غیر ملکیوں کیلئے ویزے کا اجرا وزارت خارجہ تک محدود رکھا جائے‘ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی‘ امریکہ سے تعاون کے طریقہ کار پر نظرثانی کر لی گئی : دفتر خارجہ

19 جولائی 2011
اسلام آباد (ثنا نیوز+ مانیٹرنگ نیوز+ اے این این) وزارت خارجہ نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ سے تعاون کے بارے میں طریقہ کار پر نظرثانی کر لی گئی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے ہدایت کی کہ غیرملکیوں کو ویزوں کے اجراءکے حوالے سے اختیارات کو وزارت خارجہ تک محدود رکھا جائے اس بارے میں دیگر اداروں کا زیادہ عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ خارجہ پالیسی میں سٹریٹجک مفادات کو فوقیت دی جائے امریکہ سمیت دیگر ممالک سے خودمختاری اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے جائیں، غیرملکیوں کو ویزا کا اجرا ون ونڈو آپریشن سے کیا جائے ، پارلیمانی کمیٹی کی قراردادوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے ۔ خارجہ امور کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے کمیٹی کو بریفنگ اور مڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ امریکہ سے تعلقات معمول پر آ رہے ہیں ان تعلقات میں اتار چڑھاﺅ آتا رہتا ہے، پاکستان کی امداد معطل نہیں اس میں تاخیر ہوئی۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ کمیٹی نے پاکستان امریکہ فوجی تعلقات کے بارے میں بریفنگ کے لئے وزارت دفاع کے حکام کو طلب کر لیا ہے۔ کمیٹی کو قومی سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور سفارشات پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ سے آئندہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی اتھارٹی اور ایکٹ کے بارے میں دونوں قوانین کے مسودوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ان قوانین کے بارے میں کمیٹی وزیر اعظم کو اپنی سفارشات سے آگاہ کرے گی۔ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر میاں رضا ربانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی ، وزارت خارجہ کے دیگر حکام نے پاکستان امریکہ تعلقات و دو طرفہ تعاون کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزارت خارجہ سے پارلیمنٹ کی قرار دادوں پر عملدر آمد کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ غیر ملکیوں کو ویزوں کے اجراءکے حوالے سے اختیارات کو وزارت خارجہ تک محدود رکھا جائے اس بارے میں دیگر اداروں کا زیادہ عمل دخل نہیں ہو نا چاہیے۔ کمیٹی کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی موجودہ نوعیت اور صورت حال سے آگاہ کیا گیا ۔ پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی نے زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرار دادوں پر سختی سے عمل کیا جائے ۔ 63پارلیمانی سفارشات پر عملدرآمد کے لئے بھی ایک بار پھر ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام معاملات میں اپنے سٹریٹیجک مفادات کو فوقیت دے برابری کی بنیاد پر بات چیت ہو نی چاہئے۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس25 جولائی کے بعد ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ دفتر خارجہ نے آگاہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی قراردادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعاون کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ دفتر خارجہ سے کہا ہے کہ پالیسی امور میں سٹریٹجک مفادات کو مدنظر رکھا جائے ۔این این آئی کے مطابق حنا ربانی کھر نے امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے سفارتکاری سے گریز کرے۔
قومی سلامتی