کراچی آنے والے مسافروں کولوٹنا پولیس کا معمول بن گیا

18 نومبر 2012

  کراچی (محمد قاسم/نمائندہ نوائے وقت) اندرون ملک بسوں کے ذریعے کراچی آنے والے مسافروں کو لوٹنا پولیس کا معمول بن گیا ہے۔ سہراب گوٹھ پر اترنے والے مسافروں سے روزانہ لاکھوں روپے وصول کئے جاتے ہیں ۔ اندرون ملک سے مختلف کوچز کے ذریعے آنے والے مسافر جو سہراب گوٹھ پر اترتے ہیں ان کو لوٹنے کے لئے پولیس نے فضل مل،یوسف پلازہ اور پاور ہاﺅس کے پاس پکٹ لگا رکھے ہیں۔ مسافروں کو لے جانے والی ٹیکسیاں او ررکشہ ڈرائیور بھی پولیس سے ملے ہوئے ہیں ان کی تینوں مقامات پر پولیس اسنیپ چیکنگ کے بنانے مسافروں کے سامان کی تلاشی لے کر ہراساں کرتی ہے اور ہر فیملی سے 500 سے 100 روپے وصول کئے بغیر نہیں جانے دیتے ۔ ذرائع کے مطابق جب پولیس کو کچھ اور نہیںملتا تو مسافروں کے موبائل فون چیک کئے جاتے ہیں او ران کی فیملی خواتین کی تصاویر پر اعتراض کرکے موبائل ضبط کرنے کی دھمکی یا پھر شناختی کارڈ نہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں تھانے لے جانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ڈرائیور کے مطابق یہ تینوں مقامات میں پولیس روزانہ شہریوں سے لاکھوں روپے بٹورتی ہے ، شہریوں نے آئی جی سندھ پولیس ، ایڈیشنل آئی جی او ر دیگر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔