جنوبی سوڈان کی آزادی

19 جولائی 2011
9 جولائی کو جنوبی سوڈان کو سوڈان سے کاٹ کر الگ مملکت بنا دیا گیا۔ نئی ریاست کے عیسائیوں نے اس روز جشن منایا۔ ان کے جذبات میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی شریک تھے۔ جنوبی سوڈان کی تقریبات آزادی میں شرکت کرنے والے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو چاہئے کہ اب وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ کشمیر اور چیچنیا کے غیور عوام کو بھارت اور رشیا سے آزادی دلانے کے لئے بھی فعال کردار ادا کریں۔ موجودہ صورتحال میں کشمیر اور چیچنیا کے عوام آزادی کے حصول کے لئے عظیم جانی اور مالی قربانیاں دے رہے ہیں۔
حصول آزادی کے لئے ضروری ہے کہ آزادی کی جنگ لڑنے والی قوم کا اپنا الگ مذہب و فلسفہ ہو وہ ایک ممتاز ثقافت رکھتی ہو ضروریات زندگی کے لئے مناسب رقبہ ہو اور اس کی اپنی کوئی مستند زبان ہو۔ کشمیر اور چیچنیا کے لوگ ان تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ اسی طرح شام، ایران، عراق اور ترکی میں آباد کرد قبائل بھی آزاد ریاست کے مطلوبہ عناصر کے حامل ہیں۔ جنوبی سوڈان اب ایک آزاد ریاست کی حیثیت میں قیام امن میں کہاں تک کامیاب ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
معاشی لحاظ سے جنوبی سوڈان سابقہ متحدہ سوڈان کے تیل کے 75 فیصد ذخائر کا مالک ہے تاہم تیل کو ذخیرہ کرنے اسے دوسری جگہوں تک لے جانے اور اس کو برآمد کرنے کی تمام سہولیات اور تنصیبات شمالی سوڈان میں واقع ہیں۔ علاوہ ازیں شمالی اور جنوبی سوڈان کی 2100 کلومیٹر لمبی سرحد پر واقع پانچ علاقے ابھی تک متنازعہ ہیں جن میں آبیئے کا علاقہ نمایاں ہے۔ اس علاقہ میں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے مورچہ زن ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات کو مذاکرات کی میز پر حل کر لیں گے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی جنوبی سوڈان کی آزادی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کی تاریکی کے بعد نئی صبح کی روشنی ممکن ہے جوبا میں پرچم فخر سے لہرا رہا ہے اور دنیا کا نیا نقشہ معرض وجود میں آیا ہے۔ ان علاقوں میں خون منعکس ہو رہا ہے جو کہ بہایا گیا ہے وہ آنسو جھلک رہے ہیں جو کہ آنکھوں سے ٹپکے ہیں اور لاکھوں افراد کی وہ سنہری آرزوئیں ہیں جو کہ پوری ہوئی ہیں۔
آخر میں ہم قارئین نوائے وقت کو یہ بتاتے چلیں کہ متحدہ سوڈان دو لخت ہونے سے پہلے رقبہ کے اعتبار سے دنیا کا دسواں بڑا ملک تھا علاوہ ازیں براعظم افریقہ کے حوالے سے یہ مصر، الجزائر، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا، کانگو، نائیجر اور موریطانیہ کے ہمراہ تاریک براعظم کا ایک اہم ملک ہے۔ سوڈان وہی ملک ہے جسے دریائے نیل کی طویل گزرگاہ ہونے اور انیسویں صدی کے مجاہداعظم مہدی سوڈانی کے باعث عالمی شہرت حاصل ہے۔ شمالی سوڈان کا دارالخلافہ خرطوم قدیم اور جدید تہذیبوں کا خوبصورت امتزاج ہے اور سیاحوں کے لئے بڑی کشش رکھتا ہے۔