بھارت پاکستان مخالف افغانستان بنانے کی کوشش نہ کرے: مشرف

18 نومبر 2012


نئی دہلی (آن لائن+ نوائے وقت نیوز+ بی بی سی) سابق صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان میں شدت پسندی کے فروغ کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج سمیت پوری پاکستانی قیادت سیاچن اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل چاہتی ہے جبکہ بھارتی فوج اس کے خواہاں نہیں، بھارت کو بڑا دل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو خبردار کیا وہ پاکستان مخالف افغانستان بنانے سے گریز کرے ۔ نئی دہلی میں ایک سیمینار اور نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پرانے مسائل کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر نہ صرف پاکستان میں شدت پسند اور انتہا پسندی کے فروغ کا باعث ہے بلکہ یہ تنازعہ جنوبی ایشیاءکے اتحاد کے لئے بھی بڑا خطرہ ہے۔ اگر بھارت شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ مخلص ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل بارے سنجیدہ اور مخلصانہ اقدامات اٹھائے۔ سرحدوں پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ لائن آف کنٹرول سے فوجوں کی واپسی کو یقینی بنائیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا باہمی طور پر ایٹمی روایتی اور غیر روایتی فورسز میں کمی کےلئے تیار ہیں۔ دونوں ممالک کے میڈیا دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ افغانستان میں پختونوں کی اکثریت اقتدار سے الگ ہے، ملکی استحکام کےلئے پختونوں کو آگے لانا ہوگا جبکہ پاکستان اور بھارت کو افغانستان میں رسہ کشی سے دور رہتے ہوئے قیام امن کے حوالے سے کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستانی فوج امن چاہتی ہے، بھارت کو پہل کرنی چاہئے۔ مشرف نے کہا کہ پاکستان کئی شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں سے پریشان ہے۔ بھارتی نوجوان شدت پسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ پرانے جھگڑے بھلانے ہونگے۔ جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا معقول حل نکالنا ہو گا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کنٹرول لائن کو غیر فوجی بنا دیا جائے، زیادہ سے زیادہ خودمختاری دی جائے۔ یہ سب آج بھی ممکن ہے اگر نیت ٹھیک ہو۔ مشرف نے سیاچن، سرکریک، بھارت پاکستان کے درمیان پانی کے تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب مسائل صحیح نیت کے بل پر سلجھائے جا سکتے ہیں۔ ہم ایٹمی صلاحیت والے ملک ضرور ہیں لیکن ہم ٹرگر بٹن پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے۔ ویزا قوانین کو سہل اور لبرل بنایا جانا چاہئے۔ تجارت کو بڑھایا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ نے جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا تو دنیا کی سب سے مضبوط امریکی خفیہ نظام کو کیوں اس کا پتہ نہیں چل سکا۔ چار طیارے اڑے، امریکی فضائی علاقے میں داخل ہوئے لیکن سی آئی اے اس کا پتہ کیوں نہیں لگا سکی؟ جس طرح گیارہ ستمبر کے حملے میں سی آئی سے سے غلطی ہوئی شاید ویسی ہی غلطی اسامہ بن لادن کے معاملے میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے ہو گئی۔