مجید نظامی کی صورت میں پاکستان کو قائد کا سچا سپاہی مل گیا‘ نظریہ پاکستان فورم کے زیراہتمام تقریب

18 نومبر 2012


ملتان (سپیشل رپورٹر + خاتون رپورٹر) نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جناب مجید نظامی کی صورت میں پاکستان کو ایک سچا اور کھرا قائد کا سپاہی مل گیا ہے وہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے نہیں گھبراتے وہ جمہوریت کے حقیقی علمبردار ہیں خلافت راشدہ کے قیام پاکستان اور اسلام کی مضبوطی کے داعی ہیں ان کی زندگی کا مقصد پاکستان ہے پنجاب یونیورسٹی کی اعزازی ڈگری دراصل خود پنجاب یونیورسٹی کے لئے ایک اعزاز ہے نوجوان نسل کو پاکستان کے مطلب سے آشنا کرنے اور دو قومی نظریہ کو آج بھی مضبوط کرنے کا سہرا صرف جناب مجید نظامی کو جاتا ہے ان کی صحافتی خدمات اپنی جگہ مگر ان کی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے ‘ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے اور پاکستان سے آمریت کے خاتمہ کے لئے ان کی جدوجہد ”فرزند پاکستان “ بناتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نظریہ پاکستان فورم کے زیراہتمام منعقدہ تقریب ”بعنوان جنا ب مجید نظامی صاحب کی 70 سالہ صحافتی خدمات پر تقریب تہنیت“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ جناب مجید نظامی کی عمر کو دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ شائد وہ کوئی بزرگ ہیں مگر یہ غلط فہمی تمام وہ افراد ذہن سے نکال دیں جنہوں نے ان سے ملاقات نہیں کی ہوئی۔ ان کے کام کے جذبہ ولولہ اور لگن آج بھی کسی نوجوان سے بھی زیادہ ہے۔ وہ پاکستان کے معاملہ پر آج بھی اتنے ہی جذباتی ہیں جتنے وہ عالم جوانی میں تھے۔ اﷲ اور رسول کے بعد انہیں پاکستان ‘ قائداعظم‘ علامہ اقبال اور مادر ملت سے عشق ہے۔ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ان کے رہنما‘ ان کے نظریات کی پختگی کے باعث ان کی مداح ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی وائس چیئرمین بیگم مجیدہ وائیں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری خود پنجاب یونیورسٹی کے لئے باعث اعزاز ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے روشناس کرایا جائے۔ پاکستان لاکھوں قربانیوں سے حاصل ہوا تھا مگر آج کی نسل اسے فراموش کر رہی ہے۔سینیٹر ملک رفیق رجوانہ نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری جناب مجید نظامی کو دی ہے اب وہ ڈگری خود پنجاب یونیورسٹی کو اپنے دفتر میں آویزاں کرنا چاہئے کیونکہ جتنے عظیم اور مجاہد پاکستان کو یہ ڈگری دی گئی وہ بذات خود پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت را¶ شمیم اصغر نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ڈگری دینے میں کنجوس واقع ہوئی ہے اس لحاظ سے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ جناب مجید نظامی کی ہمہ گیر شخصیت کو دیکھ کر اور مجبور ہو کر یونیورسٹی نے یہ ڈگری دیکر خود اعزاز حاصل کیا ہے۔ ایم این اے رانا محمود الحسن نے کہا کہ ہماری قوم تو شاید اپنے اسلاف کو بھلا چکی ہوتی مگر یہ جناب مجید نظامی کی کرشماتی شخصیت ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی بھرپور حفاظت ہو رہی ہے۔ ایم این اے شیخ طارق رشید نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائد میاں نواز شریف نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں جناب مجید نظامی سے رہنمائی لی اور ایٹمی دھماکے بھی ان کی مشاورت ہی سے کئے تھے۔ صدر نظریہ پاکستان فورم حمید رضا صدیقی نے کہا کہ جناب مجید نظامی نے ایک فوجی کی طرح ملک کے اندر رہتے ہوئے نظریاتی محاذ پر جنگ لڑی ہے۔ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ان کی پوری عمر گزر گئی ہے مگر آج بھی ان کا جوش کسی نوجوان سے کم نہیں ہے۔ جنرل سیکرٹری نظریہ پاکستان فورم انجینئر ممتاز احمد خان نے کہا کہ ملک کو ایٹمی قوت بنانے اور آمریت سے نجات دلانے میں بھی نظامی صاحب کا کلیدی کردار رہا ہے جب بڑے بڑے بہادر آمریت کے خوف سے اپنی زبانیں بند کر لیتے ہیں تو صرف مجید نظامی صاحب ہی کلمہ حق کی صدا بلند کرتے ہیں۔ سابق ایم پی اے مولوی سلطان احمد انصاری نے کہا کہ اخبار کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت جیسا عظیم فریضہ جناب مجید نظامی ادا کر رہے ہیں۔ صدر ہائیکورٹ بار محمود اشرف خان نے کہا کہ اگر صحافت کی دنیا سے جناب مجید نظامی کو الگ کیا جائے تو یہ ایسا ہی ہوگا کہ جیسے جسم سے روح کو الگ کر دیا جائے۔ سابق ایم پی اے سعید احمد قریشی نے کہا کہ آج پاکستان کے الفاظ کے معنی تک ہماری نوجوان نسل بھول چکی ہوتی مگر یہ کارنامہ جناب مجید نظامی کا ہی ہے کہ آج ہر بچہ بچہ ”پاکستان کا مطلب کیا“ سے آگاہ ہو گیا ہے۔ پروفیسر حنیف چودھری نے کہا کہ اعزازی ڈگری ملنے سے قبل ہی جناب مجید نظامی عظیم انسان تھے۔ شمس القمر خان خٹک نے کہا کہ جناب مجید نظامی بھولی بھٹکی قوم کو راہ راست پر لا کر ایک عظیم جہاد کر رہے ہیں۔ شبیر احمد انصاری نے کہا کہ جناب مجید نظامی ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں جنہوں نے قیام پاکستان سے استحکام پاکستان تک کا لافانی کردار ادا کیا ہے۔ شوکت اﷲ وارثی‘ الطاف حسین بخاری نے کہا مجید نظامی کو ان کی ملی و قومی خدمت کے صلے میں ڈگری دی گئی بلاشبہ وہ اس اعزاز کے مستحق بھی تھے۔ چیئرمین نظریہ پاکستان خانیوال رانا اکرام الحق نے کہا مجید نظامی کی پاکستان کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی وہ اس کے مستحق تھے۔
ملتان (خاتون رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے مجید نظامی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری ملنے پر ان کے اعزاز میں ملتان میں منعقدہ تقریب تہنیت میں متعدد قرارادیں پیش کی گئیں جن کو کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔ حافظ معین خالد نے نظریہ پاکستان کا استحکام، کشمیر کی آزادی، مسلم لیگوں کے اتحاد، کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا بھارت کی آبی جارحیت روکنے کے لئے انڈس واٹر کمشن میں کسی اہل یا شمس الملک کو مقرر کیا جائے۔ پروفیسر عنایت علی قریشی نے اپنی قرارداد میں کہا نظریہ پاکستان فورم کو سکولوں کی اسمبلیوں تک وسیع کیا جائے۔ انہوں نے مجید نظامی کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے مطالعہ پاکستان کو دوبارہ نصاب میں شامل کیا گیا ۔ رانا اسلم ساغر نے کہا فکر قائد ؒ اور فکر اقبالؒ کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہا مجید نظامی کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں محکمہ ڈاک یادگاری ٹکٹ جاری کرے۔