صرف دو روز کا ڈیزل رہ گیا....حالات بہتر نہ ہوئے تو ریلوے کو بند کرنا پڑیگا : غلام احمد بلور

19 جولائی 2011
لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ ریلوے کے پاس صرف 2 روز کا ڈیزل رہ گیا اگر یہی صورتحال رہی تو ریلوے بند ہو جائے گا کیونکہ حکومت کی اس میں کوئی دلچسپی ہے نہ ترجیح، ہم نہیں چاہتے یہ قومی ادارہ بند ہو مگر حالات کے آگے ہم بے بس ہیں، اعلیٰ عدالتوں سے میری اپیل ہے کہ وہ ریلوے انجنوں کے حوالے سے کیسوں کی سماعت روزانہ اور گھنٹوں کی بنیاد پر کریں، اگر ریلوے بیٹھ گئی تو یہ میرا نہیں بلکہ ملک و قوم کا نقصان ہو گا۔ اگر کیری لوگر بل سے ہمیں گرانٹ مل جائے تو ریلوے اپنے پا¶ں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ باپ دادا کی جاگیر فروخت کر کے ریلوے کو پا¶ں پر کھڑا نہیں کر سکتا۔ ریلوے کے پاس ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہ نہیں۔ ان خیالات کا ظہار انہوں نے لاہور ریلوے سٹیشن پر پولیس ہیلپ لائن میں انسداد پولیو مہم کے حوالے سے بچوں کو قطرے پلانے کے بعد میڈیا سے گفتگو اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جی ایم آپریشن سعید اختر اور آئی جی ریلوے سید ابن حسین نے بھی بچوں کو پولیو ویکسین پلائی۔ وفاقی وزیر نے کہا پہلے ٹرینیں ایک یا دو گھنٹے تاخیر سے پہنچتی تھیں اب یہ دورانیہ بڑھ کر 8 سے 10 گھنٹے تک چلا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس انجن نہیں۔ جب مغربی پاکستان بنا تھا تو ہمارے پاس 1000 انجن تھے جن میں سے 520 بچے ہیں اور ان میں سے بھی صرف 180 قابل استعمال ہیں۔ 2010ءکو وفاقی کابینہ نے ریلوے کو 11.1 ارب روپے دینے کی منظوری دی تھی، سات ماہ گذرنے کے باوجود اس میں سے ایک دھیلہ بھی نہیں ملا جبکہ وزیراعظم کو بھی کئی مرتبہ ریلوے کی حالت سے آگاہ کرچکے ہیں مگر کوئی ہمارا پرسان حال نہیں۔ ہمیں فریٹ آپریشن چلانے کے لئے 103 اور پسنجر آپریشن کے لئے کم از کم 155 انجنوں کی ضرورت ہے۔ جب تک کمانے والا ذریعہ (انجن) نہیں ملتے صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔
غلام احمد بلور