غزوہ ہند اور گستاخانِ رسولِ رحمت

18 نومبر 2012

ایک حیرت انگیز بڑی بات ملک محمد اکرم اعوان نے کی۔ ایک بہت سنجیدہ معاملہ بڑی آسانی سے حل کردیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے ہاں لوگ ماڈرن اور مغرب سے مرعوب ہو کر کہتے دکھائی دیتے ہیں جب مغل مسلمان بادشاہ مقبرے اور قلعے بنا رہے تھے تو مغرب میں یونیورسٹیاں بن رہی تھیں۔ پھر انگریزوں نے دھوکے سے برصغیر پر قبضہ کرلیا، تب مسلمان غلامی پر راضی نہ تھے، وہ اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ وہ مایوس نہ تھے مگر مضطرب تھے۔ انہوں نے مدرسے کی روایت کو آگے بڑھایا، ایک باقاعدہ سازش اور مہم کے طور پر مدرسوں اور مولویوں کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ لوگ سیکھنے کیلئے باہر جاتے ہیں، لیکن پوری دنیا سے مسلمان دین پڑھنے کیلئے برصغیر میں آتے تھے۔ اب پاکستان میں آتے ہیں اور بھارت بھی جاتے ہیں۔ پریشانی صرف یہ ہے کہ دین و دنیا کے معاملات کو الگ الگ کردیا۔ بھارت میں اب بھی مدرسے آباد ہیں۔ وہاں ہندو کا وہی رول ہے جو انگریزوں کا تھا۔ ہندو انگریز کا دوست تھا، وہ مسلمان کو مدمقابل سمجھتے تھے۔ اب بھی امریکہ اور مغرب کو یہی خوف چین نہیں لینے دیتا۔ انہوں نے عالم اسلام بالخصوص پاکستان اور بھارت کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ بلوچستان میں بھی بھارت، امریکہ، اسرائیل کی سازشوں میں شریک ہے مگر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ دوسری سپرپاور امریکہ کا قبرستان بھی افغانستان، وزیرستان اور بلوچستان ہوگا۔
ایک بہت دلچسپ واقعہ ملک محمد اکرم اعوان نے بتایا۔ انگریز کے برصغیر پر قبضے کے بعد انکا ایک اہم شخص واپس گیا۔ اس نے برطانوی پارلیمنٹ میں جو بیان دیا، وہ آج بھی ریکارڈ پر ہے۔ اسکی تصدیق شدہ کاپی بھی ملک صاحب کے پاس موجود ہے۔ اس انگریز کا کہنا تھا میں ہندوستان کے چاروں طرف مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پھرتا رہا ہوں۔ مجھے وہاں کوئی چور، کوئی گداگر نظر نہیں آیا۔ مسلمانوں کی حکومت کو گزرے تقریباً چوتھائی صدی ہوچکی ہے۔ مرہٹے، سکھ اور دوسری قومیں بھی قابض ہوئیں مگر مسلمانوں کا قائم کیا ہوا معاشرہ زندہ ہے۔ انکا قائم کیا ہوا امن قائم رہا، اس نے یہ بھی کہا کہ وہاں اب بھی قوت مسلمانوںکے پاس ہے۔ مسلمانوں پر حکومت کرنا ہمارے لئے مشکل ہے اور یہ مشکل ہمیشہ رہے گی۔ اب بھی یہی مشکل ہے۔ یہ برطانوی پارلیمنٹ میں انگریز نے بتایا کہ آج بھی مسلمانوں کا لٹریسی ریٹ 84 فیصد ہے کہ جو کہتے ہیں کہ مسلمان صرف قلعے اور مقبرے بناتے رہے، پورا سچ نہیں ہے۔ مسلمانوں نے یونیورسٹیاں بھی بنائیں، انہیں برباد کرنے کیلئے مغربی دنیا نے اپنی ساری طاقت استعمال کی۔ طب مشرق کو اپنی ایلوپیتھی کیلئے بنیاد بنایا مگر ہمارے ہاں سازش کے تحت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے علمی اثاثے کو مذاق کا نشانہ بنوایا گیا۔ مجھے امید ہے کہ مسلمانوں کے خوف سے ہی وہ اپنی موت مر جائینگے
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
ملک صاحب نے رحمت ِ عالم، پیغمبرِ اعظم کی زندگی کی پیروی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے بہت خوبصورت بات کی، ظاہر سے باطن تک سچ بولنا شروع کردیں۔ ملک و قوم کے ساتھ وفا شروع کردیں، عیاشیاں اور من مانیاں چھوڑ دیں، اپنے وسائل میں آجائیں اور ایک قوم بن جائیں۔ یہ بھی مشورہ انکے سامنے ہے کہ مسلمانوں کو تعلیمی ادارے یعنی مدرسے بند کرکے اپنے ادارے بنانا ہونگے۔ مسلمانوں کی تہذیب کی نفی کرکے اپنی تہذیب کو ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ جب یہ ہماری تہذیب کو ماڈل بنالیں گے تو ان پر حکومت کرنا آسان ہوگا۔ مسلمان ایلیٹ کلاس وہی کورس پڑھ رہی ہے جو انگریزوں نے ترتیب دیا تھا کہ مسلمانوں کو غلام بنا کے رکھا جائے۔
افغانستان میں مسلمانوں کی حکومت کو دہشت گردوں کی حکومت کہہ کر چڑھائی کردی مگر ان نہتے لوگوں کو زیروزبر تو کیا جاسکتا ہے، زیر نہیں کیا جاسکتا۔ اعوان صاحب اپنے نام کے ساتھ مولانا کا لفظ پسند نہیں کرتے۔ وہ صاحب اسلوب شخصیت ہیں۔ بہت شاندار پگڑی باندھتے ہیں۔ قرآن کریم کی تفہیم اور تعلیم پھیلانے کیلئے انکا انداز تخلیقی ہے۔ وہ روایت سے جڑے ہوئے ہیں مگر کسی نئی حکایت کو بھی بیان کررہے ہیں۔ قرآن کی محبت عام کرنے میں آسودگی سے بات کرتے ہیں۔ آسودگی آسانی سے آنے کی چیز ہے۔ دماغ کے ساتھ ساتھ دل کی یکسوئی اور یکجہتی کو اہمیت دیتے ہیں۔ اچھے دل و دماغ والے لوگ پیدا ہوں گے تو بات بن جائیگی۔
وہ غزوہ ¿ ہند کا بہت ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم نے انڈیا کو فتح کرکے کیا کرنا ہے، انہیں مسلمان کرنا ہے۔ عرفان و یقین میں ڈوبے ہوئے بابا عرفان الحق بھی غزوہ ¿ ہند کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کی ہے جو ملک صاحب نے کی ہے۔ فتح مکہ کی کوئی مثال تاریخ انسانیت کے پاس نہیں ہے۔ حضور نے مکہ بغیر لڑے فتح کرلیا، سب لوگ مسلمان ہوگئے، غزوہ ¿ ہند ہوگی اور بغیر لڑے سب کچھ فتح کرلیا جائیگا۔ دل و دماغ کو تسخیر کرنا لوگوں کو غلام بنانے سے بہت بڑھ کر فتح ہے۔ زمینوں پر قبضہ زمانوں پر قبضے سے کمتر ہے۔ لوگوں کو مسلمان کرنا، انہیں مطیع کرنے سے بہت بڑی کامیابی ہے۔ غزوہ ¿ وہ لڑائی ہے جس میں رسولِ کریم بنفس نفیس شرکت فرماتے ۔ وہ غزوہ ¿ ہند کی قیادت کس طرح کرینگے۔ شرکت کے کئی قرینے ہیں، عشق رسول بہت حیران کردینے والا جذبہ ہے۔ جس دل میں یہ چراغ جلتا ہے، وہ ان کی رفاقت کو محسوس کرسکتا ہے۔ قیادت اور رفاقت میں فرق رحمت العالمین نے مٹا دیا ہے۔
ملک محمد اکرم اعوان نقشبندیہ اویسیہ کے امیر ہیں۔ امیری اور فقیری میں فرق کو دل والوں نے مٹا دیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ روحانی سفر بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک بات یہ بھی کی کہ غلط طریقہ ¿ احتجاج کے سبب گستاخانِ رسول کو فائدہ ہوا۔ حضور کی شان کے خلاف ملعون سلمان رشدی نے کتاب لکھی۔ میں انگلستان گیا اور وہ کتاب منگوائی، 10 ڈالر کی یہ معمولی کتاب 200 ڈالر کی ملی۔ ملعون رشدی آج کل کھرب پتی بن گیا ہے۔ اب بھی مغرب اور امریکہ میں عیاشی کرتا ہے۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ایسی طاقت بن جائیں کہ دشمن خوف سے ایسی جرا¿ت نہ کرسکیں۔ وہ مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جو لوگ عہد نبوی میں حضور کی شان میں گستاخی کرتے تھے وہی غلام بن گئے مگر اس میں حضور کی حکمت اور رحمت عروج پر تھی۔