امریکی ٹشو پیپر پالیسی

19 جولائی 2011
اسرار احمد کسانہ
یکم فروری 2003ءہفتہ کا دن لینگلی ورجینیا میں سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں دو درجن سے زائد امریکی انتظامیہ اور انٹیلی جنس کے انتہائی اہم اہلکار موجود تھے اور بحث ہو رہی تھی کہ چار دن بعد یعنی 5 فروری 2003ءکو امریکی وزیر خارجہ کولن پا¶ل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے انتہائی اہم اجلاس میں عراق کے خلاف امریکہ کا مقدمہ کس طرح پیش کریں۔ کولن پا¶ل کے علاوہ سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینٹ بھی موجود تھے۔ چھ گھنٹے پر محیط اس بحث و تمحیص میں تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد بھی عراق کے مہلک ہتھیاروں کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہاتھ آیا۔ کولن پا¶ل نے چار دن بعد کی جانے والی اپنی تقریر کی ریہرسل کے دوران پریشان ہو کر اس کے صفحات فضا میں اڑا دیئے۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کنڈولیزا رائس اور جارج ٹینٹ ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ نائب صدر ڈک چینی کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور پھر کولن پا¶ل کی تقریر کا پہلا ڈرافٹ انہی کے دفتر میں لکھا گیا‘ لیکن کولن پا¶ل نے سکیورٹی کونسل میں یہ تقریر کی تو انہیں معلوم تھا کہ ان کا کیس نہایت بودا اور کمزور ہے اور وہ دنیا کے سامنے یہ کیس شاید جیت نہ سکیں اور بعینہ ایسا ہی ہوا۔
عراق سے مہلک ہتھیاروں کی بازیابی کے بغیر ہی عراق پر جنگ مسلط کر دی گئی اور ہزاروں لاکھوں افراد لقمہ¿ اجل بن گئے۔ اس وقت کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے مضحکہ خیز بیان دیا کہ ایک نہ ایک دن عراق میں مہلک ہتھیاروں کا سراغ ضرور ملے گا۔ ادھر برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو احکامات جاری کئے تھے کہ وہ عراق کے بارے میں DOSSIER کو SEXIER بنائیں یعنی اس کو مزید ”دلکش“ بنائیں تاکہ عوامی سطح پر جنگ کے حق میں کیس جیتا جا سکے۔ مگر ایسا نہ ہوا اور ساری دنیا میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یہی غلطی امریکہ نے افغانستان میں بھی کی تھی۔ صورتحال جانتے بوجھتے امریکہ نے غریب اور نہتے افغان عوام پر چڑھ دوڑنے کا فیصلہ کیا تھا‘ اس کے حقیقی مقاصد کی تفصیل میں فی الحال جائے بغیر صرف اتنی گزارش ہے کہ افغانستان میں کھربوں ڈالر زمین بوس کرنے کے بعد اور ہزاروں فوجی تابوت دفنانے کے بعد امریکہ اپنی فوج کو نکالنا چاہتا ہے۔ اسامہ بن لادن جس کے نام پر ساری کارروائی کی گئی اور دس سال تک ساری دنیا میں ایک ہوا بنا کر سراسیمگی اور سنسنی پھیلائی گئی اب قتل ہو چکا ہے (اگرچہ اس کے قتل پر بھی شکوک و شبہات کی ایک دبیز تہہ جمی ہوئی ہے) ان حالات میں اب اسے پاکستان کی ضرورت اتنی نہیں رہی جتنی پہلے تھی لہٰذا مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان سے فاصلہ اختیار کیا جا رہا ہے اور اس حکمت عملی کے بارے میں یاد رہے کہ امریکہ میں بھارتی لابی کا فیصلہ کن عمل دخل ہے۔
حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی فوجی امداد جو 800 ملین ڈالر تھی معطل کر دی گئی اور صدر اوباما کے چیف آف سٹاف ولیم ڈیلی نے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلق کو \\\"ESTRANGED\\\" قرار دیا۔ کیا وجہ تھی کہ امریکہ نے سول امداد تو جاری رکھی لیکن وہ فوج جس کے ساتھ اس کا سب سے بڑا مفاد منسلک تھا اس کی امداد روک لی گئی۔ کچھ ماہرین کا تو یہ خیال تھا کہ چونکہ سول حکومت امریکہ کیلئے کوئی مسائل پیدا نہیں کر رہی تھی اور فوج مختلف ایشوز خاص طور پر شمالی وزیرستان کے مسئلے پر امریکی رائے سے متفق نہیں تھی اسلئے فوج کو سخت پیغام دینا مقصود تھا۔ اس صورتحال کو امریکی ٹرینرز کی واپسی اور مزید ٹرینرز کیلئے ویزوں کی عدم فراہمی نے مزید خراب کیا اور پھر طرفہ تماشہ دیکھئے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیک مولن نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت کرتے ہوئے ایک پاکستانی صحافی کے قتل کا الزام پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر دھر دیا۔ اسی بیان کی وجہ سے پاکستان کے اندر بھی صحافیوں اور چند سیاسی رہنما¶ں نے فوج پر تنقیدی بیانات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ حالانکہ مذکورہ صحافی کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں کہ وہ حساس معلومات کن کن ایجنسیوں کو فراہم کرتے تھے اور اگر لوگوں کو ان کے اکا¶نٹ میں پڑی رقم کا اندازہ ہو جائے تو ان کے اوسان خطا ہو جائیں۔
امریکہ میں عوامی سطح پر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ ”نو فری لنچ“۔ یہ امریکی سائیکی کا حصہ ہے کہ وہ مفاد کے بغیر نہ محبت کرتے ہیں اور نہ نفرت۔ آج پاکستان ان کے مفادات کی لسٹ میں ذرا نیچے آ گیا ہے تو انہوں نے فوراً ہی امداد بند کر دی ہے۔ کاش کہ ہم نے امداد کی پہلی بندشوں اور پابندیوں سے کچھ سبق سیکھے ہوتے اور امریکہ کی ٹشو پیپر پالیسی کا بروقت اندازہ لگا لیا ہوتا۔
سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے کہا تھا TRUST BUT VERIFY یعنی اعتماد ضرور کرو مگر دیکھ بھال کے۔ امریکی صدر کا مشورہ کسی اور کے بارے میں درست ہو یا نہ ہو خود امریکیوں کے بارے میں صادق آتا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک (ہمارے علاوہ) اس مشورے پر عمل بھی کرتے ہیں مثلاً بھارت۔ وہ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے مگر احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ امریکیوں سے بڑے بڑے مفادات حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ اسرائیل کو ہی لیجئے۔ سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ملک ہے مگر امریکہ کو ہر معاملے میں ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ ساٹھ سال کے پاک امریکہ تعلقات سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بار بار کے دھوکے اور نقصانات بھی ہمیں اپنی دروں بینی پر مجبور نہیں کر سکے اور اب نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم امریکہ کے اس فیصلے کو اپنے لئے ایک موقع جانتے ہوئے اپنی قوم کے اندر خودانحصاری اور خودداری پیدا کرنے کا ایک ذریعہ بنا لیں۔ ویسے بھی اگر ہماری سول اور فوجی قیادت بیلنس شیٹ بنائے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کیا کھویا اور کیا پایا کا حساب لگائے تو مجھے یقین ہے کہ ہمارا خسارہ ہی خسارہ نظر آئے گا اور جو چند کوڑیاں ہم نے لی بھی ہوں گی وہ عوام تک پہنچنے سے پہلے امریکی ایجنٹوںکی جیبوں میں پہنچ گئی ہوں گی اور پھر دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں 35 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی شہادت کا حساب کون دے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی سول اور فوجی قیادت سر جوڑ کر ساری صورتحال کا تجزیہ کرے اور اداروں کے درمیان لڑائی کرانے کی بین الاقوامی سازش کو سمجھتے ہوئے اپنی قومی پالیسی استوار کرے اور امریکی امداد کو ہمیشہ کیلئے مگر آہستہ آہستہ خیرباد کہتے ہوئے قوم میں خودانحصاری اور حمیت پیدا کرے ورنہ امریکہ کی ٹشو پیپر پالیسی اسی طرح چلتی رہے گی اور ہم بار بار اس کا شکار ہوتے رہیں گے۔

امریکی پالیسی

ظفر علی راجاوقفے وقفے سے مسلم ملکوں کے امن میں راجاؔطوفاں ایک اٹھا دیتی ہَے ...