بدزبانی کی سیاست

19 جولائی 2011
چینی کہاوت ہے کہ منہ کھولنے سے صرف آپ کا دہن نہیں بلکہ باطن بھی نظر آجاتا ہے۔ شاید اسی لئے چینی کم گو ہوتے ہیں۔ شاید اسی لئے وہاں نہ ذوالفقار مرزا پائے جاتے ہیں اور نہ ہی ردعمل میں شہروں کو آگ لگانے والے!
بیتے دنوں کی بات ہے کہ سیاست میں مولانا مودودی، مفتی محمود، اصغر خان اور نوابزادہ نصر اللہ خاں جیسے متحمل، بردبار اور شائستہ رہنماءہوا کرتے تھے۔ کہیں احتجاجی جلسے میں بھی کسی کارکن نے نازیبا زبان استعمال کی تو رہنماءاس منہ پھٹ کارکن سے برا¿ت کا اعلان کردیتے تھے۔ دھمکی بھی اس قدر شستہ اور شائستہ ہوتی کہ نصیحت کا گماں ہوتا اور پھر یوں ہوا کہ وضعداری اور ٹھہراﺅ کے اس ماحول میں ناراض ذوالفقار علی بھٹو کف چڑھائے، گریبان کھولے نمودار ہوئے اور پھر سیاست میں تندی¿ گفتار اور گرمئی بازار نظر آنے لگی۔ جب قائد عوام ایسے تھے تو نائبین بھی غلام مصطفی کھر اور راجہ انور جیسے میسر آنے لگے۔ ہم جوان ہونے کے ناطے اس طرزِ تخاطب اور جوشِ خطابت پر تالیاں پیٹتے نہ تھکتے تھے، خبر نہ تھی کہ یہ ”عوامی انداز“ کل کی سیاست کو پراگندہ، متشدد اور نفرت آلود کردیگا، کاش تب کسی نے انہیں روکا ہوتا!
پھر شیخ رشید کا عوامی انداز سامنے آیا۔ پارلیمنٹ جیسے اہم فورم پر اپنی قیادت کی موجودگی میں جو بازاری تبصرے وہ فریقِ مخالف پر کیا کرتے تھے، کاش تب میاں نوازشریف نے انہیں شٹ اپ کال دی ہوتی، انکی رکنیت معطل کی ہوتی، کاش اس ہرزہ سرائی کے جواب میں دشنام طرازی کرنیوالے اپنے ساتھیوں کو بے نظیر صاحبہ نے روکا ہوتا، ایسا نہ ہوا، لہٰذا یہ بدزبانی و بدکلامی سیاست کا وطیرہ بن گئی۔ 90ءکی دہائی کی ساری سیاست اس دریدہ دہنی سے عبارت ہے۔
آج جب یہ میراثِ بدزبانی و دشنام طرازی ذوالفقار مرزا، فیصل رضا عابدی، وسیم اختر، فیصل سبزواری، رانا ثناءاللہ اور راجہ ریاض تک آپہنچی ہے تو شکوہ کیوں ہے؟ ووٹ دے دے کر یہ فصل ہم نے ہی بوئی ہے۔ کیا تعجب خیز خبر ہے کہ ذوالفقار مرزا کی شعلہ افشانی کا نوٹس صدر زرداری نے لے لیا ہے۔ کیا یہ وہی صدر زرداری نہیں جنہوں نے حال ہی میں نوڈیرو میں ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ پر اپنے مخالفین کے بارے میں سطحی زبان استعمال کی تھی۔ فریقِ مخالف کو لوہار اور نیچ قرار دیا تھا۔ جب لیڈر ایسا ہے تو پیروکار بھی ایسے ہی ہونگے۔ اس بدزبانی پر معترض اور مشتعل ایم کیو ایم کو بھی یقیناً یاد ہوگا کہ چند ماہ قبل انکے لیڈر وسیم اختر نے پنجاب کے عوام اور منتخب قیادت کے بارے میں جو گل افشانیاں کی تھیں، تب پنجاب نے تو نہ بسیں جلائیں اور نہ ہی لاشیں گرائیں۔ کاش تب الطاف بھائی نے اس شعلہ افشانی کا نوٹس لیکر مثال قائم کی ہوتی تو آج پوری قوم بھی انکے ساتھ ہوتی۔
اور وسیم اختر کی شعلہ بیانی کی وجہ بننے والے چودھری نثار کو کون بھول سکتا ہے۔ کاش تب میاں نوازشریف نے چودھری صاحب کی طبیعت درست کی ہوتی۔ انکے غیرذمہ دارانہ بیان کا پوسٹ مارٹم کیا ہوتا۔ کاش! اے این پی کی قیادت نے برسوں سے تعصب زدہ تقاریر کرنیوالے شاہی سید کو روکا اور سمجھایا ہوتا تو آج کراچی کے پختون مشکلات کا شکار نہ ہوتے۔ مگر نہ ماضی میں قائدین نے کوئی مثبت طریق اختیار کیا نہ مستقبل میں اسکی کوئی توقع ہے کیونکہ یہ ”طرفہ تماشا“ انہی قائدین کی آشیرباد سے جاری ہے۔ اسی حوصلہ افزائی کے باعث قوم لائیو ٹاک شوز میں ایک دوسرے کی بے عزتیاں ہوتی اور پگڑیاں اچھلتی دیکھ پا رہی ہے، زباں کے نشتر بھی وہی رہیں گے اور چہرے بھی اور شاید قوم کا نصیب بھی۔
ستاروں اور علم الاعداد کی روشنی میں مستقبل قریب میں گرینڈ الائنس کی کامیابی اور نہ ہی اِن ہاﺅس تبدیلی کا دور دور تک امکان نظر آتا ہے۔
٭٭٭