پاکستان کیساتھ قریبی شراکت داری باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں : امریکی سفیر

18 نومبر 2012


اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میںتعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ قریبی شراکت داری ،مشترکہ مفادات اور باہمی احترام پرمبنی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے۔ ریڈیو پاکستان کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سفیرنے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو چیلنجوں کا سامنا رہا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل بات چیت کے بعد تعلقات میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے سلالہ کے واقعے پر پاکستان سے معافی مانگی تھی، امریکہ سپلائی لائن دوبارہ کھولنے کے لئے پاکستانی فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ امریکی سفیر نے صدر آصف علی زرداری اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے امریکہ کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفود بھی پاکستان کا دورہ کریں گے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات سمیت مختلف امور پر بات چیت کی جائے گی۔ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات امریکہ کیلئے اہمیت رکھتے ہیں ۔ امریکہ نہ صرف افغانستان کے سلسلے میں بلکہ 2015ءکے بعد اس صدی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی اہمیت کا ادراک رکھتا ہے۔ ایک سوال پر رچرڈ اولسن نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری رویوں کو مستحسن سمجھتا ہے اور امید ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات کے نتیجے میں اقتدار ایک سول حکومت سے دوسری سول حکومت کو منتقل ہو گا۔ صدر آصف علی زرداری کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں امریکی سفیر نے کہا کہ انہوں نے باہمی دلچسپی اور علاقائی اہمیت کے کئی امور پر تبادلہ خیا ل کیا۔ امریکی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس لڑائی میں چالیس ہزار پاکستانی اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں ۔ امریکہ نے حکومت پاکستان کے ساتھ گذشتہ کئی برسوں کے دوران کئی منصوبوں پر مل کرکا م کیاہے جن سے چار سومیگاواٹ سے بھی زیادہ بجلی حاصل ہوئی ہے۔ یہ بجلی گرِڈ میں شامل ہو چکی ہے جو تقریباًساٹھ لاکھ افراد کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی ہے۔ہمارا منصوبہ ہے کہ سال دو ہزار تیرہ تک یہ 900 میگاواٹ کے ہدف تک پہنچ جائے۔ امریکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصہ میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مشکلات کا سامنا رہا ہے تاہم ہمارے پیش نظر یہ بات ہے کہ آگے کی طرف بڑھا جائے اور دونوں ملک گزشتہ پینسٹھ سالہ شراکت داری پر مبنی ایسے تعلقات استوار کرےں جن میں دونوں ایک دوسرے کے مفادات اور وقار کی پاسداری کریں۔