ضرورت کم از کم نہیں زیادہ سے زیادہ ڈیٹرنس کی ہے

19 جولائی 2011
رانا اعجاز احمد خان
ٰآج پاکستان سیاسی اور دفاعی معاملات سمیت بہت سے بحرانوں کا شکار ہے۔ملکی و قومی سلامتی اور سا لمیت کے لئے سیاسی اور دفاعی دونوں بحران انتہائی خطرناک ہیں۔دفاعی معاملات کی نسبت سیاسی مسائل سے نمٹنا کہیں آسان ہے۔اسلئے کہ یہ ہمارے اپنے پیداکردہ ہیںاور اندرونی ہیں۔ان کے حل کے لئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہ مداخلت کی۔ہماری سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لیڈر جب بھی اور جس وقت بھی اپنے مفادات سے بالا تر ہوگئے سیاسی معاملات اسی وقت حل ہو جائیں گے۔دفاعی معاملات بھی ہم نے خود مخدوش کئے ہیں۔ایک طرف ہماری فوج کا ایک بڑا حصہ امریکہ کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے دوسری طرف مشرقی بارڈر پر پاکستان کا روایتی دشمن بھارت لاﺅ لشکر کے ساتھ موجودہے۔بھارت تو پاستان کو کب کا ملیا میٹ کرچکا ہوتالیکن وہ پاکستان کے ایٹمی پاور ہونے سے خائف ہے۔ایٹم بم نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔یہی پاکستان کے دشمنوں کو آج سب سے بڑا دکھ ہے۔ وہ پاکستان کو ایٹمی پاور سے محروم کرنے کے لئے متحد ہو چکے ہیں۔ اسلامی ممالک پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتے اور پاکستان کے ایٹم بم اسلامی بم سمجھتے ہیں۔ مسلم امہ کی یہ سوچ ہنود اور یہود و نصاریٰ کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ جاتی ہے۔ بھارت پاکستان کا کھلا دشمن امریکہ دوستی کی آڑ میں دشمنی کرتا ہے۔ ہماری قیادتیںامریکہ کی پلاننگ کو سمجھتی ہیں۔کبھی کبھی پاکستان کے خلاف اقدامات اور بیانات پر پژمردہ سا ردِ عمل بھی سامنے آجا تا ہے۔عموماًمصلحتاً ، خوف ےا جنگ لڑنے کے عوض امداد کے حصول کی خاطر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اس کے سبب آج پاکستان کا ایٹمی پروگرام شدید خطرات کا شکار ہے۔ امریکہ کئی بار اسے منجمد کرنے پر زور دیا۔ کئی بار اسے غیر محفوظ قرار دے کر شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کا واویلا کیا۔ اس اسے اپنی نگرانی میں لینا ہے۔ ہماری ہر حکومت نے امریکی سے ڈکٹیشن لی اس کا حکم ماناتا ہم ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کسی نے بھی امریکہ کی بات نہیں مانی۔ سیاسی فوجی حکومتوں کی یہی ایک قدر مشترک خوش آئند بھی ہے۔ امریکہ کی آج نظر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہے۔بھارت پہلے ہی پاکستان کو ایٹم بم سے محروم دیکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیل بھی ان کا ہمنوا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا دفاع ہر حوالے سے مضبوط اور واقعی ناقابلِ تسخیر ہونا چاہیئے۔
موجودہ حالات کے تناظر جب پاکستان کا ازلی دشمن روایتی اور غیر روایتی اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے اور اسے پاکستان اور اسلام کے دیگر دشمنوں کی مکمل پشت پناہی بھی حاصل ہے، ہماری سیاسی اور عسکری لیڈر شپ نے کچھ بر وقت اور احسن فیصلے بھی کئے ہیں۔ ایک دو روز قبل نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا جس میں اتھارٹی کے ارکان بشمول وفاقی وزرا، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین، مسلح افواج کے سربراہوں‘ سیکرٹری اتھارٹی، ڈی جی سٹرٹیجک پلانزڈویژن اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ میزائل پروگرام جاری ر کھا جائے گا۔ اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے کم از کم قابل اعتماد ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا۔ اتھارٹی نے پاکستان کے سٹرٹیجک ہتھیاروں کی آپریشنل تیاری پر بھی اعتماد ظاہر کیا۔ اتھارٹی نے عالمی مسلمہ ضوابط اور مساوات و مقصدیت کے قواعد سے ماورا پالیسیوں پر مسلسل عمل درآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی پالیسی ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے نظام کو کمزور اور جنوبی ایشیا میں سٹرٹیجک توازن کو بگاڑ رہی ہے اس لئے پاکستان علاقائی استحکام برقرار رکھنے اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کرے گا۔
دشمن کے پاکستان کے خلاف مذموم اتحاد اور بھارت کی جنگی تیاریوں اور جنگی جنون کے پیشِ نظر آج کم از ڈیٹرنس کی نہیں زیادہ سے ڈیٹرنس اوراپنے گھوڑے مکمل طور پر تیار رکھنے ضرورت ہے۔ جب بھارت کو اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافے کی اجازت ہے تو پاکستان خود پر کم از ڈیٹرنس کی پابندی کیوں لگا لے؟۔