شہدا فورم بلوچستان اور فوجی عدالتیں 



امر اجالا------------اصغر علی شاد
یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہداءکے ورثاءنے فوجی عدالتیں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداءہماری عزت، عظمت اور ہماری آن و شان ہیں اور فوجی عدالتوں کو کام جاری رکھنے دیا جائے کیوں کہ اس سے شہداءکے ورثاءکو فوری انصاف ملے گا۔ اس ضمن میں چیف جسٹس آف پاکستان اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور عدالت عظمیٰ یہ فیصلہ واپس لے کیوں کہ ملٹری کورٹس وقت کی اہم ضرورت ہیں اور پیر کو سپریم کورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار شہداءفورم کے زیر اہتمام شہداءکے ورثاء نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یاد رہے کہ شہداءکے ورثاء میں نوابزادہ جمال ریئسانی، حاجی ثناءاللہ خان، رحیم اللہ، وزیر فرمان الہٰی، انور زیب، فوزیہ، محمد جمشید و دیگر شامل تھے۔ شہداءکے ورثاءنے کہا کہ ہمارا یہاں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم شہداء فورم کے پلیٹ فارم سے ملٹری کورٹس کی بحالی کیلیے تحریک چلائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ جاسوسی نیٹ ورکس اور دشمن قوتوں کے مذموم عزائم سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے قیام سے ہی ایک موثر ہتھیار کے طور پر رہا ہے، ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری درخواست ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو ہر قیمت پر ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر بحال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا کیس بھی عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے تو ایسے میں اس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو اس کی اصل صورت میں بحال کیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اسی تناظر میں غیر جابندار مبصرین نے کہا ہے کہ شہداءکے خاندان متقاضی ہیں کہ اس ایکٹ کو بحال کیا جائے تاکہ شہداءکے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اس وقت ملک کے غیرمعمولی حالات ہیں اور ایسے حالات غیرمعمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اسی حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ فوجی عدالتوں آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کو غیرفعال کرنے سے ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر نے جنم لیا ہے جو کہ ہرگز قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
کسے معلوم نہیں کہ ہماراملک موجودہ حالات میں دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں اور جاسوسو ں کے مقدمات کو سول عدالتوں میں طویل مدت تک لٹکانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کے مطابق یہ ایکٹ 1952ءسے بہترین کام کر رہا تھالہٰذ ا ملک و قوم کی سلامتی کیلئے اسے دوبارہ بحال کیاجاناوقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ شہدا ءپاکستان کا خون راہیگاں نہیں جانا چاہیے لہٰذا ملکی سلامتی کو کسی طور پر داو¿ پر نہ لگایا جائے اور شہداءکے قاتلوں کو بہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ کسے معلوم نہیں کہ ہمارے شہدائ نے ملکی دفاع و سلامتی کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں اور یہ ہمارے ملک کا قیمتی ترین سرمایہ ہیں۔ اس تما م صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے سنجیدہ حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔
اسی تناظر میں مبصرین کی رائے ہے کہ جان کی قربانی سے بڑی کوئی دوسری قربانی نہیں ہوتی اور اس ضمن میں ہمارے شہداءوطن عزیز کی سلامتی اور دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں لہذا ملک دشمن عناصر کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ اپنے وقتی مفادات کی خاطر ہمارے خون کے ساتھ کھیلے۔
اس تمام منظر نامے کا جائزہ لیتے غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ تیسری دنیا کے اکثر ممالک کی طرح اگرچہ وطنِ عزیز میں بھی سبھی حکومتی اور سیاسی معاملات مثالی حد تک صحیح نہیں ہیں اور ان میں بہتری کی گنجائش بہر طور موجود ہے مگر اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ڈس انفارمیشن پھیلانے والے یہ عناصر غالباً کسی مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کیونکہ گذشتہ کافی عرصے سے نظریہ پاکستان،ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کہ ہدفِ تنقید بنانا دانشوری،ترقی پسندی اور انسان دوستی کی واحد علامت بن گیا ہے اور یہ طرزِ عمل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید پختگی اختیار کرتا جا رہا ہے حالانکہ مناسب اور تعمیری سوچ غالباً یہ ہونی چاہیے کہ خود احتسابی اور خود مذمتی کے مابین حدِ فاصل کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور صحافتی،سماجی اور سیاسی اکابرین اپنا سارا زورِ خطابت نظریہ پاکستان اور اس کے محافظ اداروں کو مطعون کرنے کی بجائے (پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ) کی سوچ کے تحت اپنی توانائیاں تعمیری ڈھنگ سے صرف کریں۔ کیوں کہ حکایت ہے کہ کسی گاو¿ں میں کافی عرصے سے بارش نہیں ہوئی تو لوگوں نے فیصلہ کیا کہ باہر کھلے میدان میں جا کر دعا کی جائے،سب گئے مگر ایک بچہ چھتری ساتھ لے کر گیا کیوں کہ اسے ایمان کی حد تک یقین تھا کہ بارش بہر صورت ہوکر رہے گی کیوں کہ اسے اپنے رب پر کامل یقین تھا،یہ ہوتا ہے عقیدہ۔غالباً اس حکایت میں ہمارے قومی منظر نامے اور ڈس انفارمیشن کے حوالے سے کئی سبق پنہاں ہیں۔تو قع کی جانی چاہیے کہ تما م تر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جانب سنجیدہ توجہ دی جائے گی۔

ای پیپر دی نیشن