لگا دیا جائے گا۔ تل ابیب پر ایرانی میزائل حملے سے کافی تباہی ہوگی اور اسرائیل ایٹمی حملے کی دھمکی دے گا۔ خلیجی ممالک اور وینزویلا مکمل امن ہونے تک تیل کی پیداوار اور امریکہ کو سپلائی بند کر دیں گے اور شام تک خود امریکہ میں فسادات شروع ہو جائیں گے۔ اگر اس منظر نامے کو سامنے رکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران امریکی فوج عراق اور افغانستان سے نکل چکی ہے جبکہ اس عرصے میں امریکہ میں نئی ریفائنریز اور بڑے پیمانے پر تیل کے نئے ڈپوز بنائے گئے ہیں امریکہ کے اپنے تیل کے کنووں سے بھی تیل کی فراہمی شروع ہو چکی ہے، یعنی اگر خلیج عرب سے تیل کی سپلائی بند ہو بھی جائے تو اس کے اثرات امریکہ میں محسوس نہ کیے جائیں گے۔اگر مشرق وسطیٰ اور خلیج کے حالات مزید بگڑے تو اس کے
براہ راست اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے، اگر تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا تو قرضوں میں ڈوبی اور خسارہ زدہ پاکستانی معیشت کو دھچکہ لگے گا۔ پھر خلیجی ممالک میں ملازمت کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی وطن واپسی ہوگی جس کا نتیجہ بے روزگاری میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ پھر اگر پاکستان پر فوجی دستے بھیجنے کے لیے دباﺅ ہوا تو ماضی کی طرح ہمارے پانامہ زدہ لیڈرز اس کے لیے حامی بھر لیں گے لیکن پاکستانی قائدین کی بھاگ دوڑ اور بیان بازیوں سے قطع نظر عربیوں ، ایرانیوں اور ان کے حامیوں کے جھگڑے میں پاکستان کا کردار فی الحال ایک نائب قاصد سے زیادہ نظر نہیں آتا۔ ہماری اپنی مجبوریاں ہیں،بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور داخلی سطح پر دہشتگردی کے حقیقی خدشات موجود ہیں جبکہ سیاسی اور سماجی سطح پر حالات پرسکون رکھنے کے لیے جنگ سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ ایسے حالات میں اگر سعودی عرب کی جانب سے فوج بھیجنا مجبوری بن جائے تو پاکستانی فوجیوں کی خدمات کا دائرہ حرمین شریفین اور دونوں مقدس ترین شہروں کی حفاظت تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔