پاکستان تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے ‘ ملک انتخابات میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا: شہباز شریف

18 نومبر 2012

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ دونوں ملک امن قائم کرکے خطے میں ترقی کا عمل تےزکر سکتے ہیں۔ جنگیں لڑ کر دیکھ لیا ،کچھ حاصل نہ ہوا، اب امن کے راستے پر چلنا ہی واحد آپشن ہے۔ دونوں ملکوں کو غربت، بیروزگاری اور بھوک کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرکے آگے بڑھنا ہے اور معاشی و ثقافتی تعلقات کو فروغ دے کر خطے کے حالات میں مثبت تبدیلی لانی ہے۔ کشمیر، سیاچن، پانی اور دیگر تنازعات کو بامقصد بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی پنجاب کے نائب اور بہار کے وزیر اعلیٰ کے حالیہ دوروں سے پاکستان اور بھارت کے مابین تجارتی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ پاکستانی اور بھارتی پنجاب کے مابین مشترکہ بزنس کونسل تشکیل دی گئی ہے جس سے دونوں صوبوں کے درمیان معاشی تعلقات میں خاطرخوا اضافہ ہو گا۔ ملک انتخابات میں تاخیر کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا، پاکستان تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے اور آئندہ انتخابات میں عوام اپنے نمائندے منتخب کرنے جا رہے ہیں۔ دیانتدار اور محب وطن قیادت ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال کر اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی۔ شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار ماڈل ٹاﺅن میں برطانوی ہائی کمیشن کے نمائندہ وفد سے ملاقات اور ترک نیوز ایجنسی کو انٹرویو کے دوران کیا۔ برطانوی وفد سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ان کا حالیہ دورہ برطانیہ انتہائی کامیاب رہا ۔ تعلیم اور ریسرچ کے علاوہ انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پرمفےد بات چیت ہوئی۔ پنجاب میں برطانوی ادارے ڈیفڈ کے تعاون سے تعلیمی پروگرام جاری ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان برطانیہ کےساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو توانائی سیکٹر میں بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ برطانوی سرمایہ کار پنجاب کے شعبہ توانائی میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جرمنی کی معروف سولر کمپنیاں پنجاب میں منصوبے شروع کرنے پر رضامند ہو چکی ہیں اور معاہدے بھی طے پا چکے ہیں۔ پنجاب حکومت مرکز پر انحصار کئے بغیر اپنے وسائل سے توانائی کے شعبے میں خودکفالت کے حصول کیلئے کوشاں ہے اور روایتی کے علاوہ متبادل ذرائع سے بھی توانائی کے حصول کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اس ضمن میں کوئلے سے توانائی پیدا کرنے کا جائزہ لینے کیلئے جرمن وفد اگلے ماہ لاہور آ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا اعلیٰ سطحی بھارتی وفود کے دوروں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کا نیا سفر شروع ہو رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں یہ سفر پائیدار معاشی تعلقات کو فروغ دینے کا سبب بنے کیونکہ واہگہ بارڈر کے ذریعے دونوں ملک اربوں ڈالر کی باہمی تجارت کر سکتے ہیں اور میں اسی سلسلے مےں اگلے ماہ بھارت کا دورہ بھی کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا جس طرح وزیراعلیٰ بہار نے کرپشن اور بیڈگورننس کے خاتمے کیلئے اصلاحات متعارف کرائیں، اسی طرح پنجاب حکومت نے بھی نقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ جس طرح بہار کا شمارپہلے بھارت کے کرپٹ ترین صوبوں میں ہوتا تھا، اسی طرح پنجاب بھی ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں کرپٹ ترین صوبہ بن چکا تھا۔ عالمی ادارے نے بھی پنجاب کو ایک بدعنوان صوبہ قرار دیا تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے صوبے سے کرپشن کا خاتمہ کیا، میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیا اور آج الحمداللہ معروف عالمی ادارے پنجاب کی گورننس اور میرٹ پر عملدرآمد کے معترف ہیں اور عالمی سروے میں بھی پنجاب کو سب سے شفاف صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے اور آئندہ انتخابات میں پارٹی امیدواربھرپور کامیابی حاصل کریں گے کیونکہ کرپشن، لوڈشیڈنگ، بیروزگاری اور بیڈگورننس کے باعث وفاقی حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ برطانوی وفد نے شہباز شریف کے کرپشن کے خاتمے، گڈگورننس اور میرٹ کے فروغ کیلئے صوبہ پنجاب میں کئے جانے والے اقدامات کو سراہا اور سماجی شعبوں میں بہتری کیلئے کی جانے والی اصلاحات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا برطانیہ پنجاب میں ادارہ جاتی اصلاحات اور دیگر ترقیاتی کاموں میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ ایک انٹرویو میں شہباز شریف نے کہا پاکستان اور ترکی محبت کے لازوال رشتوں میں بندھے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہم نے محض تقاریر اور کاغذی منصوبوںکی بجائے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مستحکم بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں اور آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب میں ترکی کے تعاون سے 5 سو ملین ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور اس تعاون پر ترک صدر عبداللہ گل ، وزیر اعظم طیب اردگان اور میئر استنبول قادر توپباش کا جس قدر بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے نے لاہور کو نئی شکل دی اور میٹروبس سسٹم کے اجرا سے نہ صرف عوام کو بہترین پبلک ٹرانسپورٹ مہیا ہو گی بلکہ ٹریفک کے مسائل سے نجات حاصل ہو گی۔