بچوں کے محسنﷺ

اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو تمام جہانوں کے لیے رحمة اللعالمین بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ تمام مخلوق کے سب سے بڑے محسن ہیں۔ آپﷺ نے بچوں کے ساتھ خصوصی شفقت فرمائی اور بچوں سے پیار محبت سے پیش آنے کا حکم فرمایا۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی پیدائش پرایک جیسا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اسلام سے قبل مفلسی کے ڈر سے لوگ بچوں کو قتل کر دیتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو حرام قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تم کو بھی رزق دیں گے اور ان (تمہاری اولاد ) کو بھی۔ اسلام سے قبل عرب کے لوگ بیٹی کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس عمل کو ختم فرمایا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے تین لڑکیوں یا ایک لڑکی کی بھی پرورش کی اور اس کی شادی کی اس کو میں جنت کی ضمانت دیتا ہو۔
بچے کی پیدائش پر اس کی صحت کے لیے ضروری اقدامات کرنا آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ جب حضرت زبیر پیدا ہوئے تو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے ان کو گھٹی دی۔ زمانہ جاہلیت میں عرب معاشر ے میں بچوں کے عجیب و غریب نام رکھے جاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھے نام بچوں کی شخصیت پر اچھے اثرات چھوڑتے ہیں۔ آپ ﷺ نے بچوں کے نام اچھے معانی والے رکھنے کا حکم فرمایا۔آپﷺ نے بچے کی پیدائش پر عقیقہ کو سنت قرار دیا۔ بعض والدین اپنے بچوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ نہیں رکھتے۔ آپ ﷺ نے تمام بچوں کویکساں پیار و محبت دینے کاحکم فرمایا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کو گود میں لے کر تشریف فرماتھے کہ اتنے میں آپﷺ کے غلام حضرت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بیٹے حضرت اسامہ کولے کر حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ایک طرف حضرت ابراہیم کو اٹھا یا اور دوسری طرف حضرت اسامہ کو اور دونوں پر یکساں شفقت کی نظر فرماتے رہے۔
آپ ﷺ راہ چلتے بچوں کو سلام کرنے میں پہل فرماتے۔ اور ان کے سر پر دست شفقت رکھتے۔ اور اگر آپﷺ سواری پر سوار ہوتے تو بچے کو بھی اپنے ساتھ بٹھالیتے تھے۔ عرب میں یتیم بچوں سے بد سلوکی کی جاتی تھی۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جس نے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا جتنے بال اس کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنی ہی اسے نیکیاں ملیں گیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا بہترین صدقہ اولاد کی اچھی تربیت پر خرچ کرناہے۔