ارکان اسمبلی کی اپنے حلقوں سے بے نیازی

19 جولائی 2011
ارکان اسمبلی، صوبے کے ہوں یا مرکز کے اس فارمولے پر عمل پیرا ہیں، کہ ”مطلب نکل گیا تو کوئی پوچھتا نہیں“ یہ ہمارے تاریک ستارے پھر سے 2013 میں جھولی پھیلائے لوگوں کے دروازوں پر طلوع ہوں گے، اور اُن کی ترقی و خوشحالی کے لئے ووٹ مانگیں گے، ووٹرز اگرچہ اب پہلے سے زیادہ ہوشیار بیدار ہو چکے ہیں اور کھوٹے کھرے کی پہچان رکھتے ہیں، تاہم کسی نہ کسی طرح کوئی نہ کوئی ”پَج“ لگا کر یہ امیدواران، جو پانچ سال ناامیدی کے ترقیاتی فنڈ بانٹتے ہیں منتخب ہو ہی جائیں گے، مگر ہماری لوگوں سے درخواست ہے کہ ایک بچھو سے خود کو بار بار نہ ڈسوائیں، اور دیکھ بھال کر بلکہ شرط لگا کر ووٹ دیں کہ پہلے یہ کریں وہ کریں پھر ووٹ دینے کا سوچیں گے۔ اس وقت صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں کے ارکان ترقیاتی فنڈز شکم میں ڈال کر ہضم بھی کر چکے ہیں، اور صرف لاہور شہر ہی کو دیکھیں تو یہاں مرکزی و صوبائی دونوں ارکان اسمبلی نے اپنے اپنے حلقوں کو حلقہ دامِ خیال سمجھ رکھا ہے، اور آپ جس حلقے میں بھی جائیں وہاں کے مکین آپ کو بتائیں گے کہ آئندہ اپنے نمائندے کو حلقے میں گھسنے نہیں دیں گے۔ کافی دنوں کی بات ہے کہ ہم نے حلقہ 124 کے ایم این اے سے رابطہ کیا کہ فلاں آبادی میں سڑکیں، سیوریج، پانی اور حلقے کے آخری حصہ میں گیس کی عدم فراہمی آپ پر نوحہ کناں ہے، تو انہوں نے جواباً فرمایا میرے بیٹے سے رابطہ کر لیا جائے، اور فون بند ہو گیا، یہ حلقہ مسلم لیگ نون کا ہے، میاں نوازشریف صاحب اگر اس ایک حلقے کے رکن قومی اسمبلی کو بھی اس کے حلقے کی اصلاح و فلاح کی طرف متوجہ کر لیں تو ہم سمجھیں گے کہ پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی نے کچھ تو کر دکھایا۔ میاں شہباز شریف خاصے فعال وزیراعلیٰ ہیں وہ کم از کم اپنے صوبائی ارکان اسمبلی ہی کو رواں کر دیں آج بھی انہوں نے ترقیاتی سکیموں میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی بات کی ہے، مگر یہ سب تو باتیں ہیں باتوں کا کیا، حلقہ 124 کے ساتھ ملحق ہی جناب نوید انجم کا صوبائی حلقہ ہے، انہوں نے بھی علاقے کے بجائے اپنے سکولوں پر توجہ تیز تر کر دی ہے، یہ تو صرف ایک علاقے کا احوال ہے مگر دیکھا جائے تو پورے ملک میں کروڑوں روپے جو ارکان اسمبلی جات کو دئیے گئے، وہ سب اُن کے حلقوں کے بجائے، اُن کے اکاﺅنٹوں میں محفوظ ہیں اور بڑھتے جا رہے ہیں، لاہور کی سطح پر بھی اگر گورنر اور وزیراعلیٰ مل کر پنجاب کی سطح پر ہی ایم این ایز اور ایم پی ایز اور اُن کے حلقوں کے دو دو مکینوں کو بلا کر ایک محفلِِ سوال و جواب منعقد کریں، تو کافی پھوڑے، زخم اور دل کے پھپھولے سامنے آ جائیں گے، غریب عوام کی بہبود کے لئے، دی گئی رقوم میں خورد برد گناہ کبیرہ ہے، مگر اس گناہ کے عذاب سے کون ڈرتا ہے، پنجاب کے اکثر شہروں میں یہ وباءعام ہے، کہ ووٹ لینے والے اپنے ووٹرز کی جانب مڑ کر نہیں دیکھتے، یہ ارکانِ اسمبلی حکومت سے مراعات حاصل کرتے ہیں، اور ان کو ان کے حلقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے کروڑوں روپے دئیے جاتے ہیں، مگر یہ اول تو حلقے میں کوئی ترقیاتی کام ہی نہیں کرتے اور اگر کہیں اکا دکا کام ہوا بھی ہے، تو اس طرح سے کہ اب تک وہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے، پاکستان میں پاکیزہ سیاست کا تصور اب دیوانے کا خواب ہے، اگر سیاست و جمہوریت کو اُس کی اصلی روح کے ساتھ نافذ کرنا ہے تو ہر رکن اسمبلی کو اپنے حلقے کے ساتھ اپنے ووٹروں کے ساتھ انصاف کرنا ہو گا، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر عوام کے ہاتھ میں بہت کچھ ہے، لیکن دوسرے ملکوں کے عوام کی طرح ایکتا نہیں، اگر ہم اپنی ذات سے بالا ہو کر سوچیں، اور ایک کے مسئلے کو پورے علاقے کا مسئلہ سمجھ لیں تو ظاہر ہے، سب یکجا ہو جائیں گے، اور اگر ایک ہجوم وزیراعلیٰ یا کسی بھی متعلقہ حکمران یا علاقے کے رکن اسمبلی کے پاس جائے گا، تو وہ ضرور حرکت میں آئے گا، حرکت اور اجتماعی کوشش میں اللہ نے بڑا زور رکھا ہے، اس سے عوام کام کیوں نہیں لیتے۔ اب انتخابات پھر قریب آ رہے ہیں، اور انہی ارکان اسمبلی نے دروازے پر دستک دینا ہے۔ جس نے اپنے حلقے کے لئے کام نہ کیا ہو، اور فنڈز کھا گیا ہو، اُس کے تمبو میں نہ جائیں، اُس کے لئے دروازہ کھول کر بند کر دیں، اُسے خود ہی اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا، مگر ہم لوگ صرف اپنے انفرادی مفاد کے لئے لڑتے ہیں، دوسرے کے فائدے کے لئے اکٹھے نہیں ہوتے اور نہ ہی آواز بلند کرتے ہیں، ہر رکن کا ایک سیاسی لیڈر بھی ہوتا ہے اُس کے پاس جوق در جوق جائیں کہ آپ نے جس کو ٹکٹ دی اُس نے ہمارا یہ حشر کر رکھا ہے، آپ آئندہ اُس کو ٹکٹ نہ دیں، اور اُس سے پوچھ گچھ بھی کریں کہ قومی رقوم قوم پر کیوں خرچ نہیں کیں اور اپنی تجوری بھر لی، اس سلسلے میں صدر، وزیراعظم، وزراءاعلیٰ، گورنرز حضرات بھی اُن ارکان اسمبلی سے پوچھیں کہ انہوں نے اپنے حلقوں کو کیوں یتیم کر رکھا ہے، پارلیمنٹ اس سلسلے میں سب سے بڑھ کر زوردار رول ادا کر سکتی ہے، اس لئے یہ مسئلہ کہ ارکان اسمبلی اپنے حلقوں کے پیسے کھا جاتے ہیں، اور منتخب ہونے کے بعد خیرسگالی کے طور پر بھی اپنے حلقے کا دورہ نہیں کرتے، اُنہیں پارلیمنٹ ہی پوچھ سکتی ہے، حکومت کے قیام، جمہوریت کے دوام اور آئندہ انتخابات کا دار و مدار عوام کے انتخابی حلقوں کے لئے کام کرنے میں مضمر ہے، اس لئے پارٹی قائدین اپنا قبلہ راست کر لیں۔