فضائی آلودگی

19 جون 2017

فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں نہ صرف اس میں کام کرنے والے مزدورں کے لیے بلکہ آس پاس رہنے والے لوگوں کے لیے بھی مضر ہے۔ فیکٹر یوں اورصنعتوں کے مالک جو ہر مہینے لاکھوں روپے منافع حاصل کرتے ہیں کیا صرف چند ہزار روپے خرچ کر کے خاص قسم کی چمنیاں استعمال نہیں کر سکتے ۔ یہ لوگ اپنے فائدے کے لیے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ کیا کوئی پوچھنے والانہیں ہے۔ قیامت کے روز ان کا حساب ہو گاکہ تم نے اپنے فائدے کے لیے انسانی زندگیوں سے کیوں کھیلا، تب شاید ان کے پاس کوئی جواب نہ ہو ۔ سائیلینسروں سے نکلنے والا دھواں ، گاڑیوں اور موٹر سائےکلوں سے نکلنے والا دھواں بھی انتہائی زہریلا ہوتا ہے جو فضا کو گندا کرنے میں فیکٹریوں اور صنعتوں سے کسی درجہ کم نہیں ۔ اگر ایک گھر میں پانچ افراد ہیں تو وہ پانچ گاڑیاں رکھتے ہیں اگر ان میں سے کسی کو تھوڑی دور بھی جانا ہو تو گاڑی پر جاتے ہیں۔ جو فضا کو گندا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ہم تھوڑاپیدل چل لیا کریں توہماری صحت کے لیے اچھا ہوگا اور آلودگی بھی نہیں پھیلے گی۔(زحل خواجہ۔کراچی)