مفاہمتی پالیسی

19 جولائی 2011
امیر محمد خان
جی ہاں ! مہاجر یا اردو بولنے والے بھوکے ننگے ، سند ھ میں آئے تھے ہم نے انہیں سہارا دیا یہ اقوال زریں ہیں پی پی پی کے رہنماء ذولفقار مرزا کے اردو مادری زبان ہونے کے باوجود ایم کیو ایم میری پسندیدہ تنظیم کبھی نہیں رہی مگر ذولفقار مرزا نے تو ایم کیو ایم کو نہیں بلکہ تمام ہی ان لوگوں کو گالی دی ہے جو تقسیم سے قبل یہاں آئے ۔ ذولفقار مرزا سندھ پی پی پی کے اس گروپ سے تعلق رکھتے ہیںجس نے آصف علی زرداری کے خلاف اسوقت بغاوت شروع کردی تھی جب آصف علی زرداری بہ حیثیت صدر پاکستان ایم کیو ایم کے نائین زیرو کی یاترا کررہے تھے ، قارئین کو یاد ہوگا کہ اسکے بعد گڑھی خدا بخش ایم کیو ایم کے وفد خیر سگالی کے طور پر محترمہ کی برسی پر نوڈیرو میں شرکت کرکے آصف علی زرداری سے ملاقات کرنی تھی تو آصف علی زرداری نے کہہ کہ ملاقات سے معذرت کرلی تھی کہ انکی طبیعت ناساز ہے ، یہ طبیعت کی ناسازی دراصل سندھ کے ذولفقار مرزا سٹائیل کے دیگر پی پی پی کے لوگوں کا دباﺅ تھا جو ناراض تھے کہ نائین زیرو جاکر جناب صدر نے انکی سیاست خراب کی ہے ۔ ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پی پی پی اس بات پر قائم ہے کہ یہ ذوالفقار مرزا کی ذاتی رائے ہے پی پی پی کی نہیں ، اگر ذولفقار مرزا کو پارٹی سے فوری علیحدہ کرکے پی پی پی یہ بیان دیتی تو بات سمجھ میں آتی تھی مگر پی پی پی ایسا کرتی تو جو کچھ گزشتہ رات کے ذولفقار مرزا کے بیان کے کراچی اور سندھ کے کچھ علاقوںمیں ہورہا ہے وہ اندرون سندھ بہت زور شور سے ہوتا ۔ پی پی پی لگتا ہے اقتدار کیلئے سب کچھ کرسکتی ہے ملک کو امریکی سرکار کے ہاتھ گروی رکھنا اسکا واضح ثبوت
ہے ،اسحاق خان کے زمانے میں نواز شریف کو چھوڑ کر بی بی کو اقتدار اسی لئے دیا گیا سندھ میں لسانیت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اگر اقتدار نہ ملتا تو پھر شائد وہ پاکستان کو بھی نہ مانتے اقتدار ملے تو سب زیادہ محب وطن !!! سیاست داں اپنے مفادات کیلئے ملک کا بیڑہ غرق کرنے پر بضد ہیں اللہ تعالی اس ملک میں اپنا رحم رکھے ، ورنہ اقتدار اور مفا دات کیلئے نواز شریف اپنے سابقہ ساتھیوں کو مسلم لیگ میں نہ لینے پر سختی سے کاربند نظرآتے ہیں جبکہ وہ میثاق جمہوریت اور اسکے علاوہ بھی ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد تنظیم سے کم نہیں سمجھتے ، آج جس ایم کیو ایم حقیقی آفاق احمد کو ذولفقار مرزا اٹھائے پھر رہے ہیں انہیں میاں صاحب کی مسلم لیگ نے ہی پنجاب میں پناہ دیکر شروع میںرکھا تھا ۔ آنے والی نسلوںکیلئے اور آج کی تعلیم یافتہ
نسل کیلئے ہمارے ان محب وطن سیاستدانوںنے سیاست کو ایک نفرت انگیز چیز بنا دیا ہے ۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے کا لفظ ہی ہمارے سیاستدانوں کیلئے ہی معرض وجود میں آیا ہے ، مجھے یا د ہے ایک دفعہ حالیہ پی پی پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جدہ میں نے چوہدری شجاعت حسین سے ایک ملاقات میں استفسار کیا تھا کہ کیا ممکن ہے کہ آپ کا پی پی پی سے کبھی اتحاد ہوجائے ، انہوںنے نہائت مضبوط لہجے میں کہا تھا ۔ ہما را اتحاد اس لئے ممکن نہیںکہ ان سے ہمارا خون کا جھگڑا ہے ۔ انکا اشارہ چوہدری ظہورالہی کے قتل سے تھا مگر آج مونس الہی کے جیل جاتے ہی پرانے خون بھول کر نئے خون کی فکر میں پی پی پی سے آملے ۔ پاکستان اور خاص طور پر سند ھ یا کراچی کی موجودہ سنگین صورتحال میں اشد ضرورت ہے کہ اگر پاکستان کیلئے معمولی محبت بھی ہے تو ان حالات کو قابو کیا جائے ۔ کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے جہاں سے ہماری معیشت وابستہ ہے جو کہ پہلے ہی اچھی نہیں خدا کے واسطے اگر آئیندہ نسل کو خوشحال یا اپنے پیروںپر کھڑا دیکھنا ہے تو یہاں امن قائم کرےں مگر وہ مسیحاہ کہاں سے آئے ؟؟؟ چونکہ سب ہی کسی نہ کسی معاملے پر ایک حمام میں ۔۔۔۔۔۔۔ ہیں۔