ظفر قریشی بحالی کیس....وزیراعظم‘ وزیر داخلہ سے تحریری ردعمل طلب‘ تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں‘ نہیں چاہتے انتہائی صورتحال پیدا ہو : چیف جسٹس

19 جولائی 2011
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کیس میں ظفر قریشی کی معطلی اور بحالی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے متعلق وزیراعظم کا 25 جولائی تک تحریری ردعمل مانگ لیا ہے ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ سکینڈل میں کتنی رقم بیرون ملک منتقل کی گئی، کتنے ملزم گرفتار ہوئے اور کتنے ملزموں کو بیرون ملک سے واپس لانا ہے، اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ عدالت اب بھی تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی انتہائی صورتحال پیدا ہو ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم ملک سے باہر ہیں۔ وہ 22 جولائی کو واپس آئیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اتنے دن دیدئیے مگر آپ نے کوئی جواب داخل کیا نہ ہی عدالتی فیصلے پر عمل ہوا۔ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی انتہائی صورتحال پیدا ہو ۔ عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ اپنا اور وزیر داخلہ کا ردعمل داخل کریں۔ موجودہ اور سابقہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا ردعمل بھی جمع کرایا جائے۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اپنا اور وزیراعظم کا ردعمل داخل کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم احتیاط کے طور پر جواب کی بجائے ردعمل کا لفظ استعمال کررہے ہیں۔ عدالت نے این آئی سی ایل کیس میں غیرملکی اکاﺅنٹس سے متعلق رشید بیگ کی جانب سے لکھا گیا خط بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ ایف آئی اے کو مذکورہ مقدمہ میں درج چاروں ایف آئی آرز پر ہونے والی پیشرفت سے متعلق عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ لیگل ڈائریکٹر ایف آئی اے اعظم خان سے کہیں وہ جواب جمع کرائینگے۔ عدالت نے مزید سماعت 25 جولائی تک ملتوی کردی۔
ردعمل طلب