A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

وزیر داخلہ کا کراچی میں اسرائیلی اسلحہ کے استعمال کا اعتراف اور ہمارے دفاع کے تقاضے....اب کھوج لگائیں‘ یہ اسلحہ چلانے والے ہاتھ بھارتی تو نہیں؟

19 جولائی 2011
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور کراچی میں پکڑا جانےوالا اسلحہ اسرائیل سے آرہا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہونیوالا ہر قتل ٹارگٹ کلنگ نہیں‘ نہ اس میں حکومت کا کوئی ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی غلط کام کرے‘ اسے سزا ملنی چاہیے اور اگر ایم این اے بھی قانون شکنی کرنے لگیں تو پھر پیچھے کیا رہ جائیگا؟ فیصل آباد کی طرح اسلام آباد میں بھی اسلحہ کا ناجائز استعمال کیا گیا ہے‘ انکے بقول کراچی میں قتل و غارت کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ عامر شاہ کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں قانون ہاتھ میں لینے والے 255 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
کراچی سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قیام امن کی ذمہ داری بہرصورت حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے اور اس میں حکومتی ایجنسیوں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی شورش‘ نقصِ امن کا باعث بننے والے دوسرے واقعات‘ قتل و غارت گری‘ ٹارگٹ کلنگ‘ گھیراﺅ جلاﺅ میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے واقعات اور تخریب کاری‘ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے پس پردہ محرکات اور کارفرما ہاتھوں کا کھوج لگائیں اور حکومت کو اصل صورتحال سے بروقت آگاہ کریں جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات جن سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو‘ کے بارے میں اصل حقائق سے قوم اور اسکی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو آگاہ کرے تاکہ اگر اس نوعیت کے واقعات میں کسی دشمن کا ہاتھ ہو تو اس کا بروقت اور مناسب توڑ کیا جا سکے۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک تشدد‘ تخریب کاری اور دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ میں حکومتی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کبھی سنجیدہ نظر نہیں آئے‘ وہ بیک وقت ایک واقعہ میں انتہا پسندوں اور طالبان کے کسی گروپ کو بھی ملوث ظاہر کرتے ہیں اور بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے چند ماہ قبل کے واقعات میں بھی وہ بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کی بات کر چکے ہیں‘ جبکہ مہران نیول بیس کراچی میں دہشت گردی کے واقعہ میں تو وہ باقاعدہ طور پر بھارتی ایجنسی ”را“ کو مورد الزام بھی ٹھہرا چکے ہیں اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور تخریب کاری کے دوسرے واقعات میں وہ بھارتی ایجنسی ”را“ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پیش کر چکے ہیں جن کی بنیاد پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں اپنے ہم منصب بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کے وقت ان سے باضابطہ احتجاج بھی کیا تھا۔
یہ حقیقت تو اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکہ‘ بھارت اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کا ایجنڈہ ہی پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا ہے جس کیلئے یہ تینوں ممالک باہمی منصوبہ بندی کے تحت بھی اور انفرادی طور پر بھی ہماری سالمیت اور آزادی و خودمختاری پر وار کرنے کی مکروہ سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد اس خطہ میں شروع کی گئی امریکی مفادات کی جنگ کے دوران تو پاکستان کے ان شاطر و مکار دشمنوں کو اس کیخلاف سازشوں کے جال بچھانے کا نادر موقع ملا ہے‘ بالخصوص بھارت جس نے تقسیم ہند کے بعد شروع دن سے ہی پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر قبول نہیں کیا‘ امریکی مفادات کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کے نتیجہ میں ملک میں خراب ہونیوالی امن و امان کی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ وہ دہشت گردی کا ملبہ ڈال کر بھی پاکستان کو دباﺅ میں لانے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے اور افغانستان کے راستے اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد بھجوا کر بھی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ اسی طرح امریکی بلیک واٹر اور سی آئی اے کے تخریبی ایجنڈے میں بھی پاکستان کی سالمیت ہی ہدف پر ہے جن کے مسلح غنڈوں اور جاسوسوں کی پراسرار اور کھلے عام سرگرمیاں منظر عام پر بھی آچکی ہیں جبکہ امریکی آشیرباد اور سرپرستی میں اسرائیل کی ایجنسی ”موساد“ کا ایجنڈہ بھی پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا ہے۔ اس تناظر میں ہمارے حکمرانوں کو دہشت گردی اور تخریب کاری کے کسی واقعہ پر بے سروپا الزام تراشی کے بجائے اصل ملزموں کی نشاندہی کرکے قوم کے سامنے حقائق پیش کرنے چاہئیں۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے دہشت گردی‘ تخریب کاری اور ٹارگٹ کلنگ کے ہر واقعہ کا رخ انتہا پسندوں اور طالبان عسکریت پسندوں کی جانب موڑنے کی کوشش کی جس کے باعث متعلقہ وارداتوں کے اصل حقائق و شواہد سامنے آنے نہ پائے جبکہ ملک کی سالمیت کے درپے عناصر کو جو دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سرگرم عمل ہیں‘ مزید کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔
اب اگر کراچی میں بدامنی کے واقعات کے حوالے سے وزیر داخلہ رحمان ملک کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان میں اسرائیلی ساختہ اسلحہ استعمال ہو رہا ہے جو پکڑا بھی گیا ہے تو ان حقائق و شواہد کی بنیاد پر مکمل کھوج لگانا چاہیے کہ آیا اسرائیل یہ کام تنہاءکر رہا ہے یا یہ اسلحہ ہمارے مکار و شاطر دشمن بھارت کے ذریعے آرہا ہے اگر ہماری ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق مہران بیس کراچی کے واقعہ میں بھارتی دہشت گرد ملوث ہو سکتے ہیں تو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور تخریب کاری کے واقعات میں استعمال ہونیوالے اسرائیلی اسلحہ پہنچانے اور کو چلانے والے ہاتھ بھی بھارتی تخریب کاروں کے ہو سکتے ہیں۔
بے شک کراچی کے واقعات کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جانی چاہیے اور متعلقہ جماعتوں کی صفوں میں گھسے ہوئے دشمن کے ایجنٹوں کو بھی بے نقاب کیا جائے تاہم جس منظم طریقے سے پاکستان کے تجارتی مرکز اور اقتصادی شہ رگ کراچی میں آئے روز دہشت و وحشت کا بازار گرم کیا جاتا ہے‘ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کام پاکستان کو کمزور کرنے اور اسکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی طاقتوں کا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر اب وزیر داخلہ کی زبان پر حقیقت آہی گئی ہے تو ہمارے حکمرانوں کو کسی مصلحت کے تحت قطعاً خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اگر بھارت خود ساختہ ممبئی حملوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر عالمی سطح پر ہمارا امیج خراب کر سکتا ہے تو پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت اور اسرائیل کی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت حاصل کرکے بھی ہمارے حکمران اصل مجرمان کی نشاندہی میں پس و پیش سے کیوں کام لیتے ہیں‘ یہ ملک کی سلامتی کا سوال ہے اس لئے ملک کی سلامتی کے درپے عناصر کو بے نقاب کرکے ان کیخلاف جو بھی کارروائی ہو سکتی ہے اور دنیا کے جس بھی فورم پر صدائے احتجاج بلند کی جا سکتی ہے‘ اس سے گریز نہ کیا جائے اور ملک دشمنوں کی تمام سازشوں کا توڑ کرکے انہیں ٹھوس جواب دیا جائے۔ حکمرانوں کو کراچی کی بدامنی پر ترجیحی بنیادوں پر قابو پانا چاہیے کیونکہ کراچی کے امن کے ساتھ ہی ملک کی امن و سلامتی وابستہ ہے۔
جاوید ہاشمی کا اپنی سیاسی برادری
کو صائب مشورہ
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ سیاسی قیادتوں نے ڈلیور نہ کیا اور سوئی رہیں تو ملک میں انقلاب آئیگا اور کوئی ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ جس طریقے سے جماعتیں چلائی جا رہی ہیں اس سے ان کا اپنا نقصان ہو رہا ہے۔ پارٹیوں میں صحیح معنوں میں انتخابات کا رواج نہیں۔
امریکہ کی جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میں پیدا ہونے والے خودکش بمبار وطن عزیز کے کونے کونے میں بارود پھیلا رہے ہیں۔ را، موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹ بھی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں پیش پیش ہیں۔ خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے پیچھے اس شیطانی اتحاد ثلاثہ کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی جنگ کے باعث ملک میں بدامنی کا دور دورہ ہے۔ کوئی بھی شہری کہیں بھی محفوظ نہیں حتٰی کہ جی ایچ کیو سمیت اہم تنصیبات پر بھی دہشت گردی کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا عذاب ہے‘ جس کی وجہ اعلیٰ سطح پر کرپشن کو قرار دی جا رہی ہے‘ معاملات درست کرنے کے بجائے سیاستدانوں کی آپس میں سرپھٹول جاری ہے۔ 2008ءکے الیکشن میں قوم نے پرچی کے زور پر آمریت سے چھٹکارہ حاصل کر کے جمہوریت کی راہ ہموار کی جس سے قوم کو بڑی توقعات تھیں جو ہرگز پوری نہیں ہوئیں۔ اب عوام کو کبھی بجلی و گیس لوڈ شیڈنگ کبھی آٹے چینی کی کمی اور کبھی مہنگائی کےخلاف سڑکوں پر آنا پڑتا ہے لیکن اصلاح احوال کہیں نظر نہیں آتی۔ جاوید ہاشمی کی اپنے ساتھی سیاستدانوں کو تنبیہ بروقت ہے کہ انقلاب آیا تو کوئی ذمہ دار زندہ نہیں بچے گا۔ ایسے انقلاب کی راہیں خود سیاستدان اپنے کردار و عمل ہموار کر رہے ہیں۔ جو جماعتیں اپنے اندر جمہوریت رواں دواں نہیں رکھ سکتیں ان سے ملک میں جمہوریت کے فروغ کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے موروثی سیاست کی آبیاری کی گئی۔ اس سے جمہوریت کو فروغ نہیں ملے گا بلکہ جمہوریت زوال پذیر ہو گی جس کا نقصان بقول جاوید ہاشمی خود سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کو ہو گا۔ جس انقلاب کی مخدوم نے نشاندہی کی ہے اس سے بچنے کےلئے ضروری ہے کہ سیاستدان اپنا قبلہ درست کریں۔ جمہورت کے فروغ کےلئے اپنے اندر برداشت پیدا کریں اور عوامی مسائل کے حل کی طرف توجہ دیں۔ جاوید ہاشمی کا اپنی سیاسی برادری کو صائب مشورہ ہے اس پر عمل کر کے قوم کو مشکلات سے نکالا جا سکتا ہے اور خود اس کا اپنا سر بھی سلامت رہے گا۔
چین کے تعاون سے دفاعی
صلاحیت کو بڑھایا جائے
نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی ممبر شپ حاصل کرنے کیلئے بھارت کی اہلیت پر اعتراض کرکے چین نے گروپ کی رکنیت کیلئے پاکستان کا کیس مضبوط کر دیا ہے۔
امریکی ہلہ شیری سے بھارت اس خطے میں تھانیدار بننے کی کوشش کر رہا ہے‘ گزشتہ سال دورہ بھارت کے موقع پر امریکی صدر اوباما نے بھارت کےساتھ نیوکلیئر معاہدے کئے اور اسے تھپکی دیکر پاکستان اور چین کے مقابلے کیلئے تیار کیا۔ آج برطانیہ‘ فرانس‘ روس سمیت متعدد ممالک بھارت کےساتھ ایٹمی معاہدے کر رہے ہیں جبکہ امریکی دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنے کے باوجود پاکستان کو کسی بھی ملک سے ایسے معاہدے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اب اگر پاکستان کا دیرینہ دوست چین بھارت کی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی ممبر شپ پر اعتراض نہ کرتا تو بھارت ممبر شپ حاصل کرکے یقیناً پاکستان کے مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش ضرور کرتا۔
چین نے واقعی پاکستان کا دوست ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے‘ اس لئے ہمیں باقی دفاعی معاملات کی طرح ایٹمی معاملات بھی چین سے ہی بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور کل یہ خبر ہے کہ چین بہت جلد امریکہ سے واحد سپر پاور کا ٹائٹل چھین رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ چین کی باہمی تجارت 380 ارب اور بھارت کےساتھ 60 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان کےساتھ صرف سات ارب ڈالر ہے۔ دیرینہ دوست کی جانب جھکاﺅ کرتے ہوئے ہمیں اب امریکہ کے اتحاد سے نکل کر اپنے تمام تر مفادات کو چین سے وابستہ کرنے چاہئیں کیونکہ شیطانی اتحاد ثلاثہ کا گٹھ جوڑ پاکستان کو تنہا کرنے پر تلا ہوا ہے اس لئے اس سازش کو بھانپتے ہوئے چین کی طرف جھکاﺅ کرکے اس کا سدباب کیا جائے۔
ایل پی جی پربھی پٹرولیم لیوی
ایل پی جی پر بھی پٹرولیم لیوی عائد کر دی گئی ہے‘ اس سے حکومت کو سالانہ چھ ارب روپے آمدن ہو گی جبکہ ایران نے آئندہ سال تک گیس کی فراہمی شروع کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کےساتھ ہی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کیلئے اس پر پٹرولیم لیوی عائد کرنے کا فیصلہ ایک ظالمانہ مذاق ہے۔ حکومت خوف خدا کرے اور ایل پی جی جو گھریلو استعمال کی گیس ہے‘ اسے اتنا مہنگا نہ کرے کہ گھروں میں کھانا تیار کرنا بھی محال ہو جائے۔ اس وقت بھی گھریلو سلنڈر سولہ سو روپے میں ملتا ہے‘ اگر یہ پٹرولیم لیوی بھی چسپاں کردی گئی تو گھریلو سلنڈر بھروانا کسی عام شہری کے بس میں ہی نہیں رہے گا۔ اب جبکہ ایران نے گیس کی ترسیل کی آئندہ سال سے یقین دہانی کرادی ہے تو پھر یہ ایل پی جی کو مزید مہنگا کرنا بے جواز ہے۔ ایرانی گیس سے پاکستان ایران تعلقات میں مزید گہرائی پیدا ہو گی اور پاکستان کے ہر کونے میں گیس پہنچائی جا سکے گی۔ سوئی نادرن گیس کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ جن لوگوں نے 2000ءمیں درخواستیں جمع کرائیں‘ ان کو ہنوز ٹھینگا دکھا رہا ہے اور اس محکمے کا صارفین کے مسائل کے حوالے سے بھی رویہ درشت ہے۔ ایل پی جی گیس پر نہ صرف گھریلو چولہوں کے جلنے کا دارومدار ہے بلکہ یہ اکثر رکشاﺅں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان میں خود اپنی بھی مزید گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں‘ اتنی گیس کے بعد بھی اگر لوگوں کو گیس نہ ملے تو اسے بدنظمی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس گیس سے بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے اس لئے ایران کی گیس کے ساتھ ہی اپنی گیس کے ذخائر بھی بروئے کار لائے جائیں اور ہمارے کارخانے جو ایک عرصے سے ٹھپ پڑے ہیں‘ انہیں گیس فراہم کرکے چلایا جائے تاکہ مرتی ہوئی صنعت و حرفت بھی زندہ ہو اور ملکی معیشت میں بہتری آئے۔