منگل ‘ 16 شعبان المعظم1432 ھ‘ 19 جولائی 2011ئ

19 جولائی 2011
شہر میں دولت کے پجاریوں نے کتوں اور گدھوں کا گوشت بیچنا شروع کر دیا ہے۔ پندرہ قصابوں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا‘ کئی علاقوں میں اسی کے باعث گیسٹرول کی وباءپھیلنے کے بعد محکمہ صحت کی ٹیمیں الرٹ ہو گئیں۔
اگر محکمہ صحت کی ٹیمیں فلرٹ کے بجائے الرٹ ہوتیں تو شہر کے قصاب یوں کھلے عام لوگوں کو کتے اور گدھے نہ کھلا سکتے‘ ہمارے ہاں افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ خوراک کا معاملہ یکسر بے اعتنائی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس ملک میں خوشی کی خبر‘ خیر کی بات اب عنقا ہو چکی ہے۔ جب انسان‘ انسان کو کھانے لگا ہے اور یہ کھانے کے انداز بھی بے انداز ہیں‘ تو کہئے کتے گدھے کا گوشت شہریوں کو کھلانا کیا معنی رکھتا ہے۔ قصاب اتنا بھی نہیں کرتے کہ عام لاغر آوارہ بیمار خارش زدہ کتوں کے بجائے کم از کم اشرافیہ کے امپورٹڈ اعلیٰ نسلوں کے کتے ہی کھلائیں۔ مگر کتے بھی جب کتوں کے دشمن ہو جائیں تو قصاب کے پھٹے پر کتے گدھے کا گوشت ملے گا مگر اس ناکردنی کا نوٹس وہ کیوں لیں جن کے دسترخوانوں‘ پر تیتر کا گوشت کھانے کو اور اعلیٰ درجے کا مشروب پینے کو ملتا ہو۔ بہتر نہیں کہ حکمران اپنی رعیت کو کتے گدھے کا گوشت کھانے سے بچانے کیلئے انہیں زہر ہلاہل پلانے کا بندوبست کر دیں‘ مگر پھر انہیں تفاخر اور Show off کیلئے غریب لاچار لوگ کہاں سے ملیں گے۔ جن قصابوں نے انسانوں کو کتوں گدھوں کا گوشت کھلایا‘ انہیں بھی سرعام کتوں اور گدھوں کا گوشت کھلایا جائے اور اس شوکا باقاعدہ اعلان کیا جائے تاکہ لوگ اکٹھے ہو کر یہ تماشائے حرام خوری بھی دیکھیں۔
٭....٭....٭....٭
خبر ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے‘ ڈھائی فٹ کے 35 سالہ نوجوان نے میرپور کے ایک شاپنگ مال میں اپنے ساتھ کام کرنیوالی خوبرو 25 سالہ شمشاد قد دوشیزہ سے شادی کرلی‘ دولہا دلہن دونوں بڑے خوش اور مطمئن ہیں۔
محبت اندھی نہیں ہوتی‘ بس فرق اتنا ہے کہ اسکی آنکھیں اندر ہوتی ہیں اور وہ اس جذبے کو دیکھ لیتی ہیں‘ جو دو وجودوں کو یکجان دو قالب بنا دیتی ہے جن لوگوں نے بھی ظاہری حسن سے شادی کی کچھ عرصہ بعد وہ ظاہری رعنائی جب دھندلا جاتی ہے تو محبت بھی ماند پڑ جاتی ہے اور یہ ظاہر کی آنکھ کسی اور گل رنگیں کو تلاش کرنے لگتی ہے۔ اکثر و پیشتر جسے ہم محبت کہتے ہیں‘ وہ ظاہر پرستی ہوتی ہے۔ لیکن جہاں محبت واقعتاً ہو جائے تو پھر مجنوں یہ نہیں دیکھتا کہ لیلیٰ کا رنگ کیسا ہے۔ بہرصورت ہم محبت کے فلسفے میں اس لئے نہیں جاتے کہ یہ قلزمِ بیکراں ہے اور ہم اس کو سمجھانا چاہیں بھی تو سمجھا نہیں سکتے۔ سردست تو ہم کشیدہ قامت جوانوں سے کہتے ہیں....
جوانو! کچھ فکر کرو قد و قامت کی
وگرنہ بازی لے گئے ڈھائی فٹے
ہم ڈھائی فٹ کے جوان رعنا اور اسکی چاند سی دلہن کو مبارکباد پیش کرتے ہیں‘ جو شاپنگ مال میں چیزیں بیچتے بیچتے ایک دوسرے کے ہاتھوں بک گئے اور ہمیشہ کیلئے رشتہ¿ ازدواج میں اس طرح جڑ گئے....ع
”جیویں ٹچ بٹناں دی جوڑی“
٭....٭....٭....٭
حسنی مبارک کومے میں چلے گئے‘ حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
ایک پارٹی کے انتخابات کو ممکن بنانے والے‘ وادی نیل پر 31 برس حکمرانی کرنیوالے اور شاہ شمشاد قداں و خسر و شیریں دہناں والے‘ حسنی مبارک اقتدار گرنے کے ایک جھٹکے سے کومے میں چلے گئے‘ یہ زندگی کتنی شعبدہ گر و سحر انگیز ہے کہ اس نے فراعنہ¿ مصر کے ہمسر کو بالآخر خاموش کر دیا۔ اگرچہ ابھی زندگی ان کا مزید امتحان لے رہی ہے اور رخصت نہیں ہوئی‘ تاہم ہم چاہتے ہیں کہ وہ زندہ رہیں تاکہ مصر ایک اور منظرِ عبرت بھی دیکھتا رہے۔ اللہ ان کو صحت دے کہ انہوں نے جیتے جی کافی سزا بھگت لی۔ آمریت اور تکبر جڑواں بہن بھائی ہیں‘ اور یہ صرف رب الارباب ہی کو سزا وار ہے جب بھی کسی انسان نے بجلی کی ان زندہ تاروں کو چھوا وہ بھسم ہو گیا۔ اگر اللہ نے کسی ایک انسان کو لیڈر کماندار قائد بنا دیا تو وہ اس لئے کہ وہ اپنے پیچھے لگے ہوئے لاکھوں انسانوں کو اسی طرح ساتھ لے کر چلے‘ جیسے ماں بچے کو گود میں اٹھا کر چلتی ہے اور وقفے وقفے سے اسے پیار بھی کرتی جاتی ہے۔ حسنی مبارک کے زوال میں ہمارے حکمرانوں کے عروج کا زوال بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ اس لئے حکمرانی اس طرح سے کریں کہ حکمرانی نہ رہے تو بھی دلوں پر راج قائم رہے اور لوگ یاد رکھیں‘ یہ صرف فقراءکا خاصہ ہے کہ....
گدائے میکدہ ام ولیک وقت مستی بیں
کہ ناز برفلک و حکم بر ستارہ کنم
(یوں تو میکدے کا بھکاری ہوں لیکن جب مستی چڑھتی ہے تب دیکھو فلک پر ناز کرتا ہوں اور ستاروں پر حکم چلاتا ہوں)
٭....٭....٭....٭
عمران خان کہتے ہیں‘ پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر اب بھی مجرم فائز ہیں۔
اگر عمران خان کے جملے سے ”اب“ نکال دیا جائے تو یہ جملہ معنوی حیثیت سے بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ عمران بھائی کو اللہ رکھے‘ ان میں جو پوٹینشل نظر آتا تھا‘ وہ ابھی تک استعمال میں نہیں آیا۔ وہ اتنا درد رکھتے ہیں‘ اس قوم کیلئے کہ اگر اسکی جگہ ان میں سیاسی انقلابی قیادت ہوتی تو شاید کہیں بہتر نتائج برآمد ہوتے۔ شاید وہ اس دردِ دل کے باوصف اس قابل ہو گئے ہیں کہ ان پر یہ شعر فٹ آتا ہے‘ سیاست ان پر فٹ نہیں آتی....
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاقت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
ہمارا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ سیاست نہ کریں‘ مگر سیکھ کر‘ پچھلے دنوں انہوں نے اپنی سو دن کی حکومت اور بھارت سے تعلقات قائم کرنے اور تجارت کرنے کی بات کرکے خود کو سیاسی اکھاڑے ہی سے باہر کر دیا۔ ان دنوں وہ دردِ دل کے حصار میں آئے ہوئے ہیں‘ اور ممکن ہے وہ اگر کچھ دن مجرم سیاست دانوں کے بھی شاگرد بن جائیں تو سیاست دان بھی بن جائینگے اور جرم شناس بھی اور ان کو کیا چاہیے؟