کپتان کا کالم نویس اور مسلم لیگ ن

19 جولائی 2011
سینیٹر مشاہد اللہ خان
\\\"ناتمام\\\" والے ہارون الرشید ایک صاحب طرز قلم کار ہیں۔ صحافتی انشاءپردازی میں ان کا اپنا انداز ہے ان کی کسی تحریر پر\\\"نا تمام\\\"کا \\\"لوگو\\\"نہ بھی ہو تو قارئین پہچان جائیں گے کہ صاحب تحریر کون ہے۔یہی نہیںان کے سیاسی تجزیے افسانوں کا لطف دیتے ہیں جبکہ اپنے ممدوح \\\"کپتان\\\"کے حوالے سے ان کے دعوے مزاح کی چاشنی لیے ہوتے ہیں۔ان کا طویل صحافتی کیرئیر بھی مختلف تجربات اورمشاہدات کا حامل ہے۔ایو ب خان کے آخری دور میںوہ رحیم یار خان سے لاہور آئے توجماعت اسلامی کے روزنامہ کوہستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد شاید وہ کسی اور ادارے میں بھی گئے ہوں لیکن ہمیں اتنا ہی یاد ہے کہ بھٹو دور کے آخر میں وہ پیپلز پارٹی کے مساوات میں خدمات انجام دے رہے تھے پی این اے کی تحریک کے نتیجے میں، بھٹو کا انجام نوشتہءدیوار بن چکا تھاجب انہوں نے مساوات کو خیر باد کہا۔کسی اخبار سے اخبا ر نویس کا استعفیٰ معمول کا درجہ رکھتا ہے لیکن انہوں نے اس کا اعلان ایک کھلے خط میںکرنا ضروری سمجھا کہ\\\" اب\\\" ان سے \\\"بھٹو فسطائیت\\\"مزید برداشت نہیں ہوتی۔ضیاءالحق دور کے افغان جہادمیں، وہ اس جہاد کی ترجمان ایک نیوز ایجنسی ایجنسی افغان پریس سے وابستہ تھے۔اس دوران جہاد اور مجاہدین کی حمایت میں لکھی گئی اپنی نظموں اور افسانوں کو ، پتہ نہیں ، آج وہ ”اون“کرتے ہیں یا نہیں؟بہاولپور حادثے کے بعدآئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمٰن پر ان کی کتاب \\\"فاتح\\\"نے ان کی شہرت میں مزید اضافہ کیا۔ لیکن یہ کتاب جنرل ضیاءالحق اور اختر عبدالرحمٰن کی اولاد میں غلط فہمیوں کا باعث بھی بنی کہ اس میں افغانستان کی فتح کا سہرا ضیاءالحق کی بجائے جنرل اختر عبدالرحمٰن کے سر باندھا گیاتھا۔ آخر اس پر اجیکٹ پر پیسے بھی تو ان ہی کی اولاد نے خرچ کیے تھے اسکے بعدشاید تلافی ءمافات کے لئے فاضل مصنف نے جنرل ضیاءالحق پر بھی کتاب لکھنے کا اعلان کر دیا اس کا نام بھی تجویز ہو گیا\\\"غازی\\\"-\\\" تکبیر\\\"میں ا س کا اعلان بھی ہو گیا لیکن ضیاءالحق کے ورثا اس پر سرمایہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے -اس دور ان فاضل قلم کار نے میاںمحمدشریف (مرحوم)پر بھی کتاب لکھنے کا ارادہ کیا \\\"مردآہن\\\"لیکن یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی-1993کے الیکشن میں وہ قاضی حسین احمد صاحب کے پاکستان اسلامک فرنٹ کی تشہیری مہم کا اہم کردار تھے تب ان کا قلم قاضی صاحب کو قوم کی ڈوبتی ناﺅکا واحد کھیون ہار،قومی امراض کا واحد مسیحا اور حال و مستقبل کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں روشنی کی واحد کرن قرار دے رہا تھا-(2007ءکی عدلیہ بحالی مہم کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں کپتان کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ کی بد سلوکی پر جناب ہارون الرشید نے اپنے کالم میں قاضی صاحب کوجو گالی دی وہ تو کل کی بات ہے)-اس دوران ان پر تحریک الاخوان کے ملک اکر م اعوان کی کرامات اور برکات آشکار ہوئیں اور انہوں نے ایک کالم میں ان کی بیعت کا با قاعدہ اعلان بھی فرما دیا-اب کچھ عرصے سے وہ ایک اور درویش کے کشف و کرامات سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ کپتان کی ترجمانی فرما رہے ہیں-قرآن و حدیث سے شروع ہو کر قرآن و حدیث پر ہی کالم کا اختتام کرتے ہوئے درمیان میں درویش کی پیش گوئی اور تاریخی واقعات کے بیان کے ساتھ کپتان کی تعریف و توصیف اور اس کے مخالفین کی مذمت و تضحیک بھی فرماتے ہیں -قرآنی آیات ،رسول اکرمﷺکے ارشادات، درویش کی پیش گوئی اور تاریخی واقعات کوکمال فن کے ساتھ کپتان کی امیج بلڈنگ اور مخالفین کی شخصیت شکنی اور کردار کشی کے لئے منطبق کرتے چلے جاتے ہیں۔اس وقت ان کے کچھ حالیہ کالم ہمارے زیر نظر ہیں-ایبٹ آباد آپریشن،پھرسانحہ پی این ایس مہران اور سیلم شہزاد کے قتل نے پاکستان کے عسکری اداروں کی قیادت اور ان کی صلاحیت کے حوالے سے بہت سے سوالات کو بجا طور پر جنم دیا -ایسے میں میاں نواز شریف کا رویہ کیا تھا؟ ایبٹ آباد آپریشن کے تین چار دن بعد میاں صاحب لندن سے واپس وطن آگئے (جہاں ایک عام سی سرجری کے دوران معاملہ پیچیدہ ہو گیا تھا ، اگر چہ اس دوران فاضل قلمکار کی ممدوح جماعت ایس ایم ایس کے ذریعے میاں صاحب کی کردارکشی کی مہم چلاتی رہی )وہ کسی ہیجان یا جذبہ انتقام سے مغلوب نہیں تھے- ان کا مطالبہ تھا، نہایت ٹھنڈے دل و دماغ سے مطالبہ کہ پاکستان کی خود مختاری کی پامالی کے اس واقعہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کرائی جائے اور جو بھی ذمہ دار قرار پائیں ان کا احتساب کیا جائے -میاں صاحب،فوج پر نہیں اس کی اس غلط کار قیادت پر تنقید کرتے ہیں جس نے مختلف اوقات میں اپنی ہوس اقتدارو زر کے لئے آئین کو پامال کیااور یوںاس قومی ادارے کی عزت و وقار کو نقصان پہنچایا -وہ اگر فوج کو اسکی آئینی حدود میں رکھنے اور اس کی تمام تر توجہ اس کے اصل پیشہ وارانہ کام پر مرکوز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان کے جذبہ خیر خواہی کا اظہار ہے یا کسی عداوت یا ذاتی دشمنی کا؟ دلچسپ بات یہ کہ خود فاضل قلم کار کو بھی اعتراف ہے کہ\\\"فوجی قیادت نے غلطیاں کی ہیں اور پہاڑ سی غلطیاں ،سیاست میں مداخلت ،مارشل لاءاور امریکہ کے مقابل پرویز مشرف کی سپر اندازی ، باوردی افسر غفلت کے مرتکب ہوئے جی ایچ کیو کی حفاظت میں،اسامہ بن لادن کی روپوشی اور کراچی کے عسکری مرکز میں تباہی،فوج کو سیاست میں دخل نہ دینا چاہیے ،یہ تنقید نہ صرف جائز بلکہ لازم ،دباﺅڈالنا اور برقرار رکھنا بھی\\\"-سوال یہ ہے کہ نواز شریف بھی تو یہی کہہ رہے ہیں -خود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرار داد میں بھی تو قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا(اور مسلم لیگ ن کے اصرار پر ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی بند کرنے اور پاک، امریکہ تعلقات پرنظر ثانی کے نکات بھی قرار داد میں شامل کئے گئے)لیکن فاضل کالم نگار اسے نواز شریف کی طرف سے پاک فوج پر عقب سے حملہ قرار دے رہے ہیں-کہا جاتا ہے کہ پاک فوج اس وقت سخت امریکی دباﺅ میں ہے- اگر ایسا ہے تو پھر نواز شریف کا یہ موقف اور پارلیمنٹ کی قرار داد تو اسے امریکی دباﺅ کے مقابلے کے لئے طاقت اور توانائی فراہم کرتی ہے-5جون کے کالم میں جناب ہارون الرشید رقم طراز ہیں\\\"مشرف امریکہ کے سامنے جھکا اور ملک ہی جھونک دیا مگریہ بھی ہے کہ دانشوروں کی اکثریت کے علاوہ محترمہ بے نظیر بھٹو ،نواز شریف ،آصف علی زرداری،چوہدری شجاعت،اسفند یار ولی اور الطاف حسین نے قطعا مخالفت کی اور نہ مزاحمت\\\"- فاضل کالم نگار کو یاد ہو گا کہ تب نواز شریف جدہ میں جلا وطن تھے۔محترمہ بے نظیر بھٹو بھی بیرون ملک تھیں(مشرف انہیں وطن واپسی کی اجازت دینے سے انکاری تھا)، آصف زرداری جیل میں تھے جبکہ فاضل کالم نگار کے ممدوح وزارت عظمیٰ کی سفارشی پرچی جیب میں لئے مشرف کے ہمراہ تھے- ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ موقع بے موقع کپتان کی مالا جپنے والے ہمارے فاضل دوست یہاں اپنے ممدوح کو کیوں بھول گئے؟مذکورہ بالا رہنماﺅں نے تو (بقول ان کے )مشرف کی امریکی اطاعت کی قطعاً مخالفت کی اور نہ مزاحمت لیکن معاف کیجئے، کپتان نے کیا کیا؟مشرف نے پاکستان کے قومی مفادات کا امریکیوں کے ساتھ یہ سودا ستمبر 2001 میںکیا اور کپتان اس کے بعد بھی اس کا بھرپور حامی اور مﺅید رہا۔16ستمبر (2001)کو مشرف سے ملاقات میں اس نے امریکہ سے تعاون کی حمایت کی -19فروری 2002کو جنرل مشرف کپتان کی دعوت پر شوکت خانم ہسپتال آیا اور دعا کی کہ عمران خان سیاست میں بھی عروج دیکھیں اس نے ہسپتال کے لئے3کروڑ روپے کا بھی اعلان کیا-23مارچ کو عمران خان کی زیر قیادت 20رکنی وفد نے مشرف سے ملاقات میں اس کے نام نہاد اصلاحاتی ایجنڈے اور مجوزہ صدارتی ریفرنڈم پر تبا دلہ خیا ل کیا-اپریل 2002 کے ریفرنڈم میں تحریک انصاف کی بھرپور شرکت اوراس کے بعد بھی اکتوبر 2002 کے الیکشن تک مشرف سے اس کے روابط اور تعلقات۔ معاملہ تب بگڑا جب مشرف کپتان سے وزارت عظمی کے مبینہ وعدے سے منحرف ہو کر ، چوہدریوں کی زیرقیادت قاف لیگ کا خالق وسرپرست بن گیا کہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق کپتان کے پاس مشرف کو دینے کے لیے کیا تھا؟ قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست اوراس پر وزارت عظمی کی توقع۔؟اسی کالم میں نواز شریف پر مزیدتبرا ”نواز شریف کلنٹن کی سفارش سے رہائی پاتے ہیں“۔ کلنٹن کی سفارش سے نہیں جناب والا! پاکستان کے ازلی وابدی دوست سعودی عرب کی قیادت کے دباﺅ پر جس کے شاہ عبداللہ نے 28 مئی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد نواز شریف کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر، ان کے اعزاز میں استقبالیے میں انہیں اپنا ”فل برادر“ قرار دیا تھا۔ جو ایٹمی دھماکوں کے بعد، امریکی دباﺅ کے باوجود، پاکستان کومفت تیل فراہم کررہے تھے۔ 12اکتوبر1999 کی فوجی کارروائی کے بعد، شاہ عبداللہ مشرف سے ملاقات سے مسلسل گریزاں رہے۔ اگلے سال اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وہ مشرف سے ملے تو اس سخت مطالبے کے ساتھ کہ وہ نواز شریف کو نشان عبرت بنانے کا خیال ذہن سے نکال دیں اوریہ کہ سعودی عرب ، پاکستان کے منتخب (اب معزول) وزیراعظم کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب ”ان دی لائن آف فائر“ میں بھی یہی بات لکھی اور اپنے حالیہ انٹرویوز میں بھی اس کااعادہ کیا کہ یہ سعودی شاہ عبداللہ تھے، جن کی خواہش پر وہ نواز شریف کو رہا کرنے اور سعودی عرب بھجوانے پر آمادہ ہو گئے۔ ہر اچھی بات کا کریڈٹ لینے کے شوقین امریکی اگر اس میں بھی اپنے حصے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔نوازشریف پرتبرا جاری ہے،”وہ اپنی دولت اور اولاد برطانیہ میں رکھتے ہیں“۔ اس استفسار کے بغیر کہ کپتان کی اولاد کہاں ہے؟ہم یہ یاد دلا دیںکہ میاں صاحب کے بڑے صاحبزادے حسین نواز برطانیہ میں نہیں ،جدہ میں اپنا کاروبار کرتے ہیں اور وہیں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کاروبار ،گھر اور بینک اکاﺅنٹس سب کچھ ان کے نام سے ہے۔ اس میں کچھ بھی خفیہ نہیں۔ گذشتہ تین سال میں وہ30 کروڑ روپے سے زائد پاکستان بھجواچکے ہیں۔ چھوٹے صاحبزادے حسن نواز لندن میں کاروبار کررہے ہیںاور وہاں بھی کچھ بھی خفیہ نہیں (جناب زرداری کے سرے محل اور سوئس اکاﺅنٹس کے برعکس) وہاں ان کے تمام اثاثے ظاہر ہیں ۔ ان کی ایک فہرست گزشتہ دنوں ایک ٹی وی اینکر نے اپنے پروگرام میں بھی پیش کی لیکن یہ وہی فہرست تھی جو خود حسن نواز نے لندن میں متعلقہ سرکاری محکموں کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے مہیا کی تھی۔ جدہ اور لندن میں یہ کاروبار اس وقت شروع کئے گئے جب میاں صاحب اور ان کا خاندان جلا وطن تھے۔ البتہ پارک لین لندن کے فلیٹ اس سے پہلے کے تھے اور یہ بھی خفیہ نہیں تھے۔ ان کے اپنے نام پر تھے کہ اپنی کاروباری مصروفیات کے لیے ان کا لندن آنا جانا رہتا تھا- وہاں ہوٹلوں کے بھاری اخراجات کی بجائے انہوں نے اپنے فلیٹ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ خود کپتان بھی لند ن میں اپنے فلیٹ کا اعتراف کرتے ہیںجوان کے بقول بعد میں انہوں نے فروخت کر دیا۔اب بھی جمائما سے علیحدگی کے باوجود اپنے نیک دل سسرال کے ہاں قیام وطعام کی سہولت انہیں حاصل ہوتی ہے- وہ انسانی حقوق کے لیے، جمائما کے شانہ بشانہ مظاہروں کی قیادت بھی کرتے ہیں اور اپنے صہیونی برادر نسبتی کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ بھی لیتے ہیں۔ میاں صاحب پر اگلا حملہ، ”وہ امریکیوں اور انگریزوں کے کہنے پر الیکشن لڑتے ہیں“لیکن خود ہارون الرشید صاحب کے پرانے کالم اس بات کے شاہد ہیں کہ این آر او کے تحت ہونے والے انتخابات میں نواز شریف کو باہر رکھنے کا منصوبہ تھا۔ 10 ستمبر کو میاں صاحب کی اسلام آباد آمد پر خود امریکی پریشان تھے۔ وکی لیکس کے مطابق رچرڈ بوچرپاکستان میں میاں صاحب کی موجودگی کو مشرف اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ سمجھ رہا تھا۔ کرزئی کے خدشات بھی اپنی جگہ تھے۔ خود ہارون الرشید صاحب 21 جون کے کالم میں ،جنرل کیانی کے احسانات جتاتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ”جنرل کیانی نے امریکہ اور جنرل مشرف کی خواہشات کے برعکس 2008 ءکو الیکشن میں (ن) لیگ کو دھاندلی سے بچایا“۔ فاضل کالم نگار خود ہی اپنی اداﺅں پر غور فرمائیں کہ ایک طرف وہ انتخابات میں(ن) لیگ کی شرکت کو امریکیوںاور انگریزوں کی خواہش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، اورساتھ ہی (ن) لیگ کے خلاف امریکہ اور جنرل مشرف کے دھاندلی کے منصوبے کا انکشاف بھی فرمارہے ہیں۔باقی رہی بائیکاٹ کی بجائے الیکشن میں حصہ لینے کی بات تو ایسا نہیں کہ نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ نے اے پی ڈی ایم اے کے اتحادیوں کو اندھیروںمیں رکھ کر، خود چپکے سے کاغذات داخل کروا دئیے -وہ تو ان سب کو قائل کرتے رہے کہ ایسے میں جب (ق )لیگ ، ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی (این آر او والی مفاہمت کے تحت) الیکشن میں حصہ لے رہی ہے، بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہنا سخت نقصان دہ ہو گا۔ مشرف اور اس کے این آر او اتحادیوں کے عزائم کی مزاحمت کے لیے الیکشن کے میدان میں اتر آنا چاہیے- اس کے لئے 10دسمبر 2007کو ماڈل ٹاﺅن لاہور میں اے پی ڈی ایم کے اجلاس کا حوالہ کافی ہو گا-جس میں عمران خان اور قاضی حسین احمد صاحب بھی شریک تھے سات گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اس اجلاس میں الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کے مسئلے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو طے پایا کہ اے پی ڈی ایم کے رکن جماعتیں اس سلسلے میں آزاد ہو گئیں-اپنے تازہ کالم\\\"خدائی\\\"(10جولائی ) میں فاضل کالم نگار نے لکھا ہے کہ پرویز مشرف اور امریکا کا منصوبہ یہ تھا کہ نواز شریف کو سعودی عرب میں محبوس رکھ کر جنرل کی چھتری تلے (ق) لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ حکومت قائم کی جائے-آزاد پریس نے اس مکروہ منصوبہ بندی کو نا کام بنا دیا - اور دلچسپ بات یہ کہ اسی کالم میں انہوں نے یہ انکشاف بھی فرمایا ہے کہ رچرڈ بوچر ،نیگرو پونٹے اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کے اصرار پر نواز شریف بائی کاٹ کے فیصلے سے مکر گئے-سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو الیکشن کا بائی کاٹ کر کے پرویز مشرف اور امریکہ کے اس منصوبے کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے تھا کہ جنرل کی چھتری تلے( ق) لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ حکومت قائم کی جا سکے اور یہ سوال بھی کہ الیکشن میں حصہ تو اے پی ڈی ایم کی دیگر رکن جماعتوں ،اے این پی اور جے یو آئی نے بھی لیا پھر تنقید کا نشانہ صرف نواز شریف کیوں؟ (محترمہ سے میاں صاحب کی ملاقات اتمام حجت کے لئے تھی ،لیکن وہ الیکشن میں حصہ لینے پر بضد رہیں) اور یہ جو موجودہ پارلیمنٹ کی طرف سے مشرف کے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام اور این آر او کی توثیق نہیں ہو سکی تو اس کا سبب بھی اس کے سوا کیا ہے کہ اس کی مزاحمت کے لیے (ن) لیگ پارلیمنٹ میں موجود ہے؟نواز شریف پر مارشل لا نوازی کا الزام لگاتے ہوئے فاضل کالم نگار ایوب خان اور جنرل یحییٰ تک جا پہنچے اور پھر اگلے ہی فقرے میں یہ اعتراف بھی کر لیا، کہ تب میاں صاحب کا خاندان عملی سیاست میں نہیں تھالیکن وہ یہ کہنا بھول گئے کہ بھٹو صاحب کے ہاتھوں اتفاق فونڈریز کی نیشنلائئزیشن کے وقت یہ پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے بڑی سٹیل مل تھی۔ (اس کی ایک شاخ، اسی نام سے مشرقی پاکستان میں بھی تھی) اور یہ سب کچھ کسی سیاسی سرپرستی کے بغیر تھا۔ بھٹودور میں میاں محمد شریف کی زیر نگرانی اتفاق خاندان نے کس طرح سروائیو کیا اور ایک بار پھر ملک کے ممتاز صنعت کاروں میں شمار ہونے لگے، عز م و ہمت کی یہ داستان پاکستان سے متحدہ عرب امارات کے صحرا¶ں تک پھیلی ہوئی ہے-فاضل کالم نگار نے جنرل ضیاءالحق کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان ہی کے دور میں ان کے کاروبار نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی، بنکوں کے دروازے ان کے اشارہ ابرو پر کھلتے اور بند ہوتے تھے-اس میں شک نہیں کہ بھٹو دور کی نیشنلائزڈ اتفاق اسٹیل مل ، ضیاءالحق دور میں انہیں واپس مل گئی لیکن اس حال میں کہ یہ مکمل طور پر تباہ حال تھی(بھٹو صاحب نے ایک پیسہ کی ادائیگی کے بغیر اسے قومیا لیا تھا) - شریف خاندان کے عزم و ہمت نے اسے نئی زندگی دے دی- بنکوں سے شریف خاندان کا کاروباری تعلق ، اسی طرح کا تھا جس طرح کسی بھی کامیاب اور قابل اعتبار صنعتی خاندان کا ہوتا ہے- اور جناب کالم نگار اتفاق خاندان کے ان چھ صنعتی ادارو ں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو بھٹو دور ہی میں پاکستان میں قائم کر دیئے گئے جبکہ وہ تمام خاندان جن کے صنعتی ادارے سرکاری تحویل میں لئے گئے تھے ، اپنے باقی ماندہ سرمائے کے ساتھ بیرون ملک چلے گئے تھے-محترمہ کے دونوں ادوار میں (اور مشرف دور میں بھی) ایک ایک پیسے کی تحقیق و تفتیش ہوئی - شریف خاندان کا آج بھی یہ کہنا ہے کہ اگر حکومت یا کسی اور کے پاس ، ان کی غیر قانونی دولت یا جائیداد کا کوئی ثبوت ہے تو وہ بصد شوق عدالت سے رجوع کرے- باقی رہا برسوں جنرل ضیاءالحق کے مزار پر جانے کا طعنہ ، تو فاضل کالم نگار یہ بھی بتاتے چلیں کہ ان برسوں میں ، خود آپ اورآپ کے خاندان کے سیاسی افراد کے جنرل ضیاءالحق اور ان کے خاندان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا تھی؟فاضل قلمکار نے نواز شریف کے کسی ایسے فیصلے کا ذکر بھی کیا ہے کہ\\\" تحریک انصاف پر لاہور کی زمین تنگ کردی جائے، کردار کشی کا منصوبہ اور اپنے قلم کارندوںکو ہدایت کی کہ کپتان کے پرخچے اڑا دیں؟\\\"لگتا ہے ، ہمارے پسندیدہ کالم نگار نے کوئی ڈرا¶نا خواب دیکھ لیا ہے یا پھر کوئی ہاررسٹوری لکھ رہے ہیںجس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں- کافی دن ہوئے کہ انہوں نے اپنے کزن سابق سینیٹر طارق چوہدری کی زبانی یہ خبر بھی اپنے قارئین کو دی تھی کہ خواجہ آصف ، احسن اقبال اور پرویز رشید پر مشتمل کوئی کمیٹی دس کروڑ روپے کے ساتھ بنی ہے جس کا ہدف عمران خان کے خلاف مہم اور اس کی کردار کشی ہے- لیکن یہ بھی ایک افسانہ تھا، ورنہ وہ بتائیں کہ اس دوران عمران خان کی کردار کشی کی مہم انہیں کہاں نظر آئی ہے؟البتہ موصوف اپنے ہر کالم اور ٹی وی کے ہر تجزیے میں نواز شریف کی کردار کشی پر مامور نظر آتے ہیں-کیا کپتان کی سیاسی حکمت عملی یا سیاسی کارکردگی کا جائزہ اور اس پر تنقید کو کردار کشی کی مہم قرار دیا جائے گا؟ آپ نواز شریف پر بے تکان ہر الزام لگاتے اور اپنے ہر کالم اور تجزیے میں اس کا اعادہ کرتے چلے جائیں، متکبر ،ریاکار، جفاکار سمیت اردو لغت سے ہر الزام انہیں دے دیں، اور آپ کے ممدوح کی سیاست پر پورے ادب و احترام کے ساتھ تنقید بھی کردار کشی کی مہم قرار پائے؟ کیا تحریک انصاف کا تصور انصاف یہی ہے؟باقی رہی قاف لیگ کے متعلق نواز شریف کی پالیسی تو بارہا یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ نواز شریف چوہدری برادران سمیت ، بعض ان شخصیات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں جنہوں نے مشکل وقت میں پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ، مشرف کے سیاسی عزائم کے لئے قاف لیگ تشکیل دی ، اکبر بگٹی کے قتل ، جامعہ حفصہ و لال مسجد آپریشن، آزاد عدلیہ پر دوبارحملہ اور امریکی اطاعت میں ہر حد سے گذر جانے سمیت اس کے کتنے ہی ناقابل معافی جرائم کے باوجود ، اسے دس بار وردی سمیت منتخب کرنے کے اعلانات کرتے رہے- کہا جاتا ہے ، نواز شریف انہیں لاوارث چھوڑ کر خود جدہ چلے گئے تو یہ اور کیا کرتے؟ اس کا ایک جواب تو یہی ہے کہ وہی کچھ کرتے جو ان کی جلاوطنی کے دوران یہاں (ن) لیگ کرتی رہی- شاید یہ توقع زیادہ ہو تو کم از کم وہ نہ کرتے، جو انہوں نے کیا- نواز شریف تو ابھی اٹک قلعے ہی میں قید تھے جب انہوں نے مشرف کی خوشنودی کے لئے مسلم لیگ ہا¶سوں پر قبضے شروع کردیئے تھے-جن (ق) لیگیوں کو قبول نہ کرنے پر فاضل کالم نگار نواز شریف کو متکبر اور مغرور قرار دے رہے ہیں ، وہ آج کہاں ہیں ، کس کے ساتھ ہیں؟ اس سے اگر نواز شریف کو نقصان ہوا ہے تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ان ہی میں سے بعض شاید عمران خان کے انقلابی کارواں کا حصہ بن جائیں؟
کوئی محمل نشیں کیوں شادیاناشاد ہوتا ہے
غبار قیس خود اٹھتا ہے ، خود برباد ہوتا ہے
10جولائی والے کالم میں فاضل کالم نویس نے یہ انکشاف بھی فرمایا ہے کہ 2سال پہلے ن لیگ کے لیڈر ،کپتان کے رفیق احسن رشید کے گھر گئے اور کہا کہ وہ کپتان کو وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں-حیرت ہے کہ کپتان کے روزوشب کے محر م راز پر یہ انکشاف دو سال بعد ہوایا انہوں نے قوم کو اس راز سے آگاہ کرنے میں دو سال تاخیر کیوں کی؟ کیا یہ بھی کوئی شاعرانہ خیال ہے جو اب ان پر اترا لیکن اصل سوال اور ہے کہ دو سال پہلے ن لیگ کو کیا مجبوری آن پڑی تھی کہ کپتان کو ملک کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے کی پیشکش کر دی اور یہ بھی کہ وزارت عظمیٰ کے عوض کپتان کے پاس ن لیگ کو دینے کے لئے کیا تھا؟یوں لگتا ہے کہ صاحب \\\"نا تمام\\\" کے ممدوح کا ایجنڈا ایک ہی ہے، نوا ز شریف کی مخالفت-گرینڈ الائنس کا تصور ایوان صدر اور پرائم منسٹر ہاﺅس سے زیادہ کپتان کے لئے تکلیف دہ ہے- حالیہ ہفتوں میں قومی سطح پر کیا کیا قیامتیں گزر گئیں،کیسے کیسے اہم واقعات ہوئے.... دو مئی کا ایبٹ آباد آپریشن ، خروٹ آباد کا سا نحہ، پی این ایس مہران پر حملہ،سلیم شہزاد کا پر اسرار قتل اور بےنظیر پارک کراچی میں نوجوان سرفراز شاہ کا قتل ،اس سب کچھ پر کپتان کا کوئی رد عمل ،کوئی ایک لفظ؟