اوہو بھلے جنہاں چھنڈ رکھے اِس دھوڑوں ہتھ پلّے

عظیم صوفی شاعر حضرت میاں محمد بخش جی ؒ (1830-1907) کا ایک سو پندرھواں عرس مبارک سات ذوالحج بروز اتوارکونہایت ہی سادگی و احترام کے ساتھ دربار کھڑی شریف نزد میرپور آزادکشمیر میں منایا جارہاہے۔
حجرہ شاہ مقیم کے سلسلہ قادریہ کے گیلانی بزرگ حضرت شاہ محمد مقیم ؒ کے بیٹے حضرت علی امیر بالا پیرؒ سے روحانی فیض پانے والے عظیم صوفی بزرگ حضرت پیرپیرا شاہ غازی قلندر المعروف دمڑی والی سرکارؒ کے دربار ِ عالیہ کے سجادہ نشین حضرت میاں شمس الدین ؒ کی منجھلے بیٹے حضرت میاں محمد بخش جیؒ کو قدرت نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپّ بچپن ہی سے سلوک کی راہ پر گامزن تھے۔ ایک روز آپ ؒ کے والد چارپائی پر چادر اوڑھے آرام فرما رہے تھے۔ حضرت میاں محمد بخش جیؒ چھوٹی عمر کے تھے کہ ایک روزآپؒ چپ چاپ آگے بڑھ کر اپنے والدِ محترم کے پاؤں دبانے لگے۔ انہوں نے چادر پرے ہٹائی اور پوچھنے لگے :
’’پتر محمد بخشؒ کی چاہندا ایں؟ ‘‘
(بیٹے محمد بخشؒ کیا چاہتے ہو؟ )
بیٹا اپنے ہم عمر ساتھیوں کی معمول کی مادی خواہشات کے الٹ اپنے ولی ء کامِل باپ سے دعاکا طالب ہے اور عرض کرتا ہے کہ ’’ابا جی! میرے لئی دعافرماؤ کہ ربّ مینوں سچا فقیر بنا دئے۔‘‘
دور کی نگاہ رکھنے والے باپ نے اپنے بیٹے کے منہ سے یہ الفاظ سُنے تو فرطِ حیرت میں اُسے اپنے سینے سے لگا لیا اور بارگاہِ الہٰی میں نہایت ہی عجزوانکساری سے ان الفاظ میں دعافرمائی : ’’یا اللہ ! تو علیم و بصیر ہے۔ میرے اس کمسن بچے نے مجھ سے کوئی دنیاوی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ فقط تیری رضا کا طلبگار ہے۔میں اسے تجھ کو سونپتا ہوں۔ یااللہ ! اس بچے کو اپنے نیک بندوں کی صف میں کھڑا کرنا‘‘ آمین۔
حضرت میاں محمد بخشؒ بچپن سے ہی فقیر منش اور درویشانہ طبع کی وجہ سے اپنے ہم عمر ساتھیوں سے الگ تھلگ رہتے۔ دربارکھڑی شریف سے چند میل کے فاصلے پر قصبہ سموال شریف میں اپنے بڑے بھائی حضرت میاں بہاول بخش جیؒ کے ہمراہ تعلیم کے حصول کے لیے جاتے۔ مدرسے سے دینی و ظاہری علوم سیکھنے کے ساتھ ساتھ عربی فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا۔
حضرت میاں محمد بخش جی ؒ کی ادبی، علمی، روحانی خدمات کو مدّنظر رکھا جائے تو دربارِ عالیہ کھڑی شریف کی پہچان علم، سوچ اور فکر میں انقلاب کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ آپؒ نے اِس نورانی فضا میں تقریباًاٹھاراں کتابیں لکھیں جِن میں کم و بیش اٹھائیس ہزار اشعار ہیں۔ان سب کتابوں میں جس کتاب کو شہرتِ دوام مِلی وہ سفرالعشق (المعروف سیف الملوک ) ہے۔
قیاس کیا جاتا ہے کہ آپؒ نے یہ کتاب بتیس سال کی عمرمیں لکھنا شروع کی اور ایک سال کے انتہائی مختصر عرصہ میںاِسے مکمل کیا۔یہ معرکہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ کتاب کا زیادہ تر حصہ کشمیر کے انتہائی خوبصورت مقام پنجن پہاڑ (موجودہ نام پنجنی شریف) پررہ کر لکھا جبکہ بقیہ حصہ دربار کھڑی شریف کے احاطے کے قریب اپنے حجرہ مبارک میں لکھا۔ یہ معمول کی بات تھی کہ آپ ؒ اکثر اوقات گرمیوں کے مہینے پنجنی شریف تشریف لے جاتے ۔ وہاں آپؒ نے اپنی ایک عارضی قبر بھی کھدوا رکھی تھی۔
راقم نے حال ہی میں سیف الملوک کے اِسی پہلے نسخہ کو برٹش لائبریری سے منگوا کر چھپوا دیا ہے تاکہ میاں صاحبؒ کے سچے عاشق اس کتاب سے استفادہ حاصل کر سکیں۔حضرت میاں محمد بخش جیؒ مقبول و معروف تصنیف سیف الملوک کے لکھنے سے قبل چھ عدد کتابیں لکھ چُکے تھے جبکہ سیف الملوک کے چھپنے تک آپؒ پنجابی زبان میں بشمولِ سیف الملوک دس عدد کتابوں کے مصنف بن چُکے تھے۔ اِن دس عدد کتابوں میں میاں صاحبؒ کی فی الحال تک دستیاب نہ ہونے والی ایک کتاب گلزار فقر بھی شامل ہے جس کی تاحال تلاش جاری ہے۔ سیف الملوک میں اشعار کی کل تعداد نو ہزار دو سوانچاس ہے۔ سیف الملوک کا ہر شعرفقر کے اسرارورموز سے بھرا ہوا ہے ۔ دل پرچانے کی خاطرظاہری مجازی عشقیہ قِصّے سے ہر کوئی لطف اندوز ہو سکتا ہے لیکن ان اشعار کے رمزیہ یا حقیقی معنوں تک رسائی ظاہری و باطنی طہارت کے بغیر ممکن نہیں۔
حضرت میاں محمد بخش جی ؒ نے اپنی اٹھہترسالہ زندگی میں کم وبیش اٹھاراں کتابیں لکھیں۔ جن میںسترہ کتابیں اپنی مادری زبان پنجابی میں جبکہ ایک کتاب فارسی زبان میں لکھی۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہاں کی حکومتوں کے پنجابی زبان سے مخاصمانہ (مخالفانہ) رویوں اور دیگر زبانوں کی نشوونما و فروغ کی وجہ سے پاکستان میںاکثریتی زبان بولنے والے پنجابی مسلمان آج اس بیش بہا قیمتی خزانے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ جیسے جیسے پرانا ملبہ ہمارے اوپر سے ہٹے گا ویسے ویسے بہتری آتی چلی جائے گی اور ہماری وفاق، پنجاب و کشمیر کی حکومتیں جلد ہی اس احساسِ محرومی کے ازالہ کے لیے کچھ نہ کچھ اقدام ضرور اُٹھائیں گی تاکہ ہماری نسلیں بھی دیگر اقوام کی طرح اپنے علمی، ادبی، روحانی وثقافتی ورثہ پر نہ صرف ناز کرسکیں بلکہ استفادہ بھی اٹھا سکیں ۔ حضرت میاں محمد بخش جی نے دنیا اور دنیا والوں کی اصلیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے ہمیں کُھلے اورشفاف الفاظ میں خبردارکیا ہے:
دانشمنداں دا کم ناہیں دنیا تے دِل لانا
اِس بوہٹی لکھ خاوند کیتے، جو کیتا سو کھانا
جس چھڈی ایہہ بچے کھانی، سویو سُگھڑ سیانا
ایسی ڈائن نال محمد ؔ کاہنوں عقد بنھانا
نِت نویں ایہہ بن بن بہندی، بُڈھی مول نہ دِسدی
ہر ہِک سنگ کریندی گوشے نہیں ہِکی پر وِسدی
ننگیں پَیریں گئے بدیسی خاک رلے سب مر کے
کہو کی مان محمد بخشاؔ رہو نماناں ڈر کے
دانشمندوں کا کام نہیں کہ اس دنیا سے دِل لگائیں۔ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ اس ووہٹی (دُلہن) نے لاکھوں (بیشمار) خاوند کیے اور جو بھی خاوند کیا اُسے کھا گئی۔ اورجس کسی نے بھی اس بچے کھائی ڈائن (witch)کے ساتھ رشتے سے انکارکیا وہ ہی عقلمند کہلایا۔ دنیا نئے نئے سنگھار کر تی ہے اور نِت نئے روپ دھارتی ہے،کبھی بھی بوڑھی نہیں دکھائی دیتی، یہاں اشارہ فیشن اور ہر سال نئے ماڈل کی پراڈکٹ گاڑی، گھڑی، موبائیل، لباس، جوتوں کی طرف بھی ہے،مطلب یہ کہ دنیا نے ا پنی کشش کو ہر حال میں قائم رکھا ہواہوتا ہے۔اس کے بچھائے خوبصورت جال میں لوگ جوک درجوک پھنستے چلے جاتے ہیں۔
اگلے شعر میں ایک اور پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے کہ دنیا کسی ایک پر بھروسہ نہیں کرتی بلکہ ہرناچنے والی کی طرح اپنے شباب کی مدھ سے ہر ایک کو اپنی طرف مسلسل متوجہ کیے رکھتی ہے تاکہ سارے کے سارے لوگ اُسے اپنا سمجھتے رہیں، دنیااپنی اپنی جگہ ہر ایک کے دِل میں گھر کر لیتی ہے اور ہر کوئی یہ ہی سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا بس اُسی کی ہے۔
اور پھردرج بالا اشعار کے آخر میں میاں محمد بخش جیؒ ہمیں ہمارے انجام سے آگاہ فرماتے ہیں کہ اس جہاںمیں کیسے کیسے لوگ آئے اور ننگے پاؤں یہاں سے اگلے جہان رخصت ہوکر خاک میں خاک ہو گئے ۔ اے محمد بخشؔ! اس دنیا اور اس کی زندگی پر کیسا غرور گھمنڈ؟ خدارا! یہاں کی زندگی کا ہر لمحہ خداخوفی رکھتے ہوئے عاجزی، خاکسار ی اور منکسر المزاجی میں گذاریے ۔ یقینااِسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔
؎اوہو بھلے جنہاں چھنڈ رکھے اِس دھوڑوں ہتھ پلّے

ای پیپر دی نیشن