پاکستان کے سیاسی نظام میں ناگزیر اصلاحات .... (۱)

19 جولائی 2011
انجینئر ملک محمد طفیل
پاکستان کا موجودہ جمہوری نظام نو آبادی حکمرانوں کا دیا ہوا ہے۔ ان حکمرانوں کے جانشینوں نے برسراقتدار آ کر عوام کو اقتدار میں شریک کرنے اور پاکستان کو صحیح اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کا کبھی سوچا تک نہیں۔ سیاست دانوں کی سیاست کا مقصد فقط اقتدار کے حصول کیلئے سازشیں کرنا اور اقتدار میں آ کر قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ کرنا رہ گیا ہے۔ حکمرانی کےلئے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی و خوشحالی کے مقاصد کو قطعاً نظر انداز کر دیا گیا۔ ان مقاصد کے حصول کےلئے سیاستدان، حکومتی وزارتوں اور محکموں میں اپنے من پسند افراد کی بھرتی اور تعیناتی کراتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کے تمام محکموں میں نااہلی، سفارش، بدعنوانی اور معکوس کارکردگی کی بنیاد رکھی دی گئی جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئی اس طرح ملک کو تاریک ادوار میں دھکیل دیا گیا۔ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر صرف فائلوں میں چھوٹے بڑے منصوبے مکمل کئے گئے، جعلی خرید و فروخت کی گئی اور عوام کا خون نچوڑا گیا۔ اس عمل میں سیاسی پارٹیاں (حکمران ہوں یا حزب اختلاف) متعلقہ محکموں کے حکام اور نجی کاروباری ادارے نہ صرف شریک ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا اشتراک مستحکم ہوتا گیا اور اقتدار اور قومی دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوتا گیا۔ ان تینوں طبقات نے اس ناجائز دولت کو ملک کے اندر رکھنا اپنے لئے خطرناک سمجھتے ہوئے اپنا ناجائز سرمایہ، جائیدادیں اور اولادیں ملک کے باہر یورپ اور امریکہ میں منتقل کر دیں اس طرح ملک اپنی دولت اور قومی سرمایہ سے سالہا سال سے محروم ہوتا گیا۔ دوسری طرف پاکستان کے عوام روز گار، روٹی لباس، رہائش، تعلیم اور علاج و معالجہ کے حصول کےلئے تڑپتے رہے۔ عوام الناس کو بھوک و افلاس، خود کشیوں جہالت اور مہلک بیماریوں کی تاریک غاروں میں دھکیل دیا گیا۔ غریبوں میں اجتماعی خود کشیوں اور اپنے بچوں، گردوں اور آنکھوں کی فروخت کا رجحان دن بدن ناقابل برداشت حد تک بڑھتا گیا۔
پاکستان کے انسانی حقوق کمشن کی رپورٹ کے مطابق ہر ماہ 200 سے 250 افراد خود کشیاں کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی رکن کشمالہ طارق کے قومی اسمبلی میں بیان کے مطابق پاکستان میں دو سال کے عرصہ میں پانچ ہزار سے 6000 افراد نے خود کشی کی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک کی 60 فیصد متوسط طبقہ کی آبادی غریب طبقہ میں منتقل ہو چکی ہے اور ہر طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
سیاستدانوں کی نااہلی اور اقتدار کے حصول کےلئے سازشوں، ہلکی دولت اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانی کو روکنے کیلئے فوج کو بار بار اسمبلیوں کو برخاست، پاکستان کا آئین منسوخ یا معطل کرنا پڑا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف تو ملک میں سیاسی عمل رک جاتا تھا اور دوسری طرف جرنیلوں کے منہ کو اقتدار کا چسکا لگ گیا اور وہ اپنے اقتدار کی طوالت کےلئے مختلف حیلوں بہانوں سے آمرانہ اقتدامات کر کے جمہوری نظام کا راستہ روکتے اور عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دیانت دار، قابل اور قوم و ملک کے وفادار سیاستدانوں کے حصول کے راستے بند ہو گئے۔
افسر شاہی اور فوجی حکمران بے لگام ہو گئے اور ملک کا تنظیمی، اقتصادی و معاشی ڈھانچہ کمزو سے کمزور تر ہوتا گیا۔ یہ سب سیاستدانوں کی نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے ہوا۔ اس لئے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی اصلاح کر کے اسے مکمل جمہوری بنایا جائے تاکہ ریاست کے تمام ستونوں کو مستحکم کیا جائے، اداروں میں اہلیت، دیانت داری، قوم و ملک سے وفاداری اور کارکردگی کے نظام کو رائج کیا جائے تاکہ ملک صحیح معنوں میں اسلامی، جمہوری اور فلاحی راہ پر نکل پڑے۔
پاکستان کے نظام کی بہتری کےلئے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔
-1موروثی اور سرمایہ داری کی بنیاد پر قائم ہونے والی اور اپنے اندر منتخب قیادت لانے کےلئے باقاعدہ انتخابات نہ کرانے والی سیاسی پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی جائے ۔
-2موجودہ اسمبلیوں میں انتخابی حلقے بے تحاشہ بڑے ہیں اور سینکڑوں مربع کلومیٹرز کے رقبہ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان بڑے حلقوں میں انتخابات لڑنے کےلئے صرف بڑے ارب پتی سرمایہ دار اور بدعنوان افراد ہی حصہ لے سکتے ہیں۔ متوسط یا غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے قابل، تعلیم یافتہ، ریٹائرڈ ٹیکنو کریٹ، اساتذہ، کسان، مزدور، کان کن، وکلا، صحافی، دانشور، ادیب اور پروفیشنلز ایسے انتخابات میں امیدوار بن کر حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ نتیجتاً اسمبلی میں جمہوریت کی بنیاد، عوامی ایوان یعنی(House of Commons) کبھی معرض وجود میں نہیں آ سکتا۔ اس طرح عوام اور متوسط طبقہ کے اہل عوام، دوست سیاسی کارکن سیاسی عمل سے ہمیشہ خارج ہی رہتے ہیں۔ اس کا ثبوت ہمارے ملک میں بار بار منعقد ہونےوالے سابقہ انتخابات ہیں۔ جن کے ذریعہ منتخب ہونےوالے سیاست دانوں نے عوام کو انکی بنیادی ضروریات یعنی روزگار، رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم رکھا ہے۔ اب عوام کےلئے ان انتخابات کی کوئی حیثیت یا ضرورت نہیں رہی‘ اس لئے عوامی اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والی لیڈر شپ لانے اور اہلیت اور ایمانداری کی بنیاد پر انتخابات کرانے کیلئے ضروری ہے کہ اسمبلیوں کے موجودہ انتخابی حلقوں کو مزید 5 سے 10حلقوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔(جاری)
انتخابی عمل میں اچھی شہرت کے مالک پروفیشنلز (پیشہ ور) ریٹائرڈ اساتذہ، ٹیکنوکریٹ، بیوروکریٹس صحافی، وکلا، ادیبوں، دانشور، پبلشروں، چھوٹے کاروباری افراد،متوسط طبقہ کی خواتین، کان کنوں، مزدوروں اور کسانوں کو ترجیح دی جانی چاہئے تاکہ 90 فیصد سے زائد ممبران اسمبلی کے ارکان متوسط اور نچلے طبقہ سے منتخب ہو سکیں۔ اس طرح یہ اسمبلی ارکان نہ صرف عوامی ضروریات اور ترجیحات کا تعین کر سکیں گے بلکہ ملک کے تمام طبقات اور شعبوں کے عوام کی ضروریات کے مطابق ملکی نظام قائم کریں گے، پالیسیاں بنائیں گے اور پاکستان کو ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری مملکت بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں گے۔
-3اسی طرح سینٹ کے باالواسطہ انتخابات بھی عوامی متوسط طبقہ کے اہل افراد کے منتخب ہونے کے راستہ میں رکاوٹ ہیں اس لئے سینٹ کے انتخابات بھی براہ راستن منعقد کئے جائیں ۔
-4ان انتخابات میں 50 فیصد سے کم ووٹ حاصل کرنےوالے امیدوار کو کامیاب قرار دیا جائے اور 50 فیصد یا اس سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے اوپر کے دو امیدواروں میں دوبارہ انتخابات منعقد کیا جانا چاہئے۔
-5 سیاسی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے اور قومی وسائل کے ضیاع کو روکنے کےلئے حزب اختلاف کی طرف سے چوکس رکھنے کےلئے ظلی کابینہ (Shadow Cabinet)کا اہتمام ہونا اشد ضروری ہے تاکہ عوام کا استحصال نہ ہو سکے اور بدعنوانی روکنے کےلئے (Shadow Cabinet) ایک نگرانی (Watch Dog)کا کردار ادا کر سکے۔
-6ملک میں مکمل طور پر غیر جانبدار اور با اختیار الیکشن کمشن قائم کیا جائے جس کے ارکان کی تقرری سینٹ کے ذریعہ کھلی سماعتوں کے ذریعہ سے ہو۔
-7سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات بھی الیکشن کمشن کے ذریعہ کھلے اور شفاف طریقہ سے ہونے چاہئے۔
-8انتخابات میں امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے فیصلے حلقے کے ممبران وارڈ کی سطح پر پرائمری یونٹ کے ذریعہ ہونے چاہئیں تاکہ عوام اپنی مرضی کا امیدوار خود چنیں۔ اس طرح پارٹی کے خود ساختہ سربراہوں کی آمریت ختم کی جا سکے گی۔
-9 اپنے انتخابی منشور، وعدوں اور اسلامی احکامات پر عکمل نہ کرنے والی اور غیر جمہوری جماعتوں پر کمل پابندی عائد کی جائے۔
-10صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعہ قانون سازی کے اختیارات ختم کر دیئے جائیں۔
-11 ججوں کی تقرری کا اختیار انتظامیہ کی بجائے غیر سیاسی شخصیتوں کے حامل جوڈیشل کمشن کے ذریعہ کیا جائے اور عدالتوں کے فیصلے کرنے کیلئے غیر جانبدار جیوری (Jury)کا جمہوری نظام تشکیل دیا جائے اور ہر فیصلہ اس جیوری کے فیصلے کے مطابق جاری کیا جائے۔ اس طرح عدلیہ اور پولیس میں بدعنوانی اور تاخیر کا خاتمہ کیا جا سکے گا۔
-12ضلع کی سطح پر منتخب لوکل گورنمنٹ کے اداروں کے قیام کا نظام قائم کیا جائے اور اسکے نیچے تحصیل کونسل اور یونین کونسل تشکیل دی جائے۔
-13 مقامی انتظامی امور، پولیس ، تعلیم، صحت و صفائی، سماجی خدمات وغیرہ کے اختیارات لوکل گورنمنٹ کو تفویض کئے جائیں۔
-14تھانوں کے پولیس افسروں اور مقامی مجسٹریٹوں کو 4سال کی مدت کےلئے علاقے کے لوگوں کے ووٹوں کے ذریعہ منتخب کیا جائے۔ ضلع کا سرکاری وکیل بھی عوامی ووٹوں سے منتخب ہونا چاہئے۔ عوامی مفاد کے خلاف کام کرنے والے عہدیداروں کو عوام کے ووٹوں سے ہٹایا جانا چاہئے۔ اس طرح عوام، پولیس اور انتظامیہ کی زیادتی سے محفوظ رہ سکیں گے۔
-15نچلی عدلیہ، ڈسٹرکٹ جج اور ضلع کے سرکاری وکیل بھی مخصوص مدت کےلئے منتخب ہوں۔ امیدوار وکلا کو اپنے انتخاب سے پہلے لا کالجوں ، وکلا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر اپنی قابلیت، تجربہ اور دیانتداری ثابت کرنا ہو گی۔
-16ہر قسم کی وفاقی تقرریوں، سپریم کورٹ کے ججوں، اٹارنی جنرل اور سٹیٹ بنک کے گورنر کی تقرری وغیرہ سینٹ کی منظوری سے مشروط ہونی چاہئے سینٹ کی متعلقہ کمیٹیوں کو کھلے اجلاس منعقد کر کے عوامی تاثر اور اطلاعات کو ملحوظ خاطر رکھ کر یہ تمام تقرریاں شفاف طریقہ سے اہلیت کی بنیاد پر کریں۔
-17 موجودہ آئین کی رو سے انتظامیہ، آمرانہ طریقہ سے ہنگامی حالات کا اعلان کر کے بنیادی حقوق کو معطل کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ آئین کے تحت پاکستان شہریوں کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے ایسے تمام اختیارات ختم ہونے چاہئیں۔
-18موجودہ آئین کے باب نمبر2 کی شقوں پر عمل درآمد کرانے کیلئے آرٹیکل 30(2) کے تحت کوئی عدالت حکومت کو ایسا کرنے پر مجبور نہیں کر سکی۔ یہ شقیں ختم ہونی چاہئیں۔
-19موجودہ آئین کے تحت صدر مملکت خطرناک سزا یافتہ مجرموں اور دہشت گردوں کو معافی دینے کے غیر اسلامی اختیارات دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح صدر، وزیراعظم اور گورنر کو عدالت میں پیش ہو کر جوابدہ ہونے کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے ۔ یہ استثنیٰ ختم ہونا چاہئے۔
-20موجودہ آئین کے تحت فیوڈل اور بڑے بڑے سرمایہ داروں اور وڈیروں کو انکم ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے۔ اسی طرح امیر لوگوں پر ویلتھ ٹیکس اور گفٹ ٹیکس ختم کر رکھے ہیں یہ چھوٹ ختم ہونی چاہئیں۔ اسی ثطرح کارپوریٹ اداروں کے حصص کی خریدو فروخت پر ٹیکس کا استثنیٰ ختم ہونا چاہئے اور ہر قسم کے حصص کی خرید و فروخت پر ٹیکس عائد ہونا چاہئے۔